قرآني·Qurani
اردو

الفضائل

5785 احادیث · #384–6168

حدیث 1664 — صحيح مسلم 6:94
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ وَقَالَ يَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ ‏.‏
شعبہ نے یزید سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی اور یزید نے ( ماشاء کے بجائے ) ماشاء اللہ ( جتنی اللہ چاہتا ) کہا ۔
حدیث 1665 — صحيح مسلم 6:95
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةَ، حَدَّثَتْهُمْ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الضُّحَى أَرْبَعًا وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ ‏.‏
سعید نے کہا : قتادہ نے ہمیں حدیث بیان کی کہ معاذہ عدویہ نے ان ( حدیث سننے والوں ) کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز چار رکعتیں پڑھتے تھے ۔ اور اللہ تعالیٰ جس قدر چاہتا زیادہ ( بھی ) پڑھ لیتے ۔
حدیث 1666 — صحيح مسلم 6:96
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ، بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
معاذ بن ہشام نے روایت کی ، کہا : مجھے میرے والد نے قتادہ سے اسی سند کےساتھ یہی حدیث بیان کی ۔
حدیث 1667 — صحيح مسلم 6:97
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ مَا أَخْبَرَنِي أَحَدٌ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الضُّحَى إِلاَّ أُمُّ هَانِئٍ فَإِنَّهَا حَدَّثَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ بَيْتَهَا يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ مَا رَأَيْتُهُ صَلَّى صَلاَةً قَطُّ أَخَفَّ مِنْهَا غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ قَوْلَهُ قَطُّ ‏.‏
محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں شعبہ نے عمرو بن مرہ سے انھوں نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : مجھے ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سوا کسی نے یہ نہیں بتایا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ۔ انھوں نے بتایا کہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں تشریف لائے اور آپ نے آٹھ رکعتیں پڑھیں ، میں نے آپ کو کبھی اس سے ہلکی نمازپڑھتے نہیں دیکھا ، ہاں آپ رکوع اور سجود مکمل طریقے سے کررہے تھے ۔ ابن بشار نے اپنی روایات میں قط ( کبھی ) کا لفظ بیان نہیں کیا ۔
حدیث 1668 — صحيح مسلم 6:98
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، قَالَ سَأَلْتُ وَحَرَصْتُ عَلَى أَنْ أَجِدَ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ يُخْبِرُنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَبَّحَ سُبْحَةَ الضُّحَى فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُحَدِّثُنِي ذَلِكَ غَيْرَ أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَتْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَى بَعْدَ مَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ يَوْمَ الْفَتْحِ فَأُتِيَ بِثَوْبٍ فَسُتِرَ عَلَيْهِ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ لاَ أَدْرِي أَقِيَامُهُ فِيهَا أَطْوَلُ أَمْ رُكُوعُهُ أَمْ سُجُودُهُ كُلُّ ذَلِكَ مِنْهُ مُتَقَارِبٌ - قَالَتْ - فَلَمْ أَرَهُ سَبَّحَهَا قَبْلُ وَلاَ بَعْدُ ‏.‏ قَالَ الْمُرَادِيُّ عَنْ يُونُسَ ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ أَخْبَرَنِي ‏.‏
حرملہ بن یحیٰٰ اور محمد بن سلمہ مرادی دونوں نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبداللہ بن وہب نے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، کہا : مجھے عبداللہ بن حارث کے بیٹے نے حدیث سنائی کہ ان کے والد عبداللہ بن حارث بن نوفل نے کہا : میں نے ( سب سے ) پوچھا اور میری یہ شدید خواہش تھی کہ مجھے کوئی ایک شخص مل جائے جو مجھے بتائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز پڑھی ہے ۔ مجھے ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سوا کوئی نہ ملا جو مجھے یہ بتاتا ۔ انھوں نے مجھے خبر دی کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن بلند ہونے کے بعد تشریف لائے ، ایک کپڑا لا کر آپ کو پردہ مہیا کیاگیا ، آپ نے غسل فرمایا ، پھر آپ کھڑ اہوئے اور آٹھ رکعتیں پڑھیں ۔ میں نہیں جانتی کہ ان میں آپ کا قیام ( نسبتاً ) زیادہ لمبا تھا یا آپ کا رکوع یا آپ کا سجود یہ سب ( ارکان ) قریب قریب تھے اور انھوں نے ( ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے بتایا ، میں نے ا س سے پہلے اور اس کے بعد آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے یہ نماز پڑھی ہو ۔ ( محمد بن مسلمہ ) مرادی نے اپنی روایت میں "" یونس سے روایت ہے "" کہا ۔ "" مجھے یونس نے خبر دی "" نہیں کہا ۔
