ہشام نے ہمیں حدیث بیان کی : ہمیں قتادہ نے سالم بن ابی جعد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن خطبہ دیا ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا ، پھر کہا : میں اپنے بعد کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑ رہا جو میرے ہاں کلالہ سے زیادہ اہم ہو ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں اتنی مراجعت نہیں کی جتنی کلالہ کے بارے میں کی ، اور آپ نے بھی مجھ سے کسی چیز کے بارے میں اتنی شدت اختیار نہیں فرمائی جتنی کلالہ کے بارے میں فرمائی حتی کہ آپ نے اپنی انگلی میرے سینے میں چبھوئی اور فرمایا : " اے عمر! تمہیں موسم گرما ( میں نازل ہونے ) والی آیت کافی نہیں جو سورہ نساء کے آخر میں ہے؟ ( جس سے مسئلہ واضح ہو گیا ہے ) " اور میں ( عمر ) اگر زندہ رہا تو اس کے بارے میں ایسا واضح فیصلہ کروں گا جس ( کو دیکھتے ہوئے ) ایسا شخص ( بھی ) فیصلہ کر سکے گا جو قرآن پڑھتا ( اور سمجھتا ) ہے اور وہ بھی جو قرآن نہیں پڑھتا ۔
ابن ابی خالد نے ابواسحاق سے اور انہوں نے حضرت براء ( بن عازب ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : قرآن کی آخری آیت جو نازل ہوئی ( یہ تھی ) ( يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّـهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ ۚ ) " وہ آپ سے فتویٰ مانگتے ہیں ، کہہ دیجئے : اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے
شعبہ نے ہمیں ابواسحاق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : آخری آیت جو نازل کی گئی ، آیت کلالہ ہے اور آخری سورت جو نازل کی گئی ، سورہ براءت ہے ۔ ( سورہ توبہ کا دوسرا نام ، سورت براءت ہے)
زکریا نے ہمیں ابواسحاق کے واسطے سے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ آخری سورت جو پوری نازل کی گئی ، سورہ توبہ ہے اور آخری آیت جو نازل کی گئی ، آیت کلالہ ہے
عمار بن رزیق نے ہمیں ابواسحاق کے حوالے سے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے اسی کے مانند حدیث بیان کی مگر انہوں نے کہا : آخری سورت جو مکمل نازل کی گئی ۔ ( تامة کے بجائے كاملة کے الفاظ ہیں)
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی ( ایسے ) شخص کی میت لائی جاتی جس پر قرض ہوتا تو آپ پوچھتے
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! روئے زمین پر کوئی مومن نہیں مگر میں سب لوگوں کی نسبت اس کے زیادہ قریب ہوں ، تم میں سے جس نے بھی جو قرض یا اولاد چھوڑی ( جس کے ضائع ہونے کا ڈر ہے ) تو میں اس کا ذمہ دار ہوں اور جس نے مال چھوڑا وہ عصبہ ( قرابت دار جو کسی طرح بھی وارث بن سکتا ہو اس ) کا ہے ، وہ جو بھی ہو