قرآني·Qurani
اردو

الفضائل

5785 احادیث · #384–6168

حدیث 3604 — صحيح مسلم 17:37
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، - وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ نَافِعٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ زَيْنَبَ، بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ تَقُولُ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَقُولُ لِعَائِشَةَ وَاللَّهِ مَا تَطِيبُ نَفْسِي أَنْ يَرَانِي الْغُلاَمُ قَدِ اسْتَغْنَى عَنِ الرَّضَاعَةِ ‏.‏ فَقَالَتْ لِمَ قَدْ جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ إِنِّي لأَرَى فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ ‏.‏ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرْضِعِيهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ إِنَّهُ ذُو لِحْيَةٍ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَرْضِعِيهِ يَذْهَبْ مَا فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ وَاللَّهِ مَا عَرَفْتُهُ فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ ‏.‏
بُکَیر سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے حمید بن نافع سے سنا وہ کہہ رہے تھے ، میں نے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ کہہ رہی تھیں : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہہ رہی تھیں : اللہ کی قسم! میرے دل کو یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ مجھے کوئی ایسا لڑکا دیکھے جو رضاعت سے مستغنی ہو چکا ہے ۔ انہوں نے پوچھا : کیوں؟ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تھیں ، انہوں نے عرض کی تھی : اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں سالم کے ( گھر میں ) داخلے کی وجہ سے ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر ناگواری سی محسوس کرتی ہوں ، کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اسے دودھ پلا دو ۔ "" اس نے کہا : وہ تو داڑھی والا ہے ۔ آپ نے فرمایا : "" اسے دودھ پلا دو ، اس سے وہ ناگواری ختم ہو جائے گی جو ابوحذیفہ کے چہرے پر ہے ۔ "" ( سہلہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : اللہ کی قسم! ( اس کے بعد ) میں نے ابوحذیفہ رضی اللہ عنہا کے چہرے پر ( کبھی ) ناگواری محسوس نہیں کی
حدیث 3605 — صحيح مسلم 17:38
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ، خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، أَنَّ أُمَّهُ، زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّهَا أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانَتْ تَقُولُ أَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ أَحَدًا بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ وَاللَّهِ مَا نَرَى هَذَا إِلاَّ رُخْصَةً أَرْخَصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِسَالِمٍ خَاصَّةً فَمَا هُوَ بِدَاخِلٍ عَلَيْنَا أَحَدٌ بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ وَلاَ رَائِينَا
ابوعبیدہ بن عبداللہ بن زمعہ نے مجھے خبر دی کہ ان کی والدہ زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ ان کی والدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہاکہا کرتی تھیں : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج نے اس بات سے انکار کیا کہ اس ( بڑی عمر کی ) رضاعت کی وجہ سے کسی کو اپنے گھر میں داخل ہونے دیں ، اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : اللہ کی قسم! ہم اسے محض رخصت خیال کرتی ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر سالم رضی اللہ عنہ کو دی تھی ، لہذا اس ( طرح کی ) رضاعت کی وجہ سے نہ کوئی ہمارے پاس آنے والا بن سکے گا اور نہ ہمیں دیکھنے والا
حدیث 3606 — صحيح مسلم 17:39
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدِي رَجُلٌ قَاعِدٌ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ‏.‏ قَالَتْ فَقَالَ ‏ "‏ انْظُرْنَ إِخْوَتَكُنَّ مِنَ الرَّضَاعَةِ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ‏
ابواحوص نے ہمیں اشعث سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے ، اور انہوں نے مسروق سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے جبکہ میرے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا ۔ یہبات آپ پر گراں گزری ، اور میں نے آپ کے چہرے پر غصہ دیکھا ، کہا : تو میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! یہ رضاعت ( کے رشتے سے ) میرا بھائی ہے ، کہا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( تم خواتین ) اپنے رضاعی بھائیوں ( کے معاملے ) کو دیکھ لیا کرو ( اچھی طرح غور کر لیا کرو ) کیونکہ رضاعت بھوک ہی سے ( معتبر ) ہے
حدیث 3607 — صحيح مسلم 17:40
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالاَ، جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، بِإِسْنَادِ أَبِي الأَحْوَصِ كَمَعْنَى حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّهُمْ قَالُوا ‏ "‏ مِنَ الْمَجَاعَةِ ‏
شعبہ ، سفیان اور زائدہ سب نے اشعث بن ابو شعثاء سے ابواحوص کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ، مگر انہوں نے ( بھی ) من المجاعة کے الفاظ کہے
حدیث 3608 — صحيح مسلم 17:41
