عامر بن عبداللہ بن زبیر نے عمرو بن سلیم زرقی سے اور انھوں نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہوتو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھے ۔
حدیث 1655 — صحيح مسلم 6:85
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمِ بْنِ خَلْدَةَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانَىِ النَّاسِ - قَالَ - فَجَلَسْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مَنَعَكَ أَنْ تَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تَجْلِسَ " . قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُكَ جَالِسًا وَالنَّاسُ جُلُوسٌ . قَالَ " فَإِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلاَ يَجْلِسْ حَتَّى يَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ " .
محمد بن یحییٰ بن حبان نے عمرو بن سلیم بن خلدہ انصاری سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی ، کہا : میں مسجد میں داخل ہوا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے کہا : تو میں بھی بیٹھ گیا ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمھیں بیٹھنے سے پہلے دو رکعات نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا ہے؟ " میں نے عرض کی : اےا للہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے آپ کو بیٹھتے دیکھا ہے اور لوگ بھی بیٹھے تھے ( اس لئے میں بھی بیٹھ گیا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں آئے تو دو رکعت نماز پڑھےبغير نہ بیٹھے ۔
سفیان بن محارب بن وثار سے اور انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میرا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے قرض تھا ، آپ نے اسے ادا کیا اور مجھے زائد رقم دی اور جب میں آپ کی مسجد میں داخل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " دو رکعت نماز ادا کرلو ۔
حدیث 1657 — صحيح مسلم 6:87
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَارِبٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ اشْتَرَى مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعِيرًا فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ أَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْمَسْجِدَ فَأُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ .
شعبہ نے محارب سے روایت کی ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک اونٹ خریدا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں مسجد میں آؤں ، اور دو رکعتیں پڑھوں ۔
حدیث 1658 — صحيح مسلم 6:88
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - يَعْنِي الثَّقَفِيَّ - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزَاةٍ فَأَبْطَأَ بِي جَمَلِي وَأَعْيَى ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبْلِي وَقَدِمْتُ بِالْغَدَاةِ فَجِئْتُ الْمَسْجِدَ فَوَجَدْتُهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ قَالَ " الآنَ حِينَ قَدِمْتَ " . قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ " فَدَعْ جَمَلَكَ وَادْخُلْ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ " . قَالَ فَدَخَلْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ .
وہب بن کیسان نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں ایک غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا ، میرے اونٹ نے مجھے دیر کرادی اور تھک گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے پہلے مدینہ میں آگئے اور میں اگلے دن پہنچا ، میں مسجد میں آیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد کے دروازے پر پایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " تم اب اس وقت تک پہنچے ہو؟ " میں نے کہا : جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اپنا اونٹ چھوڑ دو اور مسجد میں داخل ہوکر دو رکعتیں پڑھو ۔ " میں مسجد میں داخل ہوا ، نماز پڑھی ، پر واپس ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ) آیا ۔
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن میں چاشت کے وقت کے سوا ( کسی اور وقت ) سفر سے واپس تشریف نہ لاتے ، پھر جب تشریف لاتے تو مسجد جاتے ، اس میں دو رکعتیں ادا کرتے ، پھر ( کچھ دیر ) وہیں تشریف رکھتے ( تاکہ گھر والوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا علم ہوجائے ) ۔
حدیث 1660 — صحيح مسلم 6:90
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الضُّحَى قَالَتْ لاَ إِلاَّ أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ .
سعید جزیری نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ، انھوں نےکہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا : کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟انھوں نے کہا : نہیں ، الا یہ کہ باہر ( سفر ) سے واپس آئے ہوں ۔
حدیث 1661 — صحيح مسلم 6:91
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَيْسِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الضُّحَى قَالَتْ لاَ إِلاَّ أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ
کیمس بن حسن قیسی نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا : کیانبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا : نہیں الا یہ کہ سفر سے واپس آئے ہوں ۔
حدیث 1662 — صحيح مسلم 6:92
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ . وَإِنِّي لأُسَبِّحُهَا وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں نے کبھی ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( گھر میں قیام کے دوران میں ) چاشت کے نفل پڑھتے نہیں دیکھا ، جبکہ میں چاشت کی نماز پڑھتی ہوں ۔ یہ بات یقینی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام کو کرنا پسند فرماتے تھے ۔ لیکن اس ڈر سے کہ لوگ ( بھی آپ کو دیکھ کر ) وہ کام کریں گےاور ( ان کی د لچسپی کی بناء پر ) وہ کام ان پر فرض کردیا جائے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کام کو چھوڑ دیتے تھے ۔
حدیث 1663 — صحيح مسلم 6:93
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي الرِّشْكَ - حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - كَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي صَلاَةَ الضُّحَى قَالَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَيَزِيدُ مَا شَاءَ .
عبدالوارث نے کہا : ہمیں یزید رشک نے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا ، مجھے معاذہ نے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز کتنی ( رکعتیں ) پڑھتے تھے؟انھوں نے جواب دیا چار رکعتیں اور جس قدر زیادہ پڑھنا چاہتے ( پڑھ لیتے ) ۔