ابو بن سلمہ عبدالرحمان نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب رات کا آدھا یا دو تہائی حصہ گزر جاتا ہے توا للہ تبارک وتعا لیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے : کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ اسے دیاجائے؟کیا کوئی د عا کرنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول کیجائے؟کیاکوئی بخشش کا طلبگار ہے کہ اسے بخشا جائے حتیٰ کہ صبح پھوٹ پڑتی ہے ۔
محاضر ابومورع نے کہا : ہم سے سعد بن سعید ( بن قیس انصاری ) نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے ابن مرجانہ نے خبر دی ، انوں نے کہامیں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" آدھی رات یا رات کی آخری تہائی کے وقت اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے : کون مجھ سے دعا کرے گا کہ میں اس کی دعا قبول کروں ۔ یامجھ سے سوال کرے میں اسے عطا کرو؟پھر فرماتا ہے : کون اس ( ذات ) کو قرض دےگا جو نہ محتاج ہے اور نہ حق مارنے والی ہے ( اللہ تعالیٰ کو ) ؟ "" امام مسلمؒ نے کہا : ابن مرجانہ سے مراد سعید بن عبداللہ ( ابو العثمان المدنی ) ہیں اور مرجانہ ان کی والدہ ہیں ۔
سلیمان بن بلال نے سعد بن سعید سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور اس میں یہ اضافہ ہے : " پھراللہ تعالیٰ اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتا ہے اور فرماتا ہے ۔ : کون اسکو قرض دے گا جو نہ محتاج ہے اور نہ ہی ظالم ۔
منصور نے ابو اسحاق سے اور انھوں نے اغر ابو مسلم سے روایت کی ، وہ حضرت ابو سعید اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں ۔ دونوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ ( بندوں کو آرام کی ) مہلت دیتاہے حتیٰ کہ جب رات کا پہلا تہائی حصہ گزر جاتاہے تو وہ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے : کیا کوئی مغفرت کا طلب گار ہے؟کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے؟کیاکوئی مانگنے والاہے؟کیاکوئی پکارنے والا ہے؟حتیٰ کہ فجر پھوٹ پڑتی ہے ۔
حدیث 1778 — صحيح مسلم #1778
شعبہ نے ابو اسحاق سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث بیان کی ، البتہ منصور کی روایت مکمل اور زیادہ ( تفصیلات پر محیط ) ہے ۔
حمید بن عبدالرحمان نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص کے ایمان ( کی حالت میں ) اور اجر طلب کرتے ہوئے رمضان کا قیام کیا اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کردیئے گئے ۔
حدیث 1780 — صحيح مسلم 6:208
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ فِيهِ بِعَزِيمَةٍ فَيَقُولُ " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " . فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ كَانَ الأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ فِي خِلاَفَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلاَفَةِ عُمَرَ عَلَى ذَلِكَ .
امام زہری نے ابو سلمہ ( بن عبدالرحمان ) سے اور انھوں نے ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لازم ٹھہرائے بغیر رمضان کے قیام کی ترغیب دیتے تھے ، آپ فرماتے : " جس نے رمضان کا قیام ایمان ( کی حالت میں ) اوراجر طلب کرتے ہوئے کیا ، اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔ " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک معاملہ یہی رہا ، پھر ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دور میں بھی معاملہ اسی طرح رہا ( ترغیب دی جاتی رہی ، اجتماعی طور پر اہتمام نہیں کیاگیا)
حییٰ بن ابی کثیر نے کہا : ہمیں سلمہ بن عبدالرحمان نے حدیث بیان کی ۔ کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے رمضان کے روزے ایمان ( کی حالت میں ) اور ثواب کے لئے رکھے ، اس کے گزشتہ سب گناہ معاف کردیئے جائیں گے اور جس نے لیلۃ القدر کا قیام ایمان کے ساتھ اور ثواب کے لئے کیا تو اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے ۔
حدیث 1782 — صحيح مسلم 6:210
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ يَقُمْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَيُوَافِقُهَا - أُرَاهُ قَالَ - إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ " .
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور ا نھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص لیلۃ القدر کا قیام کرے گا اور اس کو پالے گا ۔ میرا خیال ہے آپ نے فرمایا ۔ ایمان کے عالم میں اور احتساب کے لئے ، اسے بخش دیا جائے گا ۔
حدیث 1783 — صحيح مسلم 6:211
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَصَلَّى بِصَلاَتِهِ نَاسٌ ثُمَّ صَلَّى مِنَ الْقَابِلَةِ فَكَثُرَ النَّاسُ ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ " قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ فَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنَ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلاَّ أَنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ " . قَالَ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ .
امام مالکؒ نے ابن شہاب سے روایت کی ، انھوں نے عروہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی تو کچھ اور لوگوں نے ( بھی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ، پھر آپ نے اس سے اگلی ر ات نماز پڑھی تو لوگوں ( کی تعداد ) میں اضافہ ہوگیا ، پھر تیسری یا چوتھی رات لوگ جمع ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر ان کے پاس تشریف نہ لائے ۔ جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جو تم نے کیا میں نے دیکھا ، مجھے تمہارے پاس آنے سے اس کے سوا کسی چیز نے نہیں روکا کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں یہ ( نماز ) تم پر فرض نہ ہوجائے ۔ "" ( عروہ یا ان کے بعد کے کسی راوی نے ) کہا : اور یہ رمضان میں ہوا ۔