حدیث 1669 — صحيح مسلم 6:99
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ، تَقُولُ ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ - قَالَتْ - فَسَلَّمْتُ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ هَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ‏.‏ فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلاً أَجَرْتُهُ فُلاَنُ بْنُ هُبَيْرَةَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ وَذَلِكَ ضُحًى ‏.‏
ابو نضر سے روایت ہے کہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہاتے ہوئے پایا جبکہ آپ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کو کپڑے سےچھپائے ہوئے تھیں ( آگے پردہ کیا ہوا تھا ) میں نے سلام عرض کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کون ہے؟میں نے کہا : ام ہانی بنت ابی طالب ہوں ۔ آپ نے فرمایا : " ام ہانی کو خوش آمدید! " جب آپ نہانے سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہوئے اور صرف ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے آٹھ رکعتیں پڑھیں ، جب آپ نماز سے فارغ ہوگئے تو میں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرا ماں جایا بھائی علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ چاہتا ہے کہ ایک ایسے آدمی کو قتل کردے جسے میں نے پناہ دے چکی ہوں ۔ یعنی ہبیرہ کا بیٹا ، فلاں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : امی ہانی! جس کو تم نے پناہ دی اسے ہم نے بھی پناہ دی ۔
حدیث 1670 — صحيح مسلم 6:100
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ، مَوْلَى عَقِيلٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى فِي بَيْتِهَا عَامَ الْفَتْحِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ ‏.‏
جعفر بن محمد ؒ کے والد محمد باقرؒ نے عقیل کے آزاد کردہ غلام ابو مرہ سے اور انھوں نے حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں ایک کپڑے میں جس کے دونوں کنارے ایک دوسرے کی مخالف جانب ڈالے گئے تھے ، آٹھ رکعتیں پڑھیں ۔
حدیث 1671 — صحيح مسلم 6:101
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، - وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ - حَدَّثَنَا وَاصِلٌ، مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدُّؤَلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلاَمَى مِنْ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ فَكُلُّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ وَنَهْىٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ وَيُجْزِئُ مِنْ ذَلِكَ رَكْعَتَانِ يَرْكَعُهُمَا مِنَ الضُّحَى ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " صبح کو تم میں سے ہر ایک شخص کے ہر جوڑ پر ایک صدقہ ہوتا ہے ۔ پس ہر ایک تسبیح ( ایک دفعہ " سبحا ن الله " کہنا ) صدقہ ہے ۔ ہر ایک تمحید ( الحمد لله کہنا ) ) صدقہ ہے ، ہر ایک تہلیل ( لااله الا الله کہنا ) صدقہ ہے ہرہر ایک تکبیر ( الله اكبرکہنا ) بھی صدقہ ہے ۔ ( کسی کو ) نیکی کی تلقین کرنا صدقہ ہے اور ( کسی کو ) برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے ۔ اور ان تمام امور کی جگہ دو رکعتیں جو انسان چاشت کے وقت پڑھتا ہے کفایت کرتی ہیں ۔
حدیث 1672 — صحيح مسلم 6:102
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ، حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَوْصَانِي خَلِيلِي صلى الله عليه وسلم بِثَلاَثٍ بِصِيَامِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَكْعَتَىِ الضُّحَى وَأَنْ أُوتِرَ قَبْلَ أَنْ أَرْقُدَ ‏.‏
ابو تیاح نے کہا : ہمیں ابو عثمان نہدی نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : مجھے میر ےخلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی تلقین فرمائی ، ہر ماہ تین روزے رکھنے کی ، چاشت کی دورکعتوں کی اور اس بات کی کہ سونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کروں ۔
حدیث 1673 — صحيح مسلم 6:103
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، وَأَبِي، شِمْرٍ الضُّبَعِيِّ قَالاَ سَمِعْنَا أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِهِ ‏.‏
عباس ، جریری ، اور ابو شمرضبعی ، دونوں نے کہا : ہم نے ابو عثمان نہدی سے سنا ، وہ حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کررہے تھے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی سابقہ حدیث کی مانند حدیث بیان کی ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