قرآني·Qurani
اردو

الفضائل

5785 احادیث · #384–6168

حدیث 3714 — صحيح مسلم 18:62
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَسَأَلْنَاهَا فَقَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَخَرَجَ فِي غَزْوَةِ نَجْرَانَ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ مَهْدِيٍّ وَزَادَ قَالَتْ فَتَزَوَّجْتُهُ فَشَرَّفَنِي اللَّهُ بِابْنِ زَيْدٍ وَكَرَّمَنِي اللَّهُ بِابْنِ زَيْدٍ ‏.‏
ابو عاصم نے ہمیں خبر دی ( کہا : ) ہمیں سفیان ثوری نے ابوبکر بن ابی جہم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے ہاں حاضر ہوئے ، ہم نے ان سے سوال کیا ، تو انہوں نے کہا : میں ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ کی بییو تھی ، وہ نجران کی لڑائی میں نکلے ، آگے انہوں نے ابن مہدی کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا اور یہ اضافہ کیا : ( فاطمہ نے ) کہا : تو میں نے ان ( اسامہ ) سے شادی کر لی ، اللہ نے ابوزید ( اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ ) کی وجہ سے مجھے شرف بخشا ، اللہ نے ابوزید کی وجہ سے مجھے عزت دی
حدیث 3715 — صحيح مسلم 18:63
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو سَلَمَةَ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ زَمَنَ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَحَدَّثَتْنَا أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا طَلاَقًا بَاتًّا ‏.‏ بِنَحْوِ حَدِيثِ سُفْيَانَ ‏.‏
شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ابوبکر ( بن ابی جہم ) نے مجھے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں اور ابوسلمہ ، ابن زبیر کے زمانہ خلافت میں ، فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو انہوں نے ہمیں حدیث بیان کی کہ ان کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دیں ، آگے سفیان کی حدیث کی طرح ہے
حدیث 3716 — صحيح مسلم 18:64
وَحَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنِ الْبَهِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلاَثًا فَلَمْ يَجْعَلْ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةً ‏.‏
(عبداللہ بن یسار ) بہی نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے رہائش اور خرچ نہیں رکھا
حدیث 3717 — صحيح مسلم 18:65
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، تَزَوَّجَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ فَطَلَّقَهَا فَأَخْرَجَهَا مِنْ عِنْدِهِ فَعَابَ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ عُرْوَةُ فَقَالُوا إِنَّ فَاطِمَةَ قَدْ خَرَجَتْ ‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ فَأَخْبَرْتُهَا بِذَلِكَ فَقَالَتْ مَا لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ خَيْرٌ فِي أَنْ تَذْكُرَ هَذَا الْحَدِيثَ ‏.‏
عروہ بن زبیر نے کہا : یحییٰ بن سعید بن عاص نے عبدالرحمٰن بن حکم کی بیٹی سے شادی کی ، بعد میں اسے طلاق دے دی اور اسے اپنے ہاں سے بھی نکال دیا ۔ عروہ نے اس بات کی وجہ سے ان پر سخت اعتراض کیا ، تو انہوں نے کہا : فاطمہ ( بھی اپنے خاوند کے گھر سے ) چلی گئی تھی ۔ عروہ نے کہا : اس پر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں یہ بات بتائی تو انہوں نے کہا : فاطمہ بنت قیس کے لیے اس حدیث کو بیان کرنے میں کوئی خیر نہیں ہے
حدیث 3718 — صحيح مسلم 18:66
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ فَاطِمَةَ، بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَوْجِي طَلَّقَنِي ثَلاَثًا وَأَخَافُ أَنْ يُقْتَحَمَ عَلَىَّ ‏.‏ قَالَ فَأَمَرَهَا فَتَحَوَّلَتْ ‏.‏
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دے دی ہیں ، اور میں ڈرتی ہوں کہ کوئی گھس کر مجھ پر حملہ کر دے گا ، کہا : اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے جگہ بدل لی
حدیث 3719 — صحيح مسلم 18:67
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ مَا لِفَاطِمَةَ خَيْرٌ أَنْ تَذْكُرَ هَذَا ‏.‏ قَالَ تَعْنِي قَوْلَهَا لاَ سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةَ ‏.‏
شعبہ نے ہمیں عبدالرحمٰن بن قاسم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد ( قاسم ) سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : اس بات کو بیان کرنے میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے کوئی بھلائی نہیں ہے کہ " نہ رہائش ہے نہ خرچ
حدیث 3720 — صحيح مسلم 18:68
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ لِعَائِشَةَ أَلَمْ تَرَىْ إِلَى فُلاَنَةَ بِنْتِ الْحَكَمِ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ فَخَرَجَتْ فَقَالَتْ بِئْسَمَا صَنَعَتْ ‏.‏ فَقَالَ أَلَمْ تَسْمَعِي إِلَى قَوْلِ فَاطِمَةَ فَقَالَتْ أَمَا إِنَّهُ لاَ خَيْرَ لَهَا فِي ذِكْرِ ذَلِكَ ‏.‏
