حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن تم سب حقداروں کے حقوق ان کو ادا کرو گے ، حتی کہ اس بکری کا بدلہ بھی جس کے سینگ توڑ دیے گئے ہوں گے ، سینگوں والی بکری سے پورا پورا لیا جائے گا ۔
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دے دیتا ہے اور جب اس کو پکڑ لیتا ہے تو پھر جانے نہیں دیتا ۔ " پھر آپ نے ( یہ آیت ) پڑھی : " اور جب وہ ظلم کرنے والی بستیوں کو اپنی گرفت میں لیتا ہے تو آپ کے رب کی گرفت ایسی ہی ہوتی ہے ( کہ کوئی بچ نہیں سکتا ۔ ) بےشک اس کی گرفت سخت دردناک ہے ۔
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہا : دو لڑکے آپس میں لڑ پڑے ، ایک لڑکا مہاجرین میں سے تھا اور دوسرا لڑکا انصار میں سے ۔ مہاجر نے پکار کر آواز دی : اے مہاجرین! اور انصاری نے پکار کر آواز دی : اے انصار! تو ( اچانک ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے آئے اور فرمایا : " یہ کیا زمانہ جاہلیت کی سی چیخ و پکار ہے؟ " انہوں نے عرض کی : نہیں ، اللہ کے رسول! بس یہ دو لڑکے آپس میں لڑ پڑے ہیں اور ایک نے دوسرے کی سرین پر ضرب لگائی ہے ، آپ نے فرمایا : " کوئی ( بڑی ) بات نہیں ، اور ہر انسان کو اپنے بھائی کی ، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ، مدد کرنی چاہئے ، اگر اس کا بھائی ظالم ہو تو اسے ( ظلم سے ) روکے ، یہی اس کی مدد ہے ، اور اگر مظلوم ہو تو اس کی مدد کرے ۔
سفیان بن عیینہ نے کہا : عمرو ( بن دینار ) نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم ایک غزوے ( غزوہ مریسیع ) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، وہاں ایک مہاجر نے ایک انصاری کی سرین پر ضرب لگائی ، انصاری نے کہا : اے انصار! ( آؤ ، مدد کرو ) اور مہاجر نے کہا : اے مہاجرو! ( آؤ ، مدد کرو ۔ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ کیا زمانہ جاہلیت کی طرح کی چیخ و پکار ہے؟ "" انہوں نے کہا : یا رسول اللہ! ایک مہاجر شخص نے ایک انصاری کی سرین پر مارا ہے ، آپ نے فرمایا : "" ( جب یہ اتنا چھوٹا سا معاملہ ہے تو جاہلی دور کی سی ) اس ( چیخ و پکار ) کو چھوڑو ۔ یہ ایک کریہہ اور بدبودار بات ہے ۔ "" عبداللہ بن اُبی نے یہ بات سنی تو کہنے لگا : ( اچھا! ) انہوں نے ( ایسا ) کیا ہے ، اللہ کی قسم! جب ہم مدینہ پہنچیں گے تو ہم میں سے عزت والا اسے ، جو ذلت والا ہے ، وہاں سے نکال باہر کرے گا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھے چھوڑئیے ، میں اس منافق کی گردن اڑاتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اسے رہنے دو ، کہیں لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کر رہے ہیں ۔
حدیث 6584 — صحيح مسلم 45:82
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ الْقَوَدَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ " . قَالَ ابْنُ مَنْصُورٍ فِي رِوَايَتِهِ عَمْرٌو قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا .
اسحٰق بن ابراہیم ، اسحٰق بن منصور اور محمد بن رافع نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ ابن رافع نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی جبکہ دوسرے دونوں نے کہا : خبر دی ۔ ۔ عبدالرزاق نے کہا : ہمیں معمر نے ایوب سے خبر دی ، انہوں نے عمرو بن دینار سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک مہاجر نے ایک انصاری کی سرین پر مارا ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے بدلہ دلوانے کی درخواست کی ، ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضروری کاروائی کے بعد ) لوگوں سے کہا : "" اس ( چیخ و پکار اور فساد انگیزی ) کو چھوڑ دو ، یہ ایک کریہہ اور بدبودار ( ھرکت ) ہے ۔ "" ابن منصور نے اپنی روایت میں عمرو سے روایت کرتے ہوئے صراحت کی کہ عمرو نے کہا : میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ۔
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے ایک عمارت کے مانند ہے ، جس کی ایک ( اینٹ ) دوسری ( اینٹ ) کو مضبوط کرتی ہے ۔
زکریا نے ہمیں شعبی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مسلمانوں کی ایک دوسرے سے محبت ، ایک دوسرے کے ساتھ رحم دلی اور ایک دوسرے کی طرف التفات و تعاون کی مثال ایک جسم کی طرح ہے ، جب اس کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو باقی سارا جسم بیداری اور بخار کے ذریعے سے ( سب اعضاء کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر ) اس کا ساتھ دیتا ہے ۔
حدیث 6587 — صحيح مسلم 45:85
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ، بَشِيرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِهِ .
مطرف نے شعبی سے ، انہوں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی ( گزشتہ حدیث ) کی طرح روایت کی ۔
وکیع نے اعمش سے ، انہوں نے شعبی سے ، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مسلمان ( باہم ) ایک ہی انسان کی طرح ہیں ، اگر اس کے سر میں تکلیف ہو تو بخار اور بے خوابی کے ذریعے سے باقی سارا جسم اس کا ساتھ دیتا ہے ۔
خیثمہ ( بن عبدالرحمٰن ) نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مسلمان ( باہم ) ایک انسان کی طرح ہیں ، اگر اس کی آنکھ میں تکلیف ہو تو سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے اور اگر سر میں تکلیف ہو تو اس کے سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے ۔