یحییٰ بن ایوب ، قتیبہ ، اور علی بن حجر نے اسماعیل بن جعفر سے حدیث بیان کی ، ابن ایوب نے کہا : ہمیں اسماعیل نے حدیث سنائی ، کہا مجھے محمد بن ابی حرملہ نے خبر دی ، انھوں نےکہا ، مجھے ابو سلمہ نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ان دو ر کعتوں کے بارے میں پوچھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد پڑھتے تھے ۔ انھوں نےکہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دو رکعتیں ( ظہر کے بعد ) عصر سے پہلے پڑھتے تھے ، پھر ایک دن ان کے پڑھنے سے مشغول ہوگئے یا انھیں بھول گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ عصر کے بعد پڑھیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں قائم رکھا کیونکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نماز ( ایک دفعہ ) پڑھ لیتے تو اسے قائم رکھتے تھے ۔ یحییٰ بن ایوب نے کہا : اسماعیل نے کہا ( اثبتها اسے قائم رکھتے تھے ) سے مراد ہے : آپ اس پر ہمیشہ عمل فرماتے تھے ۔
حدیث 1935 — صحيح مسلم 6:363
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي قَطُّ .
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاں عصر کے بعد دو رکعتیں کبھی نہیں چھوڑیں ۔
عبدالرحمان بن اسود نے اپنے والد اسود سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : دو نمازیں ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر میں انھیں رازداری سے اور اعلانیہ کبھی ترک نہیں کیا : دو رکعتیں فجر سے پہلے اور دو رکعتیں عصر کے بعد ۔
ابو اسحاق نے اسود اور مسروق سے روایت کی ، ان دونوں نے کہا : ہم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں گواہی دیتے ہیں کہ انھوں نے کہا : کوئی دن جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ہوتے تھے ایسا نہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دو رکعتیں نہ پڑھی ہوں ۔ ان کی مراد عصر کے بعد کی دو رکعتوں سے تھی ۔
حدیث 1938 — صحيح مسلم 6:366
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، - عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ التَّطَوُّعِ، بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَ كَانَ عُمَرُ يَضْرِبُ الأَيْدِي عَلَى صَلاَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ وَكُنَّا نُصَلِّي عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ قَبْلَ صَلاَةِ الْمَغْرِبِ . فَقُلْتُ لَهُ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَّهُمَا قَالَ كَانَ يَرَانَا نُصَلِّيهِمَا . فَلَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا
مختار بن فلفل سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عصر کے بعد نفل نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا : حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عصر کے بعد نماز پڑھنے پر ہاتھوں پر مارتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےدور میں ہم سورج کے غروب ہوجانے کے بعد نماز مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے ۔ تو میں نے ان سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دو رکعتیں پڑھیں؟انھوں نے کہا : آپ ہمیں پڑھتا دیکھتے تھے آپ نے نہ ہمیں حکم دیا اور نہ روکا ۔
عبدالعزیز بن صہیب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم مدینے میں ہوتے تھے ، جب موذن مغرب کی اذان دیتا و لوگ ستونوں کی طرح لپکتے تھے اور وہ دو رکعتیں پڑھتے تھے حتیٰ کہ ایک مسافر مسجد میں آتا تو ان رکعتوں کو پڑھنے والوں کی کثرت دیکھ کر یہ سمجھتا کہ مغرب کی نماز ہوچکی ہے ۔
کہمس نےکہا : ہم سے عبداللہ بن بریدہ نے حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " ہر دو اذانوں ( اذان اور تکبیر ) کے درمیان نماز ہے ۔ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ فرمایا ( اور ) تیسری دفعہ فرمایا : " اس کے لئے جو چاہے ۔
حدیث 1941 — صحيح مسلم 6:369
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . مِثْلَهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ " لِمَنْ شَاءَ " .
جریری نے عبداللہ بن بریرہ سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مثل روایت کی ، مگرانھوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوتھی مرتبہ فرمایا؛ " اس کے لئے جو چاہے ۔
حدیث 1942 — صحيح مسلم 6:370
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْخَوْفِ بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةً وَالطَّائِفَةُ الأُخْرَى مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ ثُمَّ انْصَرَفُوا وَقَامُوا فِي مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ مُقْبِلِينَ عَلَى الْعَدُوِّ وَجَاءَ أُولَئِكَ ثُمَّ صَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَضَى هَؤُلاَءِ رَكْعَةً وَهَؤُلاَءِ رَكْعَةً .
معمر نے زہری سے ، انھوں نے سالم سے اور انھوں نےحضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف پڑھائی ، دو گروہوں میں سے ایک کو ایک رکعت پڑھائی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا ہواتھا ، پھر یہ ( آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والے ) پلٹ گئے اور اپنے ساتھیوں کی جگہ دشمن کی طرف رخ کرکے جاکھڑے ہوئے اور وہ لوگ آگئے ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بھی ایک رکعت پڑھائی اور اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا پھر ( آپ کے بعد ) انہوں نے بھی اپنی رکعت مکمل کرلی اور انھوں نے بھی دوسری رکعت مکمل کرلی ۔
حدیث 1943 — صحيح مسلم 6:371
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْخَوْفِ وَيَقُولُ صَلَّيْتُهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِهَذَا الْمَعْنَى .
فلیح نے زہری سے ، انھوں نے سالم بن عبداللہ بن عمر سے اور انھوں نے ا پنے والد سے روایت کی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صلاۃ الخوف ( کاطریقہ ) بیان کرتے اور فرماتے : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ نماز پڑھی ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اسی کے ہم معنی حدیث ہے ۔