یحییٰ بن جزار نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے غزوہ احزاب کے موقع پر جب آپ خندق کی گزر گاہوں میں سے کسی گزر گا ہ پر تشریف فرما تھے ، فرمایا : انھوں نے ہمیں درمیانی نما ( عصر ) سے مشغول کر دیا حتی کہ سورج ڈوب گیا ، اللہ تعالیٰ ان کی قبروں اور گھروں کو یا فرمایا : ان کی قبروں او ر پیٹوں کو آگ سے بھر دے ۔ ‘ ‘
شتیر بن شکل نےحضرت علی رضی اللہ عنہ سےروایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نےاحزاب کے دن فرمایا : ’’انھوں نے ہمیں درمیانی نماز ( یعنی ) عصر کی نماز سے مشغول رکھا ، اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے اسے رات کے دونوں نمازوں مغرب اور عشاء کے درمیان پڑھا ۔ ( مغرب کا وقت جارہا تھا اس لیے آخری وقت میں پہلے مغرب پڑھی ، پھر عصر کی قضا پڑھی ، پھر عشاء پڑھی ۔)
حدیث 1426 — صحيح مسلم 5:260
وَحَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلاَّمٍ الْكُوفِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ الْيَامِيُّ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَبَسَ الْمُشْرِكُونَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَلاَةِ الْعَصْرِ حَتَّى احْمَرَّتِ الشَّمْسُ أَوِ اصْفَرَّتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " شَغَلُونَا عَنِ الصَّلاَةِ الْوُسْطَى صَلاَةِ الْعَصْرِ مَلأَ اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا " . أَوْ قَالَ " حَشَا اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا " .
حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : مشرکوں نے ( جنگ میں مشغول رکھ کر ) رسو ل اللہ ﷺ کو عصر کی نمازسے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج سرخ یا زرد ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’انھوں نےہمیں درمیانی نماز ، عصر کی نماز سے مشغول رکھا ، اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں اور قبروں میں آگ بھر دے ۔ ‘ ‘ یا فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں اور قبروں کو آگ سے بھر دے ۔ ‘ ‘ ( ملأ کی جگہ حشا کا لظف ارشاد فرمایا ، مفہوم دونوں کا ایک ہی ہے ۔ ) فائدہ : نبی کریم ﷺ کی نظرمیں نماز عصرکی اہمیت کس قدر تھی ، ان احادیث سے اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ نیز یہ کہ آپ ﷺ نے طائف میں سنگ باری برداشت کی لیکن بد دعا نہ دی ، احد میں جسم مبارک زخمی ہوا ، دندان مبارک شہید ہوئے ، ستر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے جام شہادت نوش کیا جن میں آپ کے چچا سید الشہداء سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ بھی تھے لیکن بد دعا نہ دی ۔ جنگ خندق میں ناز عصرفوت ہو گئی تو کافروں کو بد دعا دی ۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ نفع و نقصان کا یہی معیار پیش نظر رکھے ۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو یونس سے روایت ہے ، کہا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھے حکم دیا کہ ان کے لیے قرآن مجید لکھوں فرمایا : جب تم اس آیت پر پہنچوں ( حفظو علی الصلوت والصلوۃ الوسطی ) تو مجھے بتانا چنانچہ جب میں آیت پر پہنچا تو انھیں آگاہ کیا ، انھوں نے مجھے لکھوایا : حافظ علی الصلوت والصلاۃ الوسطی وصلاۃ العصر ، قوموا اللہ قانتین ’’ نمازوں کی حفاظت کرو اور ( خاص کر ) درمیانی نماز کی ، یعنی نماز عصر کی اور اللہ کے حضور عاجزانہ قیام کرو ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے فرمایا : میں نے اسے رسول اللہ ﷺ سےایسے ہی سنا ۔
حدیث 1428 — صحيح مسلم #1428
فضیل بن مرزوق نے شقیق بن عقبہ سے اور انھوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ یہ آیت ( اس طرح ) حافظ علی الصلوٰت وصلاۃ العصر ) ) نازل ہوئی ، جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا ہم نے اسے پڑھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے اسےمنسوخ کر دیا اور آیت اس طرح اتری : ( حفظوا علی الصلوٰت والصلوٰۃ الوسطیٰ ) ’’نمازوں کی نگہداشت کرو اور ( خصوصا ) درمیان کی نماز کی ‘ ‘ اس پر ایک آدمی نے ‘ جو شقیق کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، ان سے کہا : تو پھر اس سے مراد عصر کی نماز ہوئی ؟ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمھیں بتا چکا ہوں کہ یہ آیت کیسے اتری اور اللہ تعالیٰ نے کیسے اسے منسوخ کیا ، ( اصل حقیقت ) اللہ ہی بہتر جانتا ہے
حدیث 1429 — صحيح مسلم #1429
اسود بن قیس نے شقیق بن عبہ سے ، انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم یہ آیت ایک عرصے تک نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ( اسی طرح ) پڑھتے رہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( آگے ) فضیل بن مرزوق کی ( سابقہ ) حدیث کی مانند ہے ۔
حدیث 1430 — صحيح مسلم 5:263
وَحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ، - قَالَ أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، - حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَوْمَ الْخَنْدَقِ جَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ وَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا كِدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ الْعَصْرَ حَتَّى كَادَتْ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَوَاللَّهِ إِنْ صَلَّيْتُهَا " . فَنَزَلْنَا إِلَى بُطْحَانَ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتَوَضَّأْنَا فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ .
معاذ بن ہشام نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں میرے والد نے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : ہمیں ابو سلمہ بن عبدالرحمن نےحضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہوئے حدیث بیان کی کہ خندق کے روز حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے اور عرض کی : اے اللہ کےرسول ! اللہ کی قسم ! میں عصر کی نماز نہیں پڑھ سکا تھا یہاں تک کہ سورج غروب ہونے کو آگیا ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ کی قسم ! میں نے ( بھی ) نہیں پڑھی ۔ ‘ ‘ پھر ہم ( وادی ) بطحان میں اترے ، رسول اللہ ﷺ نے وضول کیا اور ہم نے بھی وضو کیا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے سورج کے غروب ہو جانے کے بعد عصرکی نماز پڑھی ، پھر اس کے بعد مغرب کی نماز ادا کی ۔
ابو زناد نے اعراج سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے ایک دوسرے کے پیچھے تمھارے درمیان آتے ہیں اور فجر کی نماز اور عصری نماز کے وقت وہ اکٹھے ہو جاتے ہیں ، پھر جنھوں نے تمھارے درمیان رات گزاری ہوتی ہے وہ اوپر چلے جاتےہیں ، ان سے ان کا رب پوچھتا ہے ، حالانکہ وہ ان سے زیادہ جانتا ہے : تم میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑ کر آئے ہو ؟ وہ جواب دیتےہیں : ہم انھیں ( اس حالت میں ) چھوڑ کر آئے ہیں کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور ہم ان کے پاس ( کل عصر کے وقت ) اس حالت میں پہنچے تھے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے
حدیث 1433 — صحيح مسلم 5:266
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَالْمَلاَئِكَةُ يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ " . بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ .
ہمام بن منبہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرمﷺ سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’فرشتے ایک دوسرے کے پیچھے تمھار ے پاس آتے ہیں ۔ ‘ ‘ ( اس حدیث میں ملائکہ کا لفظ یتعاقبون سے پہلے ہے ۔ ) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( باقی روایت ) ابو زناد کی روایت کے مانند ہے