عبداللہ بن وہب نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھے معاویہ بن صالح نے علی بن ابو طلحہ سے خبر دی ، انہوں نے ابو وداک سے ، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں ( ابووداک ) نے ان سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا گیا ، آپ نے فرمایا : "" ہر پانی ( منی کے قطرے ) سے بچہ پیدا نہیں ہوتا ، اور جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ فرما لیتا ہے تو اسے کوئی چیز روک نہیں سکتی ۔ "" ( زید بن حباب نے معاویہ سے ، باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی)
حدیث 3555 — صحيح مسلم 16:157
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْهَاشِمِيُّ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
ابوزبیر نے ہمیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور عرض کی : میری ایک لونڈی ہے ، وہی ہماری خادمہ ہے اور وہی ہمارے لیے پانی لانے والی بھی ہے اور میں اس سے مجامعت بھی کرتا ہوں ۔ میں ناپسند کرتا ہوں کہ وہ حاملہ ہو ۔ تو آپ نے فرمایا : " اگر تم چاہو تو اس سے عزل کر لیا کرو ، ( لیکن ) یہ بات یقینی ہے کہ جو بچہ اس کے لیے مقدر میں لکھا گیا ہے وہ آ کر رہے گا ۔ " وہ شخص ( چند دن ) رکا ، پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور عرض کی : وہ لونڈی حاملہ ہو گئی ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے تمہیں بتا دیا تھا کہ جو اس کے لیے مقدر کیا گیا ہے وہ آ کر رہے گا
سفیان بن عیینہ نے ہمیں سعید بن حسان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عروہ بن عیاض سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا ، اور کہا : میرے پاس میری ایک لونڈی ہے ، میں اس سے عزل کرتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بے شک یہ ( عزل ) ایسی کسی چیز کو نہیں روک سکتا جس کا اللہ نے ارادہ کیا ہو ۔ " کہا : وہ شخص ( دوبارہ ) حاضرِ خدمت ہوا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول! وہ لونڈی جس کا میں نے آپ سے ذکر کیا تھا ، حاملہ ہو گئی ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں ۔ ( میں جو کہتا ہوں اللہ کی طرف سے کہتا ہوں)
حدیث 3557 — صحيح مسلم 16:159
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ عِنْدِي جَارِيَةً لِي وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ ذَلِكَ لَنْ يَمْنَعَ شَيْئًا أَرَادَهُ اللَّهُ " . قَالَ فَجَاءَ الرَّجُلُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْجَارِيَةَ الَّتِي كُنْتُ ذَكَرْتُهَا لَكَ حَمَلَتْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ" .
سفیان بن عیینہ نے ہمیں سعید بن حسان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عروہ بن عیاض سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا ، اور کہا : میرے پاس میری ایک لونڈی ہے ، میں اس سے عزل کرتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بے شک یہ ( عزل ) ایسی کسی چیز کو نہیں روک سکتا جس کا اللہ نے ارادہ کیا ہو ۔ " کہا : وہ شخص ( دوبارہ ) حاضرِ خدمت ہوا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول! وہ لونڈی جس کا میں نے آپ سے ذکر کیا تھا ، حاملہ ہو گئی ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں ۔ ( میں جو کہتا ہوں اللہ کی طرف سے کہتا ہوں)
ابو احمد زبیری نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں مکہ کے قصہ گو سعید بن حسان نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے عروہ بن عیاض بن عدی بن خیار نوفلی نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے کہا : ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ ( آگے ) سفیان کی حدیث کے ہم معنی ( ہے)
ہمیں ابوبکر بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے حدیث بیان کی ، ( انہوں نے کہا ) ہمیں سفیان نے عمرو سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم عزل کرتے تھے جبکہ قرآن نازل ہو رہا ہوتا تھا ۔ اسحاق نے اضافہ کیا : سفیان نے کہا : اگر یہ ایسی چیز ہوتی جس سے منع کیا جانا ( ضروری ) ہوتا تو قرآن ہمیں ( ضرور ) اس سے منع کرتا
حدیث 3560 — صحيح مسلم 16:162
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ لَقَدْ كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
معقل نے ہمیں عطاء سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں عزل کیا کرتے تھے
حدیث 3561 — صحيح مسلم 16:163
وَحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، - يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ - حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَلَغَ ذَلِكَ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَنْهَنَا .
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عزل کرتے تھے ۔ یہ بات اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ہمیں منع نہیں فرمایا
محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے یزید بن خُمَیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے عبدالرحمٰن بن جبیر سے سنا وہ اپنے والد ( جبیر بن نفیر ) سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے ابودرداء رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیمے کے دروازے پر کھڑی ایک پورے دِنوں کی حاملہ عورت ( لونڈی ) کے پاس سے گزرے ، آپ نے فرمایا : " شاید وہ ( اس کا مالک ) چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ مجامعت کرے؟ " صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی : جی ہاں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے ارادہ کیا کہ اس پر ایسی لعنت بھیجوں جو اس کی قبر میں اس کے ساتھ جائے ۔ ایسا کام کرنے والا کیسے اس ( طرح کے بچے ) کو وارث بنائے گا ، جبکہ وہ ( وارث بنانا ) اس کے لیے حلال نہیں ۔ وہ کیسے اس سے خدمت لے گا ( اسے غلام بنائے گا؟ ) جبکہ ( اس بچے کے پیٹ میں ہونے کے دوران میں اس کی ماں سے مباشرت کرنے کی بنا پر اس بچے/بچی کو غلام/کنیز بنانا ) اس کے لیے حلال نہیں