عبدالواحد بن ایمن نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں ( عبدالواحد ) نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( ام سلمہ رضی اللہ عنہا ) سے شادی کی ، اور بہت سی باتوں کا ذکر کیا ، ان میں یہ بات بھی تھی : آپ نے فرمایا : " اگر تم چاہو کہ میں تمہارے ہاں سات سات دن قیام کروں ( تو ہو سکتا ہے ) اور اگر میں نے تمہارے ہاں سات دن قیام کیا تو اپنی ساری بیویوں کے ہاں سات سات دن قیام کروں گا
ہشیم نے ہمیں خالد سے خبر دی ، انہوں نے ابوقلابہ سے ، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب کوئی دوہاجو جو ( ثیبہ ) کے بعد باکرہ سے شادی کرے تو اس کے ہاں سات دن قیام کرے اور جب باکرہ کے بعد کسی ثیبہ سے شادی کرے تو اس کے ہاں تین دن قیام کرے ۔ خالد نے کہا : اگر میں کہوں کہ انہوں نے اسے مرفوعا بیان کیا ہے ، تو میں سچ کہوں گا لیکن انہوں نے کہا تھا : سنت اسی طرح ہے ۔ ( یہ حدیث کو مرفوع کرنے کے مترادف ہے)
حدیث 3627 — صحيح مسلم 17:60
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، وَخَالِدٍ، الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يُقِيمَ، عِنْدَ الْبِكْرِ سَبْعًا . قَالَ خَالِدٌ وَلَوْ شِئْتُ قُلْتُ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
سفیان نے ایوب اور خالد حذاء سے خبر دی ، انہوں نے ابوقلابہ سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : سنت میں سے ہے کہ ( دلہا ) باکرہ کے ہاں سات راتیں قیام کرے ۔ خالد نے کہا : اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں : انہوں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعا بیان کیا ہے
حدیث 3628 — صحيح مسلم 17:61
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تِسْعُ نِسْوَةٍ فَكَانَ إِذَا قَسَمَ بَيْنَهُنَّ لاَ يَنْتَهِي إِلَى الْمَرْأَةِ الأُولَى إِلاَّ فِي تِسْعٍ فَكُنَّ يَجْتَمِعْنَ كُلَّ لَيْلَةٍ فِي بَيْتِ الَّتِي يَأْتِيهَا فَكَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ فَجَاءَتْ زَيْنَبُ فَمَدَّ يَدَهُ إِلَيْهَا فَقَالَتْ هَذِهِ زَيْنَبُ . فَكَفَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ . فَتَقَاوَلَتَا حَتَّى اسْتَخَبَتَا وَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَمَرَّ أَبُو بَكْرٍ عَلَى ذَلِكَ فَسَمِعَ أَصْوَاتَهُمَا فَقَالَ اخْرُجْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَى الصَّلاَةِ وَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ . فَخَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ عَائِشَةُ الآنَ يَقْضِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم صَلاَتَهُ فَيَجِيءُ أَبُو بَكْرٍ فَيَفْعَلُ بِي وَيَفْعَلُ . فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم صَلاَتَهُ أَتَاهَا أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَهَا قَوْلاً شَدِيدًا وَقَالَ أَتَصْنَعِينَ هَذَا
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں ، جب آپ ان میں باری تقسیم فرماتے تو پہلی باری والی بیوی کے پاس نویں رات ہی پہنچتے ۔ وہ سب ہر رات اس ( بیوی کے ) گھر میں جمع ہو جاتی تھیں جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوتے ، حضرت زینب رضی اللہ عنہا آئیں تو آپ نے اپنا ہاتھ ان کی طرف پھیلایا ۔ انہوں ( عائشہ رضی اللہ عنہا ) نے کہا : یہ زینب ہیں آپ نے اپنا ہاتھ روک لیا ، اس پر ان دونوں میں تکرار ہو گئی حتی کہ ان کی آوازیں بلند ہو گئیں ، اور ( اسی دوران میں ) نماز کی اامت ہو گئی ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا ، انہوں نے ان کی آوازیں سنیں تو کہا : اے اللہ کے رسول! آپ نماز کے لیے تشریف لائیے اور ان کے منہ میں مٹی ڈالیے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : ابھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز پوری کریں گے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ آئیں گے وہ مجھے ایسے ایسے ( ڈانٹ ڈپٹ ) کریں گے ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی ، ابوبکر رضی اللہ عنہ ان ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ) کے پاس آئے اور انہیں سخت سرزنش کی ۔ اور کہا : کیا تم ایسا کرتی ہو؟
حدیث 3629 — صحيح مسلم 17:62
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا رَأَيْتُ امْرَأَةً أَحَبَّ إِلَىَّ أَنْ أَكُونَ فِي مِسْلاَخِهَا مِنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ مِنِ امْرَأَةٍ فِيهَا حِدَّةٌ قَالَتْ فَلَمَّا كَبِرَتْ جَعَلَتْ يَوْمَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِعَائِشَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ جَعَلْتُ يَوْمِي مِنْكَ لِعَائِشَةَ . فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْسِمُ لِعَائِشَةَ يَوْمَيْنِ يَوْمَهَا وَيَوْمَ سَوْدَةَ .
