معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت کی کہ ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن کی جانب گئے اور اپنی بیوی فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو اس کی ( تین ) طلاقوں میں سے جو طلاق باقی تھی بھیج دی ، اور انہوں نے ان کے بارے میں ( اپنے عزیزوں ) حارث بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ سے کہا کہ وہ انہیں خرچ دیں ، تو ان دونوں نے ان ( فاطمہ ) سے کہا : اللہ کی قسم! تمہارے لیے کوئی خرچ نہیں الا یہ کہ تم حاملہ ہوتی ۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ کو ان دونوں کی بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہارے لیے خرچ نہیں ( بنتا ۔ ) " انہوں نے آپ سے نقل مکانی کی اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی ۔ انہوں نے پوچھا : اللہ کے رسول! کہاں؟ فرمایا : " ابن ام مکتوم کے ہاں ۔ " وہ نابینا تھے ، وہ ان کے سامنے اپنے ( اوڑھنے کے ) کپڑے اتارتیں تو وہ انہیں دیکھ نہیں سکتے تھے ۔ جب ان کی عدت پوری ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کر دیا ۔ اس کے بعد مروان نے اس حدیث کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے قبیصہ بن ذؤیب کو ان کے پاس بھیجا تو انہوں نے اسے یہ حدیث بیان کی ، اس پر مروان نے کہا : ہم نے یہ حدیث صرف ایک عورت سے سنی ہے ، ہم تو اسی مقبول طریقے کو تھامے رکھیں گے جس پر ہم نے تمام لوگوں کو پایا ہے ۔ جب فاطمہ رضی اللہ عنہا کو مروان کی یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا : میرے اور تمہارے درمیان قرآن فیصل ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : " تم انہیں ان کے گھروں سے مت نکالو ۔ " آیت مکمل کی ۔ انہوں نے کہا : یہ آیت تو ( جس طرح اس کے الفاظ ( لَعَلَّ ٱللَّـهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَٰلِكَ أَمْرًا ) ( الطلاق 1 : 65 ) سے ظاہر ہے ) اس ( شوہر ) کے لیے ہوئی جسے رجوع کا حق حاصل ہے ، اور تیسری طلاق کے بعد از سر نو کون سی بات پیدا ہو سکتی ہے؟ اور تم یہ بات کیسے کہتے ہو کہ اگر وہ حاملہ نہیں ہے تو اس کے لیے خرچ نہیں ہے؟ پھر تم اسے روکتے کس بنا پر ہو
حدیث 3705 — صحيح مسلم 18:53
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ، وَحُصَيْنٌ، وَمُغِيرَةُ، وَأَشْعَثُ، وَمُجَالِدٌ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ وَدَاوُدُ كُلُّهُمْ عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَسَأَلْتُهَا عَنْ قَضَاءِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهَا فَقَالَتْ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ . فَقَالَتْ فَخَاصَمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ - قَالَتْ - فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةً وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ .
زہیر بن حرب نے مجھے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں ہشیم نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں سیار ، حصین ، مغیرہ ، اشعث ، مجالد ، اسماعیل بن ابی خالد اور داود سب نے شعبی سے خبر دی ۔ ۔ البتہ داود نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ انہوں نے کہا : میں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے متعلق دریافت کیا جو ان کے بارے میں تھا ۔ انہوں نے کہا : ان کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دے دیں ، کہا : تو میں رہائش اور خرچ کے لیے اس کے ساتھ اپنا جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی ۔ کہا : تو آپ نے مجھے رہائش اور خرچ ( کا حق ) نہ دیا ، اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنی عدت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر گزاروں
یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ہشیم نے حصین ، داود ، مغیرہ ، اسماعیل اور اشعث سے ، انہوں نے شعبی سے خبر دی کہ انہوں نے کہا : میں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گیا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) ہشیم سے زہیر کی روایت کردہ حدیث کے مانند ہے
قرہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں سیار ابوالحکم نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں شعبی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہم فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ، انہوں نے ابن طاب کی تازہ کھجوروں سے ہماری ضیافت کی ، اور ہمیں عمدہ جَو کے ستو پلائے ، اس کے بعد میں نے ان سے ایسی عورت کے بارے میں پوچھا جسے تین طلاقیں دی گئی ہوں کہ وہ عدت کہاں گزارے گی؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دی کہ میں اپنے گھرانے میں عدت گزاروں ۔ ( ابن مکتوم ان کے عزیز تھے)
سلمہ بن کہیل نے شعبی سے اور انہوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے ایسی عورت کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی جسے تین طلاقیں دے دی گئی ہوں ، آپ نے فرمایا : " اس کے لیے نہ رہائش ہے اور نہ خرچ
