حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَوْتِرُوا قَبْلَ أَنْ تُصْبِحُوا " .
معمرنے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انھوں نے ابو نضرہ سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " صبح سے پہلے پہلے وتر پڑھ لو ۔
حدیث 1765 — صحيح مسلم 6:194
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو نَضْرَةَ الْعَوَقِيُّ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ، أَخْبَرَهُمْ أَنَّهُمْ، سَأَلُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْوِتْرِ فَقَالَ " أَوْتِرُوا قَبْلَ الصُّبْحِ " .
شیبان نے یحییٰ ( بن ابی کثیر ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ابو نضرۃ عوقی نے مجھے بتایا کہ حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتایا کہ انھوں ( صحابہ ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھ لو ۔
حفص اور ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی ، انھوں نے ابو سفیان سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جسے ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں نہیں اٹھ سکے گا ، وہ رات کے شروع میں وتر پڑھ لے ۔ اور جسے امید ہو کہ وہ رات کے آخر میں اٹھ جائے گا ، وہ رات کے آخر میں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصے کی نماز کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ افضل ہے ۔ "" ابومعاویہ نے ( مشهوده کی بجائے ) محضورة ( اس میں حاضری دی جاتی ہے ) کہا ۔ ( مفہوم ایک ہی ہے)
ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرمارہے تھے : " تم میں سے جسے یہ خدشہ ہوکہ وہ رات کے آخر میں نہیں اٹھ سکے گا تو وہ وتر پڑھ لے ، پھر سوجائے اور جسے رات کو اٹھ جانے کا یقین ہو ، وہ رات کے آخرمیں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصے میں قراءت کے وقت حاضری دی جاتی ہے اور یہ بہتر ہے ۔
حدیث 1768 — صحيح مسلم 6:197
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَفْضَلُ الصَّلاَةِ طُولُ الْقُنُوتِ " .
ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیام کا لمبا ہونا بہترین نماز ہے ۔
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب دونوں نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں اعمش نے ابو سفیان سے حدیث سنائی اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھاگیا : کون سی نمازافضل ہے؟آپ نے فرمایا : "" قیام کا لمبا ہونا ۔ "" ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ابومعاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی ۔
ابو سفیان سے روایت ہے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرماتے تھے : " رات میں ایک گھڑی ایسی ہے ۔ جو مسلمان بندہ بھی اس کو پالیتا ہے ۔ اس میں وہ دنیا وآخرت کی کسی بھی خیر اور بھلائی کا سوال کرتا ہےتو اللہ اسے وہ ( بھلائی ) ضرور عطا فرمادیتا ہے ۔ اور یہ گھڑی ہر رات میں ہوتی ہے ۔
ابو زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " رات میں ایک ایسی گھڑی ہے جو مسلمان بھی اسے پالیتا ہے اور اس میں اللہ سے کسی بھی خیر کا سوال کرتا ہے تو وہ اسے وہ ( بھلائی ) عطا فرمادیتا ہے ۔
ابن شہاب نے ابو عبداللہ اغز اور ابو سلمہ بن عبدالرحمان سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : برکت اور رفعت کا مالک ہمارا رب ، ہر رات کو جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے ، ( تو ) دنیا کے آ سمان پر نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے : کون مجھے پکارتا ہے کہ میں اس کی پکار کو سنوں؟کون مجھ سے مانگتا ہ ے کہ میں اس کو دوں ، اور کون مجھ سے بخشش طلب کرتاہے کہ میں اسے بخش دوں؟
سہیل کے والد ابو صالح نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ ہر رات کو ، جب رات کا پہلا تہائی حصہ گزر جاتا ہے ، دنیا کے آسمان پر نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے : میں بادشاہ ہوں ، صرف میں بادشاہ ہوں ، کون ہے جو مجھے پکارتا ہے ہے کہ میں اس کی پکار کو سنوں؟کو ن ہے جو مجھ سے مانگتا ہے کہ میں اسے دوں؟کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرتا ہے کہ میں اسے معاف کروں؟وہ یہی اعلان فرماتا رہتا ہے حتیٰ کہ صبح چمک اٹھتی ہے ۔