قرآني·Qurani
اردو

الفضائل

5785 احادیث · #384–6168

حدیث 3544 — صحيح مسلم 16:146
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو صِرْمَةَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَسَأَلَهُ أَبُو صِرْمَةَ فَقَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُ الْعَزْلَ فَقَالَ نَعَمْ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزْوَةَ بَلْمُصْطَلِقِ فَسَبَيْنَا كَرَائِمَ الْعَرَبِ فَطَالَتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَرَغِبْنَا فِي الْفِدَاءِ فَأَرَدْنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ وَنَعْزِلَ فَقُلْنَا نَفْعَلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَظْهُرِنَا لاَ نَسْأَلُهُ ‏.‏ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ لاَ عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ خَلْقَ نَسَمَةٍ هِيَ كَائِنَةٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلاَّ سَتَكُونُ ‏"‏ ‏.‏
ربیعہ نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے خبر دی ، انہوں نے ابن مُحَریز سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں اور ابوصرمہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے ہاں حاضر ہوئے ، ابوصرمہ نے ان سے سوال کیا اور کہا : ابوسعید! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزل کا ذکر کرتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا : ہاں ، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں بنی مصطلق کے خلاف جنگ کی اور عرب کی چنیدہ عورتیں بطور غنیمت حاصل کیں ، ہمیں ( اپنی عورتوں سے ) دور رہتے ہوئے کافی مدت ہو چکی تھی ، اور ہم ( ان عورتوں کے ) فدیے کی بھی رغبت رکھتے تھے ، ہم نے ارادہ کیا کہ ( ان عورتوں سے ) فائدہ اٹھائیں اور عزل کر لیں ، ہم نے کہا : ہم یہ کام کریں بھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہوں تو ان سے سوال بھی نہ کریں! چنانچہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر تم ( عزل ) نہ بھی کرو تو تمہیں کوئی نقصان نہیں ہو گا کیونکہ اللہ نے قیامت کے دن تک ( پیدا ) ہونے والی جس جان کی پیدائش لکھ دی ہے ، وہ ضرور پیدا ہو گی
حدیث 3545 — صحيح مسلم 16:147
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، حَدَّثَنَا مُوسَى، بْنُ عُقْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ فِي مَعْنَى حَدِيثِ رَبِيعَةَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ فَإِنَّ اللَّهَ كَتَبَ مَنْ هُوَ خَالِقٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
موسیٰ بن عقبہ نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے اسی سند کے ساتھ ربیعہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ، مگر انہوں نے کہا : " اللہ نے ( پہلے ہی ) لکھ دیا ہے کہ وہ قیامت کے دن تک کس کو پیدا کرنے والا ہے
حدیث 3546 — صحيح مسلم 16:148
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ قَالَ أَصَبْنَا سَبَايَا فَكُنَّا نَعْزِلُ ثُمَّ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَنَا ‏ "‏ وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلاَّ هِيَ كَائِنَةٌ ‏"‏ ‏.‏
زہری نے ابن محریز سے اور انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے ان ( ابن محریز ) کو خبر دی ، ہمیں لونڈیاں حاصل ہوئیں تو ( ان کے ساتھ ) ہم عزل کرتے تھے ، پھر ہم نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے ہمیں فرمایا : " ( کیا ) تم ایسا کرتے ہو؟ تم ایسا کرتے ہو؟ ( واقعی ) تم ایسا کرتے ہو؟ کوئی جان نہیں جو قیامت تک پیدا ہونے والی ہو مگر وہ پیدا ہو کر رہے گی
حدیث 3547 — صحيح مسلم 16:149
وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَنَسِ، بْنِ سِيرِينَ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قُلْتُ لَهُ سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ نَعَمْ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ‏"‏ ‏.‏
بشر بن مفضل نے کہا : ہمیں شعبہ نے انس بن سیرین سے حدیث بیان کی ، انہوں نے معبد بن سیرین سے ، انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، ( انس بن سیرین نے ) کہا : میں نے ان ( معبد ) سے پوچھا : آپ نے یہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے خود سنا ہے؟ انہوں نے کہا : ہاں! انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہیں اس بات کا کوئی نقصان نہیں کہ تم ( ایسا ) نہ کرو ، یہ تو صرف تقدیر ہے ( جو تم عزل کرو یا نہ کرو ، بہرصورت پوری ہو کر رہے گی)
حدیث 3548 — صحيح مسلم 16:150
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، بْنُ مَهْدِيٍّ وَبَهْزٌ قَالُوا جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي الْعَزْلِ ‏ "‏ لاَ عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا ذَاكُمْ فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ بَهْزٍ قَالَ شُعْبَةُ قُلْتُ لَهُ سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ نَعَمْ ‏.‏
محمد بن جعفر ، خالد بن حارث ، عبدالرحمٰن بن مہدی اور بہز ، سب نے کہا : ہمیں شعبہ نے انس بن سیرین سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ، مگر ان کی حدیث میں ( اس طرح ) ہے : انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے عزل کے بارے میں فرمایا : "" ( اس میں ) کوئی حرج نہیں کہ تم یہ کام نہ کرو ، یہ تو بس تقدیر ( کا معاملہ ) ہے ۔ "" بہز کی روایت میں ہے ، شعبہ نے کہا : میں نے ان سے پوچھا : کیاآپ نے یہ حدیث ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنی؟ انہوں نے کہا : ہاں
