وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ أُمَّ بَنِي أَبِي طَلْحَةَ دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِمَعْنَى حَدِيثِ هِشَامٍ غَيْرَ أَنَّ فِيهِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ لَهَا أُفٍّ لَكِ أَتَرَى الْمَرْأَةُ ذَلِكِ
ابن شہاب نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت عائشہ ؓ نے انہیں بتایا کہ ام سلیم ؓ جو ابو طلحہ کےبیٹوں کی ماں ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں .... آگے ہشام کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا ۔ البتہ اس میں یہ ہے کہ انہوں ( عروہ ) نے کہا : حضرت عائشہ ؓ نے کہا : میں نے اس سے کہا : تجھ پر افسوس ! کیا عورت کو بھی ایسا نظر آتا ہے ؟
مسافع بن عبد اللہ نے عروہ بن زبیر سے ، انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی : کیا جب عورت کواحتلام ہو جائے اور وہ پانی دیکھے توغسل کرے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ۔ ‘ ‘ عائشہ ؓ نے اس عورت سےکہا : تیرے ہاتھ خاک آلود اور زخمی ہوں ۔ انہوں ( عائشہ ؓ ) نے کہا : تو رسول اللہ ﷺ نےفرمایا : ’’اسے کچھ نہ کہو ، کیا ( بچے کی ) مشابہت اس کے علاوہ کسی اور وجہ سے ہوتی ہے ! جب ( نطفے کی تشکیل کے مرحلے میں ) اس کا پانی مرد کے پانی پر غالب آ جاتا ہے تو بچہ اپنے ماموؤں کے مشابہ ہوتا ہے اور جب مرد کاپانی عورت کے پانی پر غالب آتا ہے تو بچہ اپنے چچاؤں کےمشابہ ہوتا ہے ۔ ‘ ‘
ابو توبہ نے ، جو ربیع بن نافع ہیں ، ہم سے حدیث بیان کی ، کہا : معاویہ بن سلام نے ہمیں اپنےبھائی زید سے حدیث سنائی ، کہا : انہوں نے ابوسلام سے سنا ، کہا : مجھ سے ابو اسماء رحبی نے بیان کیا کہ نبی اکرمﷺ کے آزادکردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ حدیث سنائی ، کہا : میں رسول ا للہ ﷺ کے پاس کھڑا تھا ایک یہودی عالم ( حبر ) آپ کے پاس آیا اورکہا : اے محمد! آپ پر سلام ہو ، میں نے اس کو اتنے زور سے دھکا دیا کہ وہ گرتے گرتے بچا ۔ اس نے کہا : مجھے دھکا کیوں دیتے ہو؟ میں نے کہا : تم یا رسول اللہ ! نہیں کہہ سکتے ؟ یہودی نے کہا : ہم تو آپ کو اسی نام سے پکارتے ہیں جو آپ کے گھر والوں نے آپ کا رکھا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’یقیناً میرا نام محمد ( ﷺ ) ہے جو میرے گھر والوں نے رکھا ہے ۔ ‘ ‘ یہودی بولا : میں آپ سے پوچھنے آیا ہوں ۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا : ’’اگر میں تمہیں کچھ بتاؤں گا تو کیا تمہیں اس سے فائدہ ہو گا؟ ‘ ‘ اس نے کہا : میں اپنے دونوں کانو ں سے توجہ سے سنوں گا ۔ تورسول اللہ ﷺ نے ایک چھڑی ، جو آپ کے پاس تھی ، زمین پر آہستہ آہستہ ماری اور فرمایا : ’’پوچھو ۔ ‘ ‘ یہودی نے کہا : جس دن زمین دوسری زمین سے بدلے گی اور آسمان ( بھی ) بدلے جائیں گے تو لوگ کہاں ہوں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ وہ پل ( صراط ) سے ( ذرا ) پہلے اندھیرے میں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا : ’’فقرائے مہاجرین ۔ ‘ ‘ یہودی نے پوچھا : جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو ان کو کیا پیش کیا جائےگا؟ تو آپ نے فرمایا : ’’مچھلی کےجگر کا زائد حصہ ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اس کے بعد ان کا کھانا کیا ہوگا؟ آپ نے فرمایا : ’’ان کے لیے جنت میں بیل ذبح کیا جائے گا جو اس کے اطراف میں چرتا پھرتا ہے ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اس ( کھانے ) پر ان مشروب کیا ہو گا؟آپ نے فرمایا : ’’اس ( جنت ) کے سلسبیل نامی چشمے سے ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : آپ نے سچ کہا ، پھر کہا : میں آپ سے ایک چیز کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں جسے اہل زمین سے محض ایک بنی جانتا ہے یاایک دو اور انسان ۔ آپ نےفرمایا : ’’اگر میں تمہیں بتا دیا تو کیا تمہیں اس سے فائدہ ہوگا؟ ‘ ‘ اس نے کہا : میں کان لگا کر سنوں گا ۔ اس نے کہا : میں آپ سے اولاد کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں ۔ آپ نےفرمایا : ’’ مرد کا پانی سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی زرد ، جب دونوں ملتے ہیں اور مرد کا مادہ منویہ عورت کی منی سے غالب آ جاتا ہے تو اللہ کے حکم سے دونوں کے ہاں بیٹا پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کی منی مرد کی منی پر غالب آ جاتی ہے تو اللہ عزوجل کے حکم سے دونوں کےہاں بیٹی پیدا ہوتی ۔ ‘ ‘ یہودی نے کہا : آپ نے واقعی صحیح فرمایا اور آپ یقیناً نبی ہیں ، پھر وہ پلٹ کر چلا گیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اس نے مجھ سے جس چیز کے بارے میں سوال کیا اس وقت تک مجھے اس میں سے کسی چیز کا کچھ علم نہ تھاحتی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کا علم عطا کر دیا ۔ ‘ ‘
یحییٰ بن حسان نے ہمیں خبر دی کہ ہمیں معاویہ بن سلام نے اسی اسناد کے ساتھ اسی طرح حدیث سنائی ، سوائے اس کے کہ ( یحییٰ نے ) قائما ( کھڑا تھا ) کے بجائے قاعداً ( بیٹھاتھا ) کہا اور ( زیادۃ کبد النون کے بجائے ) زائدۃ کبدالنون کہا ( معنی ایک ہی ہے ) اور انہوں نے اذکر و آنت ( اس کے ہاں بیٹا اور بیٹی کی ولادت ہوتی ہے ) کے الفاظ کہے ، اور اذکر و آنثا ( ان دونوں کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہےاور ان دونوں کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی ہے ) کے الفاظ نہیں کہے ۔
ابو معاویہ نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے ر وایت کی کہ جب رسول اللہ ﷺ غسل جنابت فرماتے تو پہلے اپنے ہاتھ دھوتے ، پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اپنی شرم گاہ دھوتے ، پھر نماز کے وضو کی مانند وضو فرماتے ، پھر پانی لے کر انگلیوں کو بالوں کی جڑوں میں داخل کرتے ، جب آپ سمجھتے کہ آپ نے اچھی طرح جڑوں میں پانی پہنچا دیا ہے ۔ تواپنے سر پر دونوں ہاتھوں سے تین چلو ڈالتے ۔ پھر سارے جسم پر پانی ڈالتے ( اور جسم دھوتے ) پھر ( آخر میں ) اپنے دونوں پاؤں دھو لیتے ۔
جریر ، علی بن مسہر اور ابن نمیر نے ہشام کی اسی سند کے ساتھ ( یہ ) حدیث روایت کی لیکن ان ( تینوں ) کی حدیث میں پاؤں دھونے کا ذکر نہیں ہے ۔
حدیث 720 — صحيح مسلم 3:42
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ فَبَدَأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلاَثًا ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ غَسْلَ الرِّجْلَيْنِ .
وکیع نے ہشام کی اسی سند کے ساتھ حضرت عائشہ ؓ سے حدیث بیان کی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے جنابت سےغسل فرمایا ، آغاز کرتے ہوئے تین بار ہتھلیاں دھوئیں ..... پھر ابو معاویہ کی حدیث کی طرح بیان کیا ، تاہم پاؤں دھونے کا ذکر نہ کیا ۔
زائدہ نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت فرماتے ( تو ) اس طرح آغاز کرتے کہ برتن میں ہاتھ داخل کرنے سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے ، پھر نماز کے لیے اپنے وضو کی طرح وضو فرماتے ۔
عیسیٰ بن یونس نے ہم سے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہم سے اعمش نے حدیث بیان کی ، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے ، انہوں نے کریب سے ، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : مجھے میری خالہ میمونہ ؓ نے بتایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے غسل جنابت کے لیے آپ کے قریب پانی رکھا ، آپ نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دو یا تین دفعہ دھویا ، پھر اپنا ( دایاں ) ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اس کے ذریعے سے اپنی شرم گاہ پر پانی ڈالا اور اسے اپنے بائیں ہاتھ سے دھویا ، پھر اپنے بائیں ہاتھ کو زمین پر مار کر اچھی طرح رگڑ اور اپنا نماز جیسا وضو فرمایا ، پھر ہتھیلی بھر کر تین لپ پانی اپنے سر پر ڈالا ، پھر اپنے سارے جسم کو دھویا ، پھر اپنی اس جگہ سے دور ہٹ گئے اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے ، پھر میں تولیہ آپ کے پاس لائی تو آپ نے اسے واپس کر دیا ۔
وکیع اور ابو معاویہ نے اعمش کی سابقہ سندکے ساتھ یہ روایت بیان کی لیکن ان دونوں کی حدیث میں سر پر تین لپ ڈالنے کا ذکر نہیں ہے ۔ وکیع کی حدیث میں پورے وضو کی کیفیت کا بیان ہے ۔ اس میں ( انہوں نے ) کلی اور ناک میں پانی ڈالنے کا ذکر کیا ، اور ابو معاویہ کی حدیث میں تولیے کا ذکر نہیں ہے ۔