نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ا پنے جنگ کے ایام میں سے ایک دن نماز خوف پڑھائی ، ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز کے لئے کھڑہوگیا ۔ اور دوسرا دشمن کے بالمقابل ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھ کھڑے ہونے والوں کو ایک رکعت پڑھا دی ، پھر یہ لوگ ( دشمن کے مقابلےمیں ) چلے گئے اور دوسرے آگئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بھی ایک رکعت پڑھا دی ، پھر ان دونوں گروہوں نے ( یکے بعد دیگرے ) ایک ایک رکعت اداکرلی ۔ ( نافع ) نے کہا : ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اگر خوف اس سے زیادہ ہو ( اور صف بندی ممکن نہ ہو ) تو سواری پر یا کھڑے کھڑے اشاارہ کرو اور نماز پڑھ لو ۔
حدیث 1945 — صحيح مسلم 6:373
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْخَوْفِ فَصَفَّنَا صَفَّيْنِ صَفٌّ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْعَدُوُّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَكَبَّرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَكَبَّرْنَا جَمِيعًا ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَرَفَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ انْحَدَرَ بِالسُّجُودِ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نَحْرِ الْعَدُوِّ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم السُّجُودَ وَقَامَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ وَقَامُوا ثُمَّ تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ ثُمَّ رَكَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَرَكَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَرَفَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ انْحَدَرَ بِالسُّجُودِ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ الَّذِي كَانَ مُؤَخَّرًا فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نُحُورِ الْعَدُوِّ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم السُّجُودَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ فَسَجَدُوا ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَسَلَّمْنَا جَمِيعًا . قَالَ جَابِرٌ كَمَا يَصْنَعُ حَرَسُكُمْ هَؤُلاَءِ بِأُمَرَائِهِمْ .
عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف میں شریک ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری دو صفیں بنائیں ، ایک صف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھی ( اوردوسری ان کے پیچھے ) اور دشمن ہمارے اور قبلے کے درمیان تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر ( تحریمہ ) کہی اور ہم سب نے بھی تکبیر کہی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور ہم سب نے رکوع کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا اور ہم سب نے سراٹھایا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کے لئے جھک گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متصل صف نے بھی سجدہ کیا اور پچھلی صف دشمن کے مد مقابل کھڑی رہی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کے کرلیے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متصل صف ( سجدے کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ) کھڑی ہوگئی تو پچھلی صف سجدے کے لئے نیچے ہوئی اور پھر کھڑی ہوگئی ، اس کے بعد پچھلی صف آگے آگئی اور اگلی صف پیچھے چلی گئی ، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو ہم سب نے رکوع کیا ۔ پھر آپ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا اور ہم سب نے بھی سراٹھایا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متصل صف جو پہلی رکعت میں پیچھے تھی ، سجدے کے لئے نیچے چلی گئی اور پچھلی صف دشمن کے مقابلے میں کھڑی رہی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متصل صف نے سجدہ کرلیا تو پچھلی صف سجدے کے لئے جھکی ۔ انھوں نے سجدے کیے ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا اور ہم سب نے بھی سلام پھیردیا ۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا : جس طرح تمہارےمحافظ ( آجکل ) اپنے امیروں کی حفاظت کے لئے کرتے ہیں ۔
حدیث 1946 — صحيح مسلم 6:374
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَوْمًا مِنْ جُهَيْنَةَ فَقَاتَلُونَا قِتَالاً شَدِيدًا فَلَمَّا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ قَالَ الْمُشْرِكُونَ لَوْ مِلْنَا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً لاَقْتَطَعْنَاهُمْ . فَأَخْبَرَ جِبْرِيلُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَلِكَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - وَقَالُوا إِنَّهُ سَتَأْتِيهِمْ صَلاَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنَ الأَوْلاَدِ فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ - قَالَ - صَفَّنَا صَفَّيْنِ وَالْمُشْرِكُونَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ - قَالَ - فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَبَّرْنَا وَرَكَعَ فَرَكَعْنَا ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الأَوَّلُ فَلَمَّا قَامُوا سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الأَوَّلُ وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الثَّانِي فَقَامُوا مَقَامَ الأَوَّلِ فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَبَّرْنَا وَرَكَعَ فَرَكَعْنَا ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الأَوَّلُ وَقَامَ الثَّانِي فَلَمَّا سَجَدَ سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي ثُمَّ جَلَسُوا جَمِيعًا سَلَّمَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ ثُمَّ خَصَّ جَابِرٌ أَنْ قَالَ كَمَا يُصَلِّي أُمَرَاؤُكُمْ هَؤُلاَءِ .
ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا؛ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جہینہ قبیلے کے لوگوں سے جنگ لڑی ، انھوں نے ہمارے ساتھ بڑی شدیدجنگ کی جب ہم نے ظہر کی نماز پڑھی تو مشرکوں نے کہا : اگر ہم ان پر یکبارگی حملہ کریں تو ان کو کاٹ کررکھ دیں ۔ جبرئیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات سے آگاہ کردیا اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان لوگوں نے کہا ہے کہ ابھی ان کی ایک ایسی نماز کا وقت آنےوالاہے جو ان کو ان کی اولاد سے بھی زیادہ پیاری ہے ۔ جب عصرکا وقت آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری دو صفیں بنائیں جبکہ مشرک ہمارے اور ہمارے قبیلے کے درمیان تھے ۔ کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر تحریمہ کہی اور ہم نے بھی تکبیر کہی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور ہم نے بھی رکوع کیا ، پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلی صف نے بھی سجدہ کیا ۔ جب یہ حضرات کھڑے ہوگئے تو دوسر ی صف والوں نے سجدے کیے ، پھر پہلی صف پیچھے چلی گئی اور دوسری آگے بڑھ گئی اور پہلی صف کی جگہ کھڑی ہوگئی ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور ہم نے بھی تکبیرکہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور ہم نے بھی رکوع کیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( موجودہ ) پہلی صف نے سجدہ کیا اور دوسری کھڑی رہی ۔ پھر جب دوسری صف نے سجدے کرلیے اور اس کے بعد سب بیٹھ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کے ساتھ سلام پھیرا ۔ ابو زبیر نے کہا : پھر حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خصوصی طور پر فرمایا : جس طرح تمہارے یہ امیر نماز پڑھتے ہیں ۔
عبدالرحمان بن قاسم نے اپنے والد سے ، انھوں نے صالح بن خوات بن جبیرسے اور انھوں نے حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو نماز خوف پڑھائی اور انھیں اپنے پیچھے دو صفوں میں کھڑا کیا اور اپنے ساتھ ( کی صف ) والوں کوایک رکعت پڑھائی ۔ پھر آپ کھڑے ہوگئے اور کھڑے ہی رہے یہاں تک کہ ان سے پیچھے والوں نے ایک رکعت پڑھ لی ، پھر یہ آگے آگے اور جو ان سے آگے تھے پیچھے چلے گئے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ایک رکعت پڑھائی ۔ پھر آپ بیٹھ گئے حتیٰ کہ جو پیچھے چلے گئے تھے انھوں نے ( بھی ایک اور ) رکعت پڑھ لی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا ۔
یزید بن رومان نے صالح بن خوات سےاور انھوں نے اس شخص سے نقل کیا جس نے غزوہ ذات الرقاع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں نمازخوف پڑھی تھی ۔ کہ ایک گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صف بنائی اور دوسرا گروہ دشمن کے رو برو تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ والوں کو ایک رکعت پڑھائی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہے اور انھوں نے اپنے طور پر ( دوسری رکعت پڑھ کر ) نماز مکمل کرلی اور ( سلام پھیر کر ) چلے گئے اور دشمن کے سامنے صف بند ہوگئے اور دوسرا گروہ آگیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو رکعت رہتی تھی ۔ ان کو پڑھا دی پھر بیٹھے رہے اور ان لوگوں نے اپنے طور پر ( رکعت پڑھ کر ) نماز مکمل کرلی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ سلام پھیرا ۔
حدیث 1949 — صحيح مسلم 6:377
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ قَالَ كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا عَلَى شَجَرَةٍ ظَلِيلَةٍ تَرَكْنَاهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَسَيْفُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُعَلَّقٌ بِشَجَرَةٍ فَأَخَذَ سَيْفَ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاخْتَرَطَهُ فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَخَافُنِي قَالَ " لاَ " . قَالَ فَمَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي قَالَ " اللَّهُ يَمْنَعُنِي مِنْكَ " . قَالَ فَتَهَدَّدَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَغْمَدَ السَّيْفَ وَعَلَّقَهُ - قَالَ - فَنُودِيَ بِالصَّلاَةِ فَصَلَّى بِطَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ تَأَخَّرُوا وَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ قَالَ فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ .
۔ ابان بن یزید نے کہا : ہم سے یحییٰ ابن کثیر نے ابو سلمہ ( بن عبدالرحمان ) سے حدیث بیان کی اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( جہاد پر ) آئے ۔ حتیٰ کہ جب ہم ذات الرقاع ( نامی پہاڑ ) تک پہنچے ۔ کہا : ہماری عادت تھی کہ جب ہم کسی گھنے سائے والے درخت تک پہنچے تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چھوڑ دیتے ، کہا : ایک مشرک آیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار درخت پر لٹکی ہوئی تھی ، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوارپکڑ لی ، اسے میان سے نکالا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا : کیا آپ مجھ سے ڈ رتے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نہیں ۔ " اس نے کہا : تو پھر آپ کومجھ سے کون بچائے گا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " اللہ تعالیٰ مجھے تم سےمحفوظ فرمائے گا ۔ " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے اسے دھمکایا تو اس نے تلوار میان میں ڈال لی اور اسے لٹکایا ۔ اس کے بعد نماز کے لئے اذان کہی گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعت نماز پڑھائی ، پھر وہ گروہ پیچھے چلا گیااس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں ۔ کہا اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہوئیں اور لوگوں کی دو دو رکعتیں ۔
حدیث 1950 — صحيح مسلم 6:378
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ - حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، - وَهُوَ ابْنُ سَلاَّمٍ - أَخْبَرَنِي يَحْيَى، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ جَابِرًا، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْخَوْفِ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّى بِالطَّائِفَةِ الأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَصَلَّى بِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ .
معاویہ بن سلام نے کہا : مجھے یحییٰ ( بن ا بی کثیر ) نے خبردی ، انھوں نے کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمان نے خبر دی کہ انھیں جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کودو رکعتیں پڑھائیں ، پھر دوسرے گروہ کو دو ر کعتیں پڑھائیں ، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار ر کعتیں پڑھیں اور ہر گروہ کو دو دو رکعتیں پڑھائیں ۔
نافع نے حضرت عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، انھوں نےکہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئےسنا : " جب تم میں سے کوئی شخص جمعے کےلئے آنے کاارادہ کرے تو وہ غسل کرے ۔
لیث نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عبداللہ بن عبداللہ بن عمیر سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہوئے فرمایا : " تم میں سے جو جمعے کے لئے آئے غسل کرے ۔
حدیث 1953 — صحيح مسلم 7:3
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ، ابْنَىْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ .
ابن جریج نے کہا : ابن شہاب نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دونوں بیٹوں سالم اورعبداللہ سے خبر دی ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس ( سابقہ حدیث ) کے مانندروایت کی ۔