یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا سعید بن مسیب سے میں نماز پڑھ لیتا ہوں اپنے گھر میں پھر آتا ہوں مسجد میں سو پاتا ہوں امام کو نماز پڑھتا ہوا کیا پھر پڑھوں اس کے ساتھ نماز کہا سعید نے ہاں تو کہا اس شخص نے پھر کس نماز کو فرض سمجھوں کہا سعید نے تو فرض اور نفل کر سکتا ہے یہ کام اللہ جل جلالہ کا ہے ۔
ایک شخص سے جو بن اسد کے قبیلہ سے تھا روایت ہے کہ اس نے پوچھا ابوایوب انصاری سے تو کہا کہ میں نماز پڑھ لیتا ہوں گھر میں پھر آتا ہوں مسجد میں تو پاتا ہوں امام کو نماز پڑھتے ہوئے کیا نماز پڑھ لوں دوبارہ ساتھ امام کے کہا ابوایوب نے ہاں جو ایسا کرے گا اس کو ثواب جماعت کو ملے گا یا مثل جماعت کے یا اس کو لشکر اسلام کے ثواب کا ایک حصہ ملے گا یعنی غازی کا ثواب پائے گا اس کو مزدلفہ میں رہنے کا ثواب ملے گا یا اس کو دوہرا ثواب ملے گا ایک اکیلے نماز پڑھنے کا دوسرا جماعت سے نماز پڑھنے کا ۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز پڑھائے کوئی تم میں سے تو چاہیے کہ تخفیف کرے کیونکہ جماعت میں بیمار اور ضعیف اور بوڑھے بھی ہوتے ہیں اور جب اکیلے پڑھے تو جتنا چاہے طول کرے ۔
نافع سے روایت ہے کہ میں کھڑا ہوا نماز میں ساتھ عبداللہ بن عمر کے اور کوئی نہ تھا سوائے میرے تو پیچھے سے پکڑ کے عبداللہ نے مجھے اپنی داہنی طرف برابر کھڑا کیا ۔
انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے ایک گھوڑے پر پس گر پڑے اس پر سے تو چھل گیا داہنی جانب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پس نماز پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر اور نماز پڑھی ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھ کر پھر جب فارغ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے تو فرمایا کہ امام اس لئے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے اور جب امام کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو اور جب امام رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب امام سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب امام سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا لک الحمد کہو اور جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو ۔
حدیث 304 — موطأ مالك 8:18
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ شَاكٍ فَصَلَّى جَالِسًا وَصَلَّى وَرَاءَهُ قَوْمٌ قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا " .
حضرت ام المومنیں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نماز پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماری سے بیٹھ کر اور لوگوں نے کھڑے ہو کر پڑھنا شروع کیا تب اشارہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہ بیٹھ جاؤ پھر جب فارغ ہوئے نماز سے اور فرمایا امام اس لئے مقرر ہوا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے جب امام رکوع کرے تم بھی رکوع کرو اور جب سر اٹھائے تم بھی سر اٹھاؤ اور جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔
حدیث 305 — موطأ مالك 8:19
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ فِي مَرَضِهِ فَأَتَى فَوَجَدَ أَبَا بَكْرٍ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَاسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ كَمَا أَنْتَ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ جَالِسٌ وَكَانَ النَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ .
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے مرض موت میں سو آئے مسجد میں اور پایا ابوبکر کو نماز پڑھا رہے تھے کھڑے ہو کر تو پیچھے ہٹنا چاہا حضرت ابوبکر نے پس اشارہ کیا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جگہ پر رہو اور بیٹھ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر پہلو میں ابوبکر کے تو ابوبکر حضرت کی نماز کی پیروی کرتے تھے اور لوگ ابوبکر کی پیروی کر تے تھے ۔