حدیث 3549 — صحيح مسلم 16:151
وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كَامِلٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَدَّهُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ ‏"‏ لاَ عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا ذَاكُمْ فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدٌ وَقَوْلُهُ ‏"‏ لاَ عَلَيْكُمْ ‏"‏ ‏.‏ أَقْرَبُ إِلَى النَّهْىِ ‏.‏
ایوب نے ہمیں محمد ( بن سیرین ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن بشر بن مسعود سے روایت کی ، اسے پیچھے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ تک لے گئے ( ان سے روایت کی ) ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : " تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم یہ کام نہ کرو ، یہ تو بس تقدیر ( کا معاملہ ) ہے ۔ " محمد ( بن سیرین ) نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول : ( لا عليكم ) " اس بات کا تم پر کوئی حرج نہیں " ممانعت کے زیادہ قریب ہے
حدیث 3550 — صحيح مسلم 16:152
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ الأَنْصَارِيِّ، ‏.‏ قَالَ فَرَدَّ الْحَدِيثَ حَتَّى رَدَّهُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ ذُكِرَ الْعَزْلُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ وَمَا ذَاكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ تُرْضِعُ فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ وَالرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الأَمَةُ فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلاَ عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا ذَاكُمْ فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَحَدَّثْتُ بِهِ الْحَسَنَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَكَأَنَّ هَذَا زَجْرٌ ‏.‏
معاذ بن معاذ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن عون نے محمد ( بن سیرین ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن بشر انصاری سے روایت کی ، اور اس حدیث کو پیچھے لے گئے اور اسے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عزل کا تذکرہ کیا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ( اس سے ) تمہارا مقصود کیا ہے؟ "" صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا : کسی آدمی کی بیوی ہے ( بچے کو ) دودھ پلا رہی ہوتی ہے ، وہ اس سے مباشرت کرتا ہے اور ناپسند کرتا ہے کہ وہ اس سے حاملہ ہو ۔ اور کسی شخص کی لونڈی ہے وہ اس سے مباشرت کرتا ہے اور ناپسند کرتا ہے کہ وہ اس سے حاملہ ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کوئی حرج نہیں کہ تم ایسا نہ کرو ، یہ ( بچے کا پیدا ہونا یا نہ ہونا ) تو تقدیر کا معاملہ ہے ۔ "" ابن عون نے کہا : میں نے یہ حدیث حسن ( بصری ) کو سنائی تو انہوں نے کہا : اللہ کی قسم! یہ تو گویا ڈانٹ ہے
حدیث 3551 — صحيح مسلم 16:153
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ حَدَّثْتُ مُحَمَّدًا، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، بِحَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ - يَعْنِي حَدِيثَ الْعَزْلِ - فَقَالَ إِيَّاىَ حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، ‏.‏
حماد بن زید نے ابن عون سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حماد ( بن سیرین ) کو ابراہیم کے واسطے سے عبدالرحمٰن بن بشر کی حدیث ، یعنی عزل کی حدیث سنائی تو انہوں نے کہا : عبدالرحمٰن بن بشر نے خود مجھے بھی یہ حدیث بیان کی
حدیث 3552 — صحيح مسلم 16:154
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ مَعْبَدِ، بْنِ سِيرِينَ قَالَ قُلْنَا لأَبِي سَعِيدٍ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُ فِي الْعَزْلِ شَيْئًا قَالَ نَعَمْ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ إِلَى قَوْلِهِ ‏ "‏ الْقَدَرُ ‏"‏ ‏.‏
ہشام نے ہمیں محمد ( بن سیرین ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے معبد بن سیرین سے روایت کی ، کہا : ہم نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے عرض کی ، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزل کے بارے میں کچھ فرماتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ آگے انہوں نے القدر ( یہ تو تقدیر ہے ) تک ابن عون کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی
حدیث 3553 — صحيح مسلم 16:155
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، الْخُدْرِيِّ قَالَ ذُكِرَ الْعَزْلُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ وَلِمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ - وَلَمْ يَقُلْ فَلاَ يَفْعَلْ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ - فَإِنَّهُ لَيْسَتْ نَفْسٌ مَخْلُوقَةٌ إِلاَّ اللَّهُ خَالِقُهَا ‏"‏ ‏.‏
قزعہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عزل کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : " تم میں سے کوئی شخص ایسا کیوں کرتا ہے؟ ۔ ۔ آپ نے یہ نہیں فرمایا : تم میں سے کوئی ایسا نہ کرے ۔ حقیقت یہ ہے پیدا ہونے والی کوئی جان نہیں مگر اللہ اسے پیدا کرنے والا ہے ۔ ( وہ اسے ضرور پیدا کرے گا)
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