حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي سَفَرِهِ إِلَى تَبُوكَ .
اعرج سے روایت ہے کہ رسول اللہ جمع کرتے تھے ظہر اور عصر کو سفر تبوک میں
حدیث 327 — موطأ مالك 9:2
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ، خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ تَبُوكَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ - قَالَ - فَأَخَّرَ الصَّلاَةَ يَوْمًا ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ دَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا ثُمَّ قَالَ " إِنَّكُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَيْنَ تَبُوكَ وَإِنَّكُمْ لَنْ تَأْتُوهَا حَتَّى يَضْحَى النَّهَارُ فَمَنْ جَاءَهَا فَلاَ يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا حَتَّى آتِيَ " . فَجِئْنَاهَا وَقَدْ سَبَقَنَا إِلَيْهَا رَجُلاَنِ وَالْعَيْنُ تَبِضُّ بِشَىْءٍ مِنْ مَاءٍ فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلْ مَسِسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَيْئًا " . فَقَالاَ نَعَمْ . فَسَبَّهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ لَهُمَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ غَرَفُوا بِأَيْدِيهِمْ مِنَ الْعَيْنِ قَلِيلاً قَلِيلاً حَتَّى اجْتَمَعَ فِي شَىْءٍ ثُمَّ غَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهِ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ أَعَادَهُ فِيهَا فَجَرَتِ الْعَيْنُ بِمَاءٍ كَثِيرٍ فَاسْتَقَى النَّاسُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يُوشِكُ يَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ أَنْ تَرَى هَا هُنَا قَدْ مُلِئَ جِنَانًا " .
معاذ بن جبل سے روایت ہے کہ صحابہ نکلے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوہ تبوک کے سال تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمع کرتے ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کو پس ایک دن تاخیر کی ظہر کی پھر نکل کر ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھا پھر داخل ہوئے ایک مقام میں پھر وہاں سے نکل کر مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ پڑھا پھر فرمایا کہ کل اگر اللہ چاہے تو تم پہنچ جاؤں گے تبوک کے چشمہ پر سو تم ہرگز نہ پہنچو گے یہاں تک کہ دن چڑھ جائے گا اگر تم میں سے کوئی اس چشمہ پر پہنچے تو اس کا پانی نہ چھوئے جب تک میں نہ آلوں پھر پہنچے ہم اس چشمہ پر اور ہم سے آگے دو شخص وہاں پہنچ چکے تھے اور چشمہ میں کچھ تھوڑا سا پانی چمک رہا تھا پس پوچھا ان دونوں شخصوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا چھوا تم نے اس کا پانی بولے ہاں سو خفا ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں پر سخت کہا ان کو اور جو منظور تھا اللہ کو وہ کہا ان سے پھر لوگوں نے چلووں سے تھوڑا تھوڑا پانی چشمہ سے نکال کر ایک برتن میں اکٹھا کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انے اپنے منہ اور ہاتھ دونوں اس میں دھو کر وہ پانی پھر اس چشمہ میں ڈال دیا پس چشمہ خوب بھر کر بہنے لگا سو پیا لوگوں نے پانی اور پلایا جانوروں کو بعد اس کے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریب ہے اے معاذ اگر زندگی تیری زیادہ ہو تو دیکھے گا تو یہ پانی بھر دے گا باغوں کو۔
حدیث 328 — موطأ مالك 9:3
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا عَجِلَ بِهِ السَّيْرُ يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب جلدی چلنا سفر میں منظور ہوتا تو جمع کر لیتے مغرب اور عشاء کو ۔
حدیث 329 — موطأ مالك 9:4
صحیح
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلاَ سَفَرٍ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ پڑھیں ہمارے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر ایک ساتھ اور مغرب اور عشاء ایک ساتھ بغیر خوف اور بغیر سفر کے امام مالک نے کہا میرے نزدیک شاید یہ واقعہ بارش کے وقت ہوگا ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ يَسِيرَ يَوْمَهُ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسِيرَ لَيْلَهُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ .
ابن شہاب نے پوچھا سالم بن عبداللہ بن عمر سے کیا سفر میں ظہر اور عصر جمع کی جائیں بولے کچھ حرج نہیں ہے کیا تم نے عرفات میں نہیں دیکھا ظہر اور عصر کو جمع کر تے ہیں ۔ امام زین العابدین سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دن کو چلنا چاہتے ظہر اور عصر کو جمع کر لیتے اور جب رات کو چلنا چاہتے مغرب اور عشاء کو جمع کر لیتے ۔
امیہ بن عبداللہ نے پوچھا عبداللہ بن عمر سے کہ ہم پاتے ہیں خوف کی نماز اور حضرت کی نماز کو قرآن میں اور نہیں پاتے ہیں ہم سفر کی نماز کو قرآن میں عبداللہ بن عمر نے جواب دیا کہ اے بھیتجے میرے اللہ جل جلالہ نے بھیجا ہمارے طرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت میں کہ ہم کچھ نہ جانتے تھے پس کرتے ہیں ہم جس طرح ہم نے دیکھا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے ۔
حدیث 334 — موطأ مالك 9:9
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ فُرِضَتِ الصَّلاَةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ فَأُقِرَّتْ صَلاَةُ السَّفَرِ وَزِيدَ فِي صَلاَةِ الْحَضَرِ .
حضرت ام المومنیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت ہے کہ کہا انہوں نے نماز دو دو رکعتیں فرض ہوئیں تھیں حضر میں اور سفر میں بعد اس کے سفر میں نماز اپنے حال پر رہی اور حضر کی نماز بڑھا دی گئی ۔
یحیی بن سعید نے کہا سالم بن عبداللہ سے کہ تم نے اپنے باپ کو کہاں تک دیر کرتے دیکھا مغرب کی نماز میں سفر میں سالم نے کہا آفتاب ڈوب گیا تھا اور ہم اس وقت ذات الجیش میں تھے پھر نماز پڑھی مغرب کی عقیق میں ۔