حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے والے جو کچھ بھی کہتے ہیں ، اس کا وبال پہل کرنے والے پر ہے جب تک مظلوم حد سے تجاوز نہ کرے ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " صدقے نے مال میں کبھی کوئی کمی نہیں کی اور معاف کرنے سے اللہ تعالیٰ بندے کو عزت ہی میں بڑھاتا ہے اور کوئی شخص ( صرف اور صرف ) اللہ کی خاطر تواضع ( انکسار ) اختیار نہیں کرتا مگر اللہ تعالیٰ اس کا مقام بلند کر دیتا ہے ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ " انہوں ( صحابہ ) نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول خوب جاننے والے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " اپنے بھائی کا اس طرح تذکرہ کرنا جو اسے ناپسند ہو ۔ " عرض کی گئی : آپ یہ دیکھئے کہ اگر میرے بھائی میں وہ بات واقعی موجود ہو جو میں کہتا ہوں ( تو؟ ) آپ نے فرمایا : " جو کچھ تم کہتے ہو ، اگر اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی ، اگر اس میں وہ ( عیب ) موجود نہیں تو تم نے اس پر بہتان لگایا ہے ۔
رَوح ( بن قاسم ) نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ دنیا میں جس شخص کی پردہ پوشی کرتا ہے ، قیامت کے دن بھی اس کا پردہ رکھے گا ۔
حدیث 6595 — صحيح مسلم 45:93
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا إِلاَّ سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
وہیب نے کہا : ہمیں سہیل نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " دنیا میں کوئی بندہ کسی ( دوسرے ) بندے کا عیب نہیں چھپاتا مگر قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اس کے عیب چھپا لے گا ۔
سفیان بن عیینہ نے ابن منکدر سے روایت کی ، انہوں نے عروہ بن زبیر کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اجازت طلب کی ، آپ نے فرمایا : " اس کو اجازت دے دو ، یہ یقینا اپنے قبیلے کا بُرا فرد ہے ، یا فرمایا : قبیلے کا برا مرد ہے ۔ " جب وہ شخص اندر آیا تو آپ نے اس کے ساتھ نرمی سے گفتگو کی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! آپ نے اس کے بارے میں وہ فرمایا جو فرمایا تھا ، پھر آپ نے اس کے ساتھ نرمی سے بات کی؟ آپ نے فرمایا : " عائشہ! قیامت کے دن اللہ تعالیٰ رتبے کے اعتبار سے سب سے برا شخص وہ ہو گا جس سے لوگ اس کی بدزبانی سے بچنے کے لیے دور رہیں یا اس کو چھوڑ دیں ۔
معمر نے ابن منکدر سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی روایت بیان کی ، مگر انہوں نے کہا : " یہ قوم کا بدترین فرد ہے اور یہ گھرانے کا ( بدترین ) فرد ہے ۔
حدیث 6598 — صحيح مسلم 45:96
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ يُحْرَمِ الرِّفْقَ يُحْرَمِ الْخَيْرَ " .
منصور نے تمیم بن سلمہ سے ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ہلال سے ، انہوں نے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جس شخص کو نرم خوئی سے محروم کر دیا جائے ، وہ بھلائی سے محروم کر دیا جاتا ہے ۔
اعمش نے تمیم بن سلمہ سے ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ہلال عبسی سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " جو شخص نرم خوئی سے محروم کر دیا جائے وہ بھلائی سے محروم کر دیا جاتا ہے ۔