یحییٰ بن آدم نے ہمیں خبر دی ، ( کہا : ) عمار بن رُزیق نے ہمیں ابواسحاق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے شعبی سے اور انہوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دیں تو میں نے ( وہاں سے ) نقل مکانی کا ارادہ کیا ۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، تو آپ نے فرمایا : " تم اپنے چچا زاد عمرو بن ام مکتوم کے گھر منتقل ہو جاؤ ، اور ان کے ہاں عدت گزارو
ابواحمد نے ہمیں خبر دی ، ( کہا : ) عمار بن رزیق نے ہمیں ابواسحاق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں اسود بن یزید ( نخعی ) کے ساتھ ( کوفہ کی ) بڑی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا ، شعبی بھی ہمارے ساتھ تھے ، تو شعبی نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رہائش اور خرچ ( کا حق ) نہیں دیا ۔ پھر اسود نے مٹھی بھر کنکریاں لیں اور انہیں دے ماریں اور کہا : تم پر افسوس! تم اس طرح کی حدیث بیان کر رہے ہو؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا : ہم ایک عورت کے قول کی وجہ سے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کو نہیں چھوڑ سکتے ، ہم نہیں جانتے کہ اس نے ( اس مسئلے کو ) یاد رکھا ہے یا بھول گئی ، اس کے لیے رہائش اور خرچ ہے ۔ ( اور یہ آیت تلاوت کی ) اللہ عزوجل نے فرمایا : " تم انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو ، اور نہ وہ خود نکلیں ، مگر یہ کہ وہ کوئی کھلی بے حیائی کریں
سلیمان بن معاذ نے ابواسحاق سے اسی سند کے ساتھ عمار بن رزیق سے روایت کردہ ابواحمد کی حدیث کے ہم معنی حدیث مکمل قصے سمیت بیان کی
حدیث 3712 — صحيح مسلم 18:60
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي، الْجَهْمِ بْنِ صُخَيْرٍ الْعَدَوِيِّ قَالَ سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، تَقُولُ إِنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلاَثًا فَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةً قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي " . فَآذَنْتُهُ فَخَطَبَهَا مُعَاوِيَةُ وَأَبُو جَهْمٍ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ تَرِبٌ لاَ مَالَ لَهُ وَأَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَاءِ وَلَكِنْ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ " . فَقَالَتْ بِيَدِهَا هَكَذَا أُسَامَةُ أُسَامَةُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " طَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِهِ خَيْرٌ لَكِ " . قَالَتْ فَتَزَوَّجْتُهُ فَاغْتَبَطْتُ .
وکیع نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے ابوبکر بن ابوجہم بن سخیر عدوی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے سنا وہ کہہ رہی تھیں کہ ان کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رہائش دی نہ خرچ ۔ کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا : " جب ( عدت سے ) آزاد ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دینا " سو میں نے آپ کو اطلاع دی ۔ معاویہ ، ابوجہم اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے ان کی طرف پیغام بھیجا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " معاویہ تو فقیر ہے اس کے پاس مال نہیں ہے ، اور رہا ابوجہم تو وہ عورتوں کو بہت مارنے والا ہے ، البتہ اسامہ بن زید ہے ۔ " انہوں نے ( ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے ) ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا : اسامہ! اسامہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا : " اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے بہتر ہے ۔ " کہا : تو میں نے ان سے شادی کر لی ، اس کے بعد مجھ پر رشک کیا جانے لگا
عبدالرحمٰن نے ہمیں سفیان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوبکر بن ابی جہم سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے سنا وہ کہہ رہی تھیں : میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ نے عیاش بن ابی ربیعہ کو میری طلاق کا پیغام دے کر بھیجا اور اس کے ساتھ پانچ صاع کھجوریں اور پانچ صاع جَو بھی بھیجے ۔ میں نے کہا : کیا میرے لیے صرف یہی خرچ ہے؟ کیا میں تم لوگوں کے گھر میں عدت نہیں گزاروں گی؟ اس نے جواب دیا : نہیں ۔ انہوں نے کہا : میں نے اپنے کپڑے سمیٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے پوچھا : " وہ تمہیں کتنی طلاقیں دے چکے ہیں؟ " میں نے جواب دیا : تین ۔ آپ نے فرمایا : " اس نے سچ کہا ، تمہارے لیے خرچ نہیں ہے ۔ اپنے چچا زاد عمرو بن ام مکتوم کے گھر عدت گزارو ، وہ نابینا ہیں تم ان کے ہاں اپنا اوڑھنے کا کپڑا اتار سکو گی ۔ جب تمہاری عدت ختم ہو جائے تو مجھے اطلاع دینا ۔ " انہوں نے ( آکر ) کہا : مجھے کئی لوگوں نے نکاح کا پیغام بھیجا ہے ، ان میں معاویہ اور ابوجہم بھی ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " معاویہ تو فقیر اور مفلوک الحال ہے ، اور رہے ابوجہم تو وہ عورتوں پر بہت سختی کرتے ہیں ۔ ۔ یا وہ عورتوں کو مارتے ہیں ، یا اس طرح کی کوئی اور بات کہی ۔ ۔ البتہ تم اسامہ بن زید کو قبول کر لو