سفیان بن عیینہ اور معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔ لیکن معمر اور ابن عیینہ کی حدیث میں ہے : " بچہ صاحب فراش کا ہے " اور ان دونوں نے " زانی کے لیے پتھر ہے " کے الفاظ ذکر نہیں کیے
معمر نے زہری سے خبر دی ، انہوں نے ابن مسیب اور ابوسلمہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بچہ بستر والے کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ( ناکامی اور محرومی ) ہے
سعید بن منصور ، زہیر بن حرب ، عبدالاعلیٰ بن حماد اور عمرو ناقد سب نے کہا : ہمیں سفیان نے زہری سے خبر دی ۔ ابن منصور نے کہا : سعید نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ عبدالاعلی نے کہا : ابوسلمہ سے یا سعید سے روایت ہے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ زہیر نے کہا : سعید یا ابوسلمہ نے ان دونوں میں سے ایک نے یا دونوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ اور عمرو نے ایک بار کہا : ہمیں سفیان نے زہری کے حوالے سے سعید اور ابوسلمہ سے ، اور ایک بار کہا : سعید یا ابوسلمہ سے ، اور ایک بار کہا : سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ۔ ۔ ( آگے ) جس طرح معمر کی حدیث ہے
لیث نے ہمیں ابن شہاب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش خوش میرے پاس تشریف لائے ، آپ کے چہرے ( پیشانی ) کے خطوط چمک رہے تھے ، آپ نے فرمایا : " تم نے دیکھا نہیں کہ ابھی ابھی ( بنو مدلج کے قیافہ شناس ) مُجزز نے زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو دیکھا ہے ، اور کہا ہے : ان قدموں میں سے ایک ( قدم ) دوسرے میں سے ہے ۔ " ( ایک بیٹے کا ہے ، دوسرا باپ کا)
سفیان نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش خوش میرے پاس تشریف لائے ۔ اور فرمایا : " عائشہ! کیا تم نے دیکھا نہیں کہ مجزز مدلجی میرے پاس آیا ، اس نے اسامہ اور زید کو دیکھا ، ان دونوں پر ایک چادر تھی جس نے ان کے سروں کو ڈھانپا ہوا تھا اور ان کے پاؤں ننگے تھے تو اس نے کہا : بلاشبہ یہ قدم ایک دوسرے میں سے ہیں
حدیث 3619 — صحيح مسلم 17:52
وَحَدَّثَنَاهُ مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ قَائِفٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَاهِدٌ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ مُضْطَجِعَانِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ . فَسُرَّ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَعْجَبَهُ وَأَخْبَرَ بِهِ عَائِشَةَ .
ابراہیم بن سعد نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک قیافہ شناس آیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے ، اسامہ بن زید اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم ( ایک چادر میں ) لیٹے ہوئے تھے تو اس نے کہا : بلاشبہ یہ قدم ایک دوسرے میں سے ہیں ۔ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشی ہوئی اور آپ کو بہت اچھا لگا ، آپ نے یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی بتائی
یونس ، معمر اور ابن جریج سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ ، ان ( لیث ، سفیان اور ابراہیم بھی سعد ) کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی اور ( ابن وہب نے ) یونس کی حدیث میں یہ اضافہ کیا : اور مجزز ایک قیافہ شاس تھا
محمد بن ابوبکر نے عبدالملک بن ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو ان کے ہاں تین دن قیام کیا اور فرمایا : " اپنے اہل ( شوہر ) کے نزدیک تمہاری قدر و منزلت میں کسی طرح کی کمی نہیں ، اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس ( قیام کے لیے ) سات دن رکھ لیتا ہوں اور اگر میں نے تمہارے ہاں سات دن قیام کیا تو اپنی ساری بیویوں کے ہاں سات سات دن قیام کروں گا
عبداللہ بن ابوبکر نے عبدالملک بن ابوبکر سے ، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہائش پذیر ہو گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا : " اپنے شوہر کے سامنے تمہارے مرتبے میں کوئی کمی نہیں ، اگر تم چاہو تو میں تمہارے ہاں سات دن قیام کروں گا ، اور اگر تم چاہو تو تین دن قیام کروں گا پھر ( باری باری ) سب کے ہاں جانا شروع کروں گا ۔ " ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : آپ تین دن قیام فرمائیں
حدیث 3623 — صحيح مسلم 17:56
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ عَبْدِ، الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَأَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ أَخَذَتْ بِثَوْبِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنْ شِئْتِ زِدْتُكِ وَحَاسَبْتُكِ بِهِ لِلْبِكْرِ سَبْعٌ وَلِلثَّيِّبِ ثَلاَثٌ" .
سلیمان بن بلال نے ہمیں عبدالرحمٰن بن حُمَید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبدالملک بن ابوبکر سے ، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو آپ ان کے پاس گئے ، اس کے بعد آپ نے نکلنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے آپ کے کپڑے کو پکڑ لیا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر تم چاہو تو میں مزید تمہارے ہاں قیام کروں گا اور تمہارے ساتھ اس کا حساب رکھوں گا ، کنواری کے لیے سات راتیں ہیں اور ثیبہ ( دوہاجو ) کے لیے تین راتیں ہیں