ابوزبیر نے کہا : ہمیں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک انصاری خاتون ) حضرت ام سائب یا حضرت ام مسیب رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے ، آپ نے فرمایا : " ام سائب یا ( فرمایا : ) ام مسیب! تہیں کیا ہوا؟ کیا تم شدت سے کانپ رہی ہو؟ " انہوں نے کہا : بخار ہے ، اللہ تعالیٰ اس میں برکت نہ دے! آپ نے فرمایا : " بخار کو برا نہ کہو ، کیونکہ یہ آدم کی اولاد کے گناہوں کو اس طرح دور کرتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو دور کرتی ہے ۔
عطاء بن ابی رباح نے حدیث بیان کی ، کہا : ایک دن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا : کیا میں تمہیں اہل جنت میں سے ایک عورت نہ دکھاؤں؟ میں نے کہا : کیوں نہیں! انہوں نے کہا : یہ سیاہ فام عورت ہے ، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی : اللہ کے رسول! مجھ پر مرگی کا دورہ پڑتا ہے جس سے ( کبھی ) میرا لباس کھل جاتا ہے ۔ آپ میرے لیے اللہ سے دعا کیجئے ۔ آپ نے فرمایا : " اگر تم چاہو تو اس پر صبر کرو اور تمہارے لیے جنت ہے اور اگر تم چاہو تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تم کو صحت عطا فرمائے ۔ " اس عورت نے کہا : میں صبر کروں گی ، اس نے کہا : میرا لباس کھل جاتا ہے ، آپ اللہ سے یہ دعا فرما دیں کہ میرا لباس نہ کھلے ، تو آپ نے اس کے لیے دعا فرمائی ۔
مروان بن محمد دمشقی نے کہا؛ ہمیں سعید بن عبدالعزیز نے ربیعہ بن یزید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابو ادریس خولانی سے ، انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسی روایت بیان کی جو آپ نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے بیان کی ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : "" میرے بندو! میں نے ظلم کرنا اپنے اوپر حرام کیا ہے اور تمہارے درمیان بھی اسے حرام قرار دیا ہے ، اس لیے تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو ۔ میرے بندو! تم سب کے سب گمراہ ہو ، سوائے اس کے جسے میں ہدایت دے دوں ، اس لیے مجھ سے ہدایت مانگو ، میں تمہیں ہدایت دوں گا ۔ میرے بندو! تم سب کے سب بھوکے ہو ، سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں ، اس لیے مجھ سے کھانا مانگو ، میں تمہیں کھلاؤں گا ۔ میرے بندو! تم سب کے سب ننگے ہو ، سوائے اس کے جسے میں لباس پہناؤں ، لہذا مجھ سے لباس مانگو میں تمہیں لباس پہناؤں گا ۔ میرے بندو! تم دن رات گناہ کرتے ہو اور میں ہی سب کے سب گناہ معاف کرتا ہوں ، سو مجھ سے مغفرت مانگو میں تمہارے گناہ معاف کروں گا ۔ میرے بندو! تم کبھی مجھے نقصان پہنچانے کی طاقت نہیں رکھو گے کہ مجھے نقصان پہنچا سکو ، نہ کبھی مجھے فائدہ پہنچانے کے قابل ہو گے کہ مجھے فائدہ پہنچا سکو ۔ میرے بندو! اگر تمہارے پہلے والے اور تمہارے بعد والے اور تمہارے انسان اور تمہارے جن سب مل کر تم میں سے ایک انتہائی متقی انسان کے دل کے مطابق ہو جائیں تو اس سے میری بادشاہت میں کوئی اضافہ نہیں ہو سکتا ۔ میرے بندو! اگر تمہارے پہلے والے اور تمہارے بعد والے اور تمہارے انسان اور تمہارے جن سب مل کر تم میں سے سب سے فاجر آدمی کے دل کے مطابق ہو جائیں تو اس سے میری بادشاہت میں کوئی کمی نہیں ہو گی ۔ میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور تمہارے پچھلے اور تمہارے انسان اور تمہارے جن سب مل کر ایک کھلے میدان میں کھڑے ہو جائیں اور مجھ سے مانگیں اور میں ہر ایک کو اس کی مانگی ہوئی چیز عطا کر دوں تو اس سے جو میرے پاس ہے ، اس میں اتنا بھی کم نہیں ہو گا جو اس سوئی سے ( کم ہو گا ) جو سمندر میں ڈالی ( اور نکال لی ) جائے ۔ "" سعید نے کہا : ابوادریس خولانی جب یہ حدیث بیان کرتے تو اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتے ۔
ابوبکر بن اسحٰق نے کہا : ہمیں ابومسہر نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں سعید بن عبدالعزیز نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، البتہ مروان کی حدیث زیادہ مکمل ہے ۔
ابواسحٰق نے کہا : ہمیں یہ حدیث بشر کے دو بیٹوں حسن اور حسین نے اور محمد بن یحییٰ نے بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ابومسہر نے حدیث بیان کی ، پھر پوری طویل حدیث بیان کی ۔
ابواسماء نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے اپنے اوپر اور اپنے بندوں پر ظلم کو حرام کر دیا ہے ، لہذا ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو ۔ " اور ( اس کے بعد ) اسی ( سابقہ حدیث کی ) طرح حدیث بیان کی اور ابوادریس ( خولانی ) کی حدیث جو ہم نے ( پہلے ) بیان کی ہے اس سے زیادہ مکمل ہے ۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ظلم سے بچو ، کیونکہ ظلم قیامت کے دن ( دلوں پر چھانے والی ) ظلمتیں ہوں گی ۔ بخل اور ہوس سے بچو ، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو بخل و ہوس نے ہلاک کر دیا ، اسی نے ان کو اکسایا تو انہوں نے اپنے ( ایک دوسرے کے ) خون بہائے اور اپنی حرمت والی چیزوں کو حلال کر لیا ۔
حدیث 6577 — صحيح مسلم 45:75
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
عبداللہ بن دینار نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ظلم قیامت کے دن کئی ظلمتیں ( تاریکیاں ) ہوں گی ۔
سالم نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ، نہ اس پر ظلم کرتا ہے ، نہ اسے ( ظالموں کے ) سپرد کرتا ہے ۔ جو شخص اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی فرماتا ہے ۔ جو کسی مسلمان سے اس کی ایک تکلیف دور کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کی تکلیفوں میں سے ایک تکلیف دور کرتا ہے ۔ جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس ( کے عیبوں ) کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟ " صحابہ نے کہا؛ ہمارے نزدیک مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس نہ درہم ہو ، نہ کوئی سازوسامان ۔ آپ نے فرمایا : " میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز ، روزہ اور زکاۃ لے کر آئے گا اور اس طرح آئے گا کہ ( دنیا میں ) اس کو گالی دی ہو گی ، اس پر بہتان لگایا ہو گا ، اس کا مال کھایا ہو گا ، اس کا خون بہایا ہو گا اور اس کو مارا ہو گا ، تو اس کی نیکیوں میں سے اس کو بھی دیا جائے گا اور اس کو بھی دیا جائے گا اور اگر اس پر جو ذمہ ہے اس کی ادائیگی سے پہلے اس کی ساری نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہوں کو لے کر اس پر ڈالا جائے گا ، پھر اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا ۔