جریر نے ہمیں ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد ( عروہ بن زبیر ) سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے کوئی عورت نہیں دیکھی جو مجھے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کی نسبت زیادہ پسندیدہ ہو کہ میں اس کے پیکر میں ہوں ( اس جیسی بن جاؤں ) ایک ایسی خاتون کی نسبت جن میں کچھ گرم مزاجی ( بھی ) تھی ، کہا : جب وہ بوڑھی ہو گئیں تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی باری کا دن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا ۔ انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کے ساتھ اپنی باری کا دن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا ہے ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کو دو دن دیتے ، ایک ان کا دن اور ایک حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کا دن
عقبہ بن خالد ، زہیر اور شریک ، ان سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا جب بوڑھی ہو گئیں ۔ ۔ ۔ آگے جریر کی حدیث کے ہم معنی ہے اور شریک کی حدیث میں یہ اضافہ ہے : وہ پہلی خاتون تھیں جن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بعد نکاح کیا
ابواسامہ نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد ( عروہ ) سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں ان عورتوں پر غیرت کرتی تھی جو اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بطور ہبہ پیش کرتی تھیں ، میں کہتی : کیا کوئی عورت بھی خود کو ہبہ کر سکتی ہے؟ جب اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا : " آپ ان عورتوں میں سے جسے چاہیں پیچھے کر دیں اور جسے چاہیں اپنے پاس جگہ دیں اور جسے آپ نے الگ کر دیا تھا ان میں سے بھی جسے آپ کا دل چاہے لائیں ۔ " کہا : تو میں نے کہا : اللہ کی قسم! میں آپ کے رب کو نہیں دیکھتی مگر وہ آپ کے لیے آپ کی خواہش ( کو پورا کرنے ) میں جلدی کرتا ہے
عبدہ بن سلیمان نے ہشام سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد ( عروہ ) سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سےروایت کی ، وہ کہاکرتی تھیں : کیا اس عورت کو حیا محسوس نہیں ہوتی جو خود کو کسی مرد کے لیے ہبہ کرتی ہے ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا : " آپ ان عورتوں میں سے جسے چاہیں پیچھے کریں اور جسے چاہیں اپنے پاس جگہ دیں ۔ " تو میں نے کہا : بلاشبہ آپ کا رب آپ کی خواہش ( کو پورا کرنے ) میں جلدی کرتا ہے
حدیث 3633 — صحيح مسلم 17:66
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، قَالَ حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِسَرِفَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَذِهِ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا فَلاَ تُزَعْزِعُوا وَلاَ تُزَلْزِلُوا وَارْفُقُوا فَإِنَّهُ كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تِسْعٌ فَكَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ وَلاَ يَقْسِمُ لِوَاحِدَةٍ . قَالَ عَطَاءٌ الَّتِي لاَ يَقْسِمُ لَهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىِّ بْنِ أَخْطَبَ .
محمد بن بکر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا : مجھے عطاء نے خبر دی ، کہا : سرف کے مقام پر ہم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں حاضر ہوئے تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ ہیں ۔ جب تم ان کی چارپائی اٹھاؤ تو اس کو ادھر اُدھر حرکت دینا نہ ہلانا ، نرمی ( اور احترام ) سے کام لینا ، امر واقع یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں ، آپ آٹھ کے لیے باری تقسیم کرتے اور ایک کے لیے تقسیم نہ کرتے تھے ۔ عطاء نے کہا : جن کو آپ باری نہیں دیتے تھے وہ حضرت صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا تھیں