زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں مروان بن معاویہ فزاری نے حدیث سنائی ، انھوں کہا : ہمیں اسماعیل بن ابی خالد نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں قیس بن ابی حازم نے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہے رہے تھے : ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے چودھویں رات کے چاند کی طرف نظر کی اور فرمایا : ’’سنو! تم لوگ اپنے رب کو اس طرح دیکھوں گے ، جس طرح اس پورے چاند کو دیکھ رہےہو ، اس کے دیکھنے میں تم بھیٹر نہ لگا ؤ گے ، اگر تم یہ کر سکو کہ سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج غروب ہونے سے پہلے کی نماز میں ( مصروفیت ، سستی وغیرہ سے ) مغلوب نہ ہو ( تو تمہیں یہ نعمت عظمیٰ مل جائے گئی ۔ ) ‘ ‘ آپ کی مراد عصر اور فجر کی نماز سے تھی ، پھر جرییر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی ( وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل غروبہا ) اور اپنے رب کی حمد کی تسبیح بیان کرو ، سورج کے نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے ۔ ‘ ‘
ابو بکر بن ابی شیبہ نےعبداللہ بن نمیر ، ابو اسامہ اور وکیع سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی ، اس میں ہے : سنو ! تم لوگ یقینا اپنے رب کے سامنے پیش کیے جاؤ گے اور اس کو اسی طرح دیکھوں گے ، جس طرح اس پور ے چا ند کو دیکھتے ہو ۔ ‘ ‘ پھر روای نے ( ثم قراء جریر کے بجائے ) ثم قراء ( پھر انھوں پڑھا ) کہا اور جریر رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیا ۔
حدیث 1436 — صحيح مسلم 5:269
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، - قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، - عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، وَمِسْعَرٍ، وَالْبَخْتَرِيِّ بْنِ الْمُخْتَارِ، سَمِعُوهُ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لَنْ يَلِجَ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا " . يَعْنِي الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ . فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ . قَالَ الرَّجُلُ وَأَنَا أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَمِعَتْهُ أُذُنَاىَ وَوَعَاهُ قَلْبِي .
(اسماعیل ) ابن ابی خالد ، مسعر اور بختری بن مختار نےیہ روایت ابو بکر بن عمارہ بن رویبہ سے سنی ، انھوں نے اپنے والد ( حضرت عمارہ بن رویبہ ثقفی رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کویہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ وہ شخص ہرگز آگ میں داخل نہیں ہو گا جو سورج نکلنے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھتا ہے ۔ ‘ ‘ یعنی فجر اور عصر کی نمازیں ۔ اس پر بصرہ کے ایک آدمی نے ان سے کہا : کیا آپ نے یہ روایت رسول للہ ﷺ سے سنی تھی ؟ انھوں نے کہا : ہا ں ۔ اس آدمی نے کہا : میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے بھی یہ روایت رسول اللہ ﷺ سے سنی ۔ میرے دونوں کانوں نے اسے سنا اور میرے دل نے اسے یاد رکھا ۔
حدیث 1437 — صحيح مسلم 5:270
وَحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَلِجُ النَّارَ مَنْ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا " . وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ فَقَالَ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ أَشْهَدُ بِهِ عَلَيْهِ . قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ لَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُهُ بِالْمَكَانِ الَّذِي سَمِعْتَهُ مِنْهُ .
عبدالملک بن عمیر نے حضرت عمارۃ بن رویبہ کے بیٹے سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جو انسان سورج نکلنے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھتا ہے وہ آگ میں داخل نہیں ہو گا ۔ ‘ ‘ اور ان کے پاس بصرہ کا ایک باشندہ بھی موجود تھا ، اس نے پوچھا : کیا آپ نے یہ حدیث براہ راست نبی اکرم ﷺ سے سنی ؟ تو انھوں نے کہا : ہاں ، اور میں اس کی شہادت دیتا ہوں ۔ اس آدمی نے کہا : اور میں بھی شہادت دیتا ہوں کہ میں نے اسی جگہ ان کو یہ فرماتے ہوئے سنا جہاں آپ نے ان سے سنا تھا ۔
حدیث 1438 — صحيح مسلم 5:271
وَحَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
ہدّاب بن خالد ازدی نے کہا : ہمیں ہمام بن یحییٰ نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے ابو جمرہ ضبعی نے ابوبکر ( بن ابی موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) سے حدیث سنائی اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے دو ٹھنڈے وقتوں کی نمازیں ادا کیں ، وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘ ( دن کا ٹھنڈا وقت عصر کا اور رات کا سب سے ٹھنڈا وقت فجر کا ہوتا ہے ۔)
بشر بن سریّ اور عمر و بن عاصم دونوں نے کہا : ہم سے ہمام نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انھوں نے ابوبکر کا نسب بیان کیا اور کہا : ابن ابی موسیٰ
حدیث 1440 — صحيح مسلم 5:273
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَتَوَارَتْ بِالْحِجَابِ .
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ مغرب کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج غروب ہوتا اور پردے کی اوٹ میں چلا جاتا
حدیث 1441 — صحيح مسلم 5:274
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، يَقُولُ كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِ .
ولید بن مسلم نے کہا : ہم سے اوزاعی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم سے ابو نجاشی نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تو ہم میں سے کوئی شخص لوٹتا اور وہ اپنے تیر کے گرنے کی جگہیں دیکھ سکتا تھا ۔
شعیب بن اسحاق دمشقی نے اوزاعی سے سابقہ سند کےساتھ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سےحدیث بیان کی ، کہا : ہم مغرب کی نماز ادا کر تے ۔ ۔ ۔ ( آگے ) پچھلی حدیث کی طرح ہے ۔
حدیث 1443 — صحيح مسلم 5:276
وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي بِصَلاَةِ الْعِشَاءِ وَهِيَ الَّتِي تُدْعَى الْعَتَمَةَ فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لأَهْلِ الْمَسْجِدِ حِينَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ " مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ غَيْرُكُمْ " . وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الإِسْلاَمُ فِي النَّاسِ . زَادَ حَرْمَلَةُ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَذُكِرَ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تَنْزُرُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الصَّلاَةِ " . وَذَاكَ حِينَ صَاحَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ .
عمرو بن سوّاد عامری اور حرملہ بن یحییٰ دونوں نے کہا : ہمیں ابن وہب نے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے یونس نےخبر دی کہ انھیں ابن شہاب نے خبر دی ، کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ نبی اکرم ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ایک رات رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز خوب اندھیرا ہونے تک مؤخر فرمائی اور اسی نماز کو عتمہ ( گہری تاریکی کے وقت کی نماز ) کہا جاتا تھا ۔ رسول اللہﷺ ( اس وقت تک ) گھر سے نہ نکلے یہاں تک کہ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا : ( مسجد میں آنے والی ) عورتیں اور بچے سو گئے ہیں ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور نکل کر مسجد کے حاضرین سے فرمایا : ’’اہل زمین میں سے تمھارے سوا اس نماز کا اور کوئی بھی انتظار نہیں کررہا ‘ ‘ اور یہ لوگوں میں ( مدینہ سے باہر ) اسلام پھیلنے سے پہلے کی بات ہے ۔ حرملہ نے اپنی روایت میں اضافہ کیا کہ ابن شہاب نے کہا : مجھے بتایا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’تمھارے لیے مناسب نہ تھا کہ تم اللہ کے رسول ﷺ سے نماز کے لیے اصرار کرتے ۔ ‘ ‘ یہ تب ہوا جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے پکارا ۔ ( انھوں نے غالباً یہ سمجھا کہ آپ ﷺ بھول گئے ہیں یا سو گئے ہیں)