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ، بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ حُنَيْنٍ بَعَثَ جَيْشًا إِلَى أَوْطَاسٍ فَلَقُوا عَدُوًّا فَقَاتَلُوهُمْ فَظَهَرُوا عَلَيْهِمْ وَأَصَابُوا لَهُمْ سَبَايَا فَكَأَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَحَرَّجُوا مِنْ غِشْيَانِهِنَّ مِنْ أَجْلِ أَزْوَاجِهِنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ ‏{‏ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ‏}‏ أَىْ فَهُنَّ لَكُمْ حَلاَلٌ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ ‏.‏
یزید بن زُرَیع نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سعید بن ابوعروبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوخلیل صالح سے ، انہوں نے ابوعلقمہ ہاشمی سے اور انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حنین کے دن ( جنگ میں فتح حاصل کرنے کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوطاس کی جانب ایک لشکر بھیجا ، ان کا دشمن سے سامنا ہوا ، انہوں نے ان ( دشمنوں ) سے لڑائی کی ، پھر ان پر غالب آ گئے اور ان میں سے کنیزیں حاصل کر لیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بعض لوگوں نے ان کے مشرک خاوندوں ( کی موجودگی ) کی بنا پر ان سے مجامعت کرنے میں حرج محسوس کیا ، اس پر اللہ عزوجل نے اس کے بارے میں ( یہ آیت ) نازل فرمائی : " اور شادی شدہ عورتیں ( بھی حرام ہیں ) سوائے ان ( لونڈیوں ) کے جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ ہوں ۔ " یعنی جب ان کی عدت پوری ہو جائے تو ( تمہاری لونڈیاں بن جانے کی بنا پر ) وہ تمہارے لیے حلال ہیں
حدیث 3609 — صحيح مسلم 17:42
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ، الأَعْلَى عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، أَنَّ أَبَا عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيَّ، حَدَّثَ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ يَوْمَ حُنَيْنٍ سَرِيَّةً ‏.‏ بِمَعْنَى حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْهُنَّ فَحَلاَلٌ لَكُمْ وَلَمْ يَذْكُرْ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ ‏
عبدالاعلی نے ہمیں سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے قتادہ سے ، انہوں نے ابوخلیل سے روایت کی کہ ابوعلقمہ ہاشمی نے حدیث بیان کی ، انہیں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن ایک سریہ بھیجا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) یزید بن زریع کی حدیث کے ہم معنی ہے لیکن انہوں نے کہا : سوائے ان ( لونڈیوں ) کے جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ ہوں ، وہ تمہارے لیے حلال ہیں ۔ اور انہوں نے " جب ان کی عدت پوری ہو جائے " کے الفاظ ذکر نہیں کیے ۔ ( اس سریہ میں جو کنیزیں ہاتھ آئیں یہ واقعہ ان کے بارے میں ہے)
حدیث 3610 — صحيح مسلم 17:44
وَحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
شعبہ نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی
حدیث 3611 — صحيح مسلم 17:43
وَحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ أَصَابُوا سَبْيًا يَوْمَ أَوْطَاسٍ لَهُنَّ أَزْوَاجٌ فَتَخَوَّفُوا فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ‏}‏ ‏.‏
شعبہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوخلیل سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : اوطاس کے دن صحابہ کو لونڈیاں ملیں جن کے خاوند بھی تھے ، اس پر وہ ( ان سے تعلقات ، قائم کرتے ہوئے ) ڈرے ( کہ یہ گناہ نہ ہو ) اس پر یہ آیت نازل کی گئی : " اور شادی شدہ عورتیں ( بھی حرام ہیں ) سوائے ان ( لونڈیوں ) کے جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہو جائیں
حدیث 3612 — صحيح مسلم 17:45
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی
حدیث 3613 — صحيح مسلم 17:46
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتِ اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلاَمٍ فَقَالَ سَعْدٌ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَىَّ أَنَّهُ ابْنُهُ انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ هَذَا أَخِي يَا رَسُولَ اللَّهِ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى شَبَهِهِ فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ فَقَالَ ‏"‏ هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ الْوَلَدُ لِلْفِرَاَشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ زَمْعَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَلَمْ يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ وَلَمْ يَذْكُرْ مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَوْلَهُ ‏"‏ يَا عَبْدُ ‏"‏ ‏.‏
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رُمح نے کہا : لیث نے ہمیں ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما نے ایک لڑکے کے بارے میں جھگڑا کیا ۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے ، اس نے مجھے وصیت کی تھی کہ یہ اس کا بیٹا ہے ، آپ اس کی مشابہت دیکھ لیں ۔ عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ میرا بھائی ہے ، اللہ کے رسول! یہ میرے باپ کی لونڈی سے اسی کے بستر پر پیدا ہوا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مشابہت دیکھی تو آپ نے واضھ طور پر عتبہ کے ساتھ مشابہت ( بھی ) محسوس کی ، اس کے بعد آپ نے فرمایا : "" عبد! یہ تمہارا ( بھائی ) ہے ۔ ( اس کا سبب یہ ہے کہ ) بچہ صاحب فراش کا ہے ، اور زنا کرنے والے کے لیے پتھر ( ناکامی اور محرومی ) ہے ۔ اور سودہ بنت زمعہ! ( تم ) اس سے پردہ کرو ۔ "" اس کے بعد اس نے کبھی حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دیکھا ۔ اور محمد بن رمح نے آپ کے الفاظ "" يا عبد "" ذکر نہیں کیے
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