وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ تُصِيبُهُ جَنَابَةٌ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ ثُمَّ نَمْ " .
عبداللہ بن دینار سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسو ل اللہ ﷺ کے سامنے ذکر کیا کہ رات کے وقت وہ جنابت سے دو چار ہو جاتے ہیں ۔ تو رسول اللہ ﷺنے ان سے کہا : ’’وضو کر اور ( اس سے پہلے ) اپناعضو مخصوص دھولو ، پھر سو جاؤ ۔ ‘ ‘
لیث نے معاویہ بن صالح سے ، انہوں نے عبد اللہ بن ابی قیس سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے وتر کے بارے میں سوال کیا ..... پھر آگے حدیث بیان کی کہ میں نے پوچھا : آپ ﷺ جنابت کی صورت میں کیا کرتے تھے؟ کیا سونے سے پہلے غسل فرماتے تھے یا غسل سے پہلے سوجاتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : آپ یہ سب کر لیتے تھے ، بسااوقات نہا کرسوتےاور بسا اوقات وضو کر کے سو جاتے ۔ میں نے کہا : اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے ( دین کے ) معاملے میں وسعت رکھی ہے ۔
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں حفص بن غیاث نے حدیث سنائی ، نیز ابو کریب نے کہا : ہمیں ابن ابی زائدہ نے خبر دی ، نیز عمرو ناقد اور ابن نمیر نے کہا : ہمیں مروان بن معاویہ فزاری نے حدیث سنائی ، ان سب ( حفص ، ابن ابی زائدہ اور مروان ) نے عاصم سے ، انہوں نے ابومتوکل سے اور انہو ں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کسی نے اپنی بیوی سے مباشرت کر لی ، پھر سے کرنا چاہے تو وہ وضو کر لے ۔ ‘ ‘ ( حفص بن غیاث سے روایت کرنے والے ) ابو بکر نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا : دونوں بار کے درمیان وضو کر لے ، نیز أن يعود ( پھر سے ) کے بجائےأن يعاود ( دوبارہ ) کے الفاظ استعمال کیے ۔
حدیث 708 — صحيح مسلم 3:30
وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، - يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ الْحَذَّاءَ - عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ .
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ ایک ہی غسل سے اپنی ( ایک سے زیادہ ) بیویوں کے پاس جاتے تھے ۔
اسحاق بن ابی طلحہ نےکہاکہ مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنائی کہ ام سلیم رضی اللہ عنہ جو ( حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ اور ) اسحاق کی دادی تھیں ، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے کہنے لگیں جبکہ حضرت عائشہ ؓ بھی آپ کے پاس موجود تھیں ، اے اللہ کے رسول ! عورت بھی نیند کے عالم میں اسی طرح خواب دیکھتی ہے جس طرح مرد دیکھتا ہے ، وہ اپنے آپ سے وہی چیز ( نکلتی ہوئی ) دیکھتی ہے جو مرد اپنے حوالے سے دیکھتا ہے ( تو وہ کیا کرے ؟ ) حضرت عائشہ ؓ کہنے لگیں : ام سلیم ! تو نے عورتوں کو رسوا کر دیا ، تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو ( ان کا یہ کہا کہ تیرادایاں ہاتھ خاک آلود ہو ، بری نہیں بلکہ اچھی بات تھی ) تو آپﷺ نے عائشہ ؓ سےفرمایا : ’’بلکہ تمہارا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو ۔ ہاں ام سلیم!جب وہ یہ دیکھے تو غسل کرے ۔ ‘ ‘
حدیث 710 — صحيح مسلم 3:32
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ حَدَّثَتْ أَنَّهَا، سَأَلَتْ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا رَأَتْ ذَلِكِ الْمَرْأَةُ فَلْتَغْتَسِلْ " . فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَاسْتَحْيَيْتُ مِنْ ذَلِكَ قَالَتْ وَهَلْ يَكُونُ هَذَا فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ فَمِنْ أَيْنَ يَكُونُ الشَّبَهُ إِنَّ مَاءَ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ وَمَاءَ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ فَمِنْ أَيِّهِمَا عَلاَ أَوْ سَبَقَ يَكُونُ مِنْهُ الشَّبَهُ " .
قتادہ سےروایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث سنائی کہ ام سلیم ؓ نے ( انہیں ) بتایا کہ انہوں نے نبی اکرمﷺ سے ایسی عورت کے بارے میں پوچھا جونیند میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب عورت یہ چیز دیکھے تو غسل کرے ۔ ‘ ‘ ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ نے فرمایا : میں اس بات پر شرما گئی ۔ ( پھر ) آپ بولیں : کیا ایسا بھی ہوتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ہاں ، ( ورنہ ) پھر مشابہت کیسے پیدا ہوتی ہے ؟مرد کا پانی گاڑھا سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا اور زرد ہوتا ہے ، ان دونوں میں سے جس ( کے حصے ) کو غلبہ مل جائے یا ( نئی تشکیل میں ) سبقت لے جائے تو اسی سے ( بچے کی ) مشابہت ہوتی ہے ۔ ‘ ‘
ابو مالک اشجعی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے اس عورت کےبارے میں پوچھا جو نیند میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد اپنی نیند میں دیکھتا ہے تو آپ نے فرمایا : ’’ جب اس کو وہ صورت پیش آئے جو مرد کو پیش آتی ہے تو وہ غسل کرے ۔ ‘ ‘
حدیث 712 — صحيح مسلم 3:34
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لاَ يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ فَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا احْتَلَمَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ " . فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ فَقَالَ " تَرِبَتْ يَدَاكِ فَبِمَ يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا " .
ابو معاویہ نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنےوالد سے ، انہوں نے زینب بنت ابی سلمہ سے اور انہوں نے ( اپنی والدہ ) حضرت ام سلمہ ؓسے روایت کی کہ ام سلیم ؓ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ حق سے حیا محسوس نہیں کرتا تو کیا عورت کو احتلام ہو جائے تو اس پر غسل ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ ہاں ، جب ( منی کا ) پانی دیکھے ۔ ‘ ‘ ام سلمہؓ نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے ؟آپ نے فرمایا : ’’تیرے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں ، اس کا بچہ اس کے مشابہ کیسے ہو جاتا ہے ! ‘ ‘ ( یعنی نطفے کی تشکیل میں دونوں کے مادے کا حصہ ہوتا ۔)
ہشام کے دو شاگردوں وکیع اور سفیان نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ اسی ( سابقہ حدیث ) کے ہم معنی حدیث بیان کی لیکن انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے : ام سلمہ ؓ نے بتایا کہ میں نے کہا : تو نے عورتوں کو رسوا کر دیا ۔ ( حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ ؓ دونوں موجود تھیں ، تعجب کی بنا پر دونوں کے منہ سے یہی بات نکلی ۔)