حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِالْمُؤْمِنِينَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَيُّكُمْ مَا تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَادْعُونِي فَأَنَا وَلِيُّهُ وَأَيُّكُمْ مَا تَرَكَ مَالاً فَلْيُؤْثَرْ بِمَالِهِ عَصَبَتُهُ مَنْ كَانَ " .
ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : یہ وہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، پھر انہوں نے چند احادیث بیان کیں ، ان میں سے یہ بھی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ عزوجل کی کتاب کی رو سے میں مومنوں کے ، ( ان کی اپنی ذات سمیت ) سب لوگوں کی نسبت زیادہ قریب ہوں ، تم میں سے جو قرض یا اولاد چھوڑ جائے تو مجھے بلانا میں اس کا ولی ہوں اور جو مال چھوڑ جائے تو اس کے مال کے معاملے میں ( ذوی الفروض کے حصے دینے کے بعد ) اس کے عصبہ ( قریب ترین مرد رشتہ دار ) کو ترجیح دی جائے ، وہ جو بھی ہو
حدیث 4161 — صحيح مسلم 23:22
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " مَنْ تَرَكَ مَالاً فَلِلْوَرَثَةِ وَمَنْ تَرَكَ كَلاًّ فَإِلَيْنَا " .
معاذ عنبری نے ہمیں حدیث بیان کی : ہمیں شعبہ نے عدی سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے ابوحازم سے سنا ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جس نے مال چھوڑا وہ اس کے ورثاء کا ہے اور جس نے بوجھ ( بے سہارا اولاد ہو یا قرض ) چھوڑا وہ ہمارے ذمہ ہے
(محمد بن جعفر ) غندر اور عبدالرحمان بن مہدی نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، مگر غندر کی حدیث میں ہے : " جس نے بوجھ چھوڑا اس کی ذمہ داری میں نے لے لی