سفیان نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے اور انہوں نے اپنے والد ( قاسم ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : کیا آپ نے فلانہ بنت حکم کو نہیں دیکھا؟ اس کے شوہر نے اسے تین طلاقیں دیں تو وہ ( اس کے گھر سے ) چلی گئی ۔ ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : اس نے برا کیا ۔ عروہ نے پوچھا : کیا آپ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کا قول نہیں سنا؟ تو انہوں نے جواب دیا : دیکھو! اس کو بیان کرنے میں اس کے لیے کوئی بھلائی نہیں ہے
حدیث 3721 — صحيح مسلم 18:69
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ طُلِّقَتْ خَالَتِي فَأَرَادَتْ أَنْ تَجُدَّ نَخْلَهَا فَزَجَرَهَا رَجُلٌ أَنْ تَخْرُجَ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ بَلَى فَجُدِّي نَخْلَكِ فَإِنَّكِ عَسَى أَنْ تَصَدَّقِي أَوْ تَفْعَلِي مَعْرُوفًا ‏"‏ ‏.‏
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میری خالہ کو طلاق ہو گئی ، انہوں نے ( دورانِ عدت ) اپنی کھجوروں کا پھل توڑنے کا ارادہ کیا ، تو ایک آدمی نے انہیں ( گھر سے ) باہر نکلنے پر ڈانٹا ۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، تو آپ نے فرمایا : " کیوں نہیں ، اپنی کھجوروں کا پھل توڑو ، ممکن ہے کہ تم ( اس سے ) صدقہ کرو یا کوئی اور اچھا کام کرو
حدیث 3722 — صحيح مسلم 18:70
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالَ حَرْمَلَةُ حَدَّثَنَا وَقَالَ أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، - حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ أَبَاهُ، كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَرْقَمِ الزُّهْرِيِّ يَأْمُرُهُ أَنْ يَدْخُلَ، عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الأَسْلَمِيَّةِ فَيَسْأَلَهَا عَنْ حَدِيثِهَا وَعَمَّا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ اسْتَفْتَتْهُ فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ يُخْبِرُهُ أَنَّ سُبَيْعَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ ابْنِ خَوْلَةَ وَهُوَ فِي بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَىٍّ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا فَتُوُفِّيَ عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهْىَ حَامِلٌ فَلَمْ تَنْشَبْ أَنْ وَضَعَتْ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاتِهِ فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا تَجَمَّلَتْ لِلْخُطَّابِ فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ - رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ - فَقَالَ لَهَا مَا لِي أَرَاكِ مُتَجَمِّلَةً لَعَلَّكِ تَرْجِينَ النِّكَاحَ إِنَّكِ وَاللَّهِ مَا أَنْتِ بِنَاكِحٍ حَتَّى تَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ ‏.‏ قَالَتْ سُبَيْعَةُ فَلَمَّا قَالَ لِي ذَلِكَ جَمَعْتُ عَلَىَّ ثِيَابِي حِينَ أَمْسَيْتُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَأَفْتَانِي بِأَنِّي قَدْ حَلَلْتُ حِينَ وَضَعْتُ حَمْلِي وَأَمَرَنِي بِالتَّزَوُّجِ إِنْ بَدَا لِي ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَلاَ أَرَى بَأْسًا أَنْ تَتَزَوَّجَ حِينَ وَضَعَتْ وَإِنْ كَانَتْ فِي دَمِهَا غَيْرَ أَنْ لاَ يَقْرَبُهَا زَوْجُهَا حَتَّى تَطْهُرَ ‏.‏
ابن شہاب سے روایت ہے ، ( انہوں نے کہا : ) مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے حدیث بیان کی کہ ان کے والد نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو حکم دیتے ہوئے لکھا کہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جائیں ، اور ان سے ان کے واقعے کے بارے میں اور ان کے فتویٰ پوچھنے پر جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا اس کے بارے میں پوچھیں ۔ چنانچہ عمر بن عبداللہ نے عبداللہ بن عتبہ کو خبر دیتے ہوئے لکھا کہ سبیعہ نے انہیں بتایا ہے کہ وہ سعد بن خولہ کی بیوی تھیں ، وہ بنی عامر بن لؤی میں سے تھے اور وہ بدر میں شریک ہونے والوں میں سے تھے ۔ وہ حجۃ الوداع کے موقع پر ، فوت ہو گئے تھے جبکہ وہ حاملہ تھیں ۔ ان کی وفات کے بعد زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ انہوں نے بچے کو جنم دیا ۔ جب وی اپنے نفاس سے پاک ہوئیں تو انہوں نے نکاح کا پیغام دینے والوں کے لیے ( کہ انہیں ان کی عدت سے فراغت کا پتہ چل جائے کچھ ) بناؤ سنگھار کیا ۔ بنو عبدالدار کا ایک آدمی ۔ ۔ ابوالسنابل بن بعکک ۔ ۔ ان کے ہاں آیا تو ان سے کہا : کیا بات ہے میں آپ کو بنی سنوری دیکھ رہا ہوں؟ شاید آپ کو نکاح کی امید ہے؟ اللہ کی قسم! آپ نکاح نہیں کر سکتیں حتی کہ آپ پر چار مہینے دس دن گزر جائیں ۔ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے کہا : جب اس نے مجھے یہ بات کہی تو شام کے وقت میں نے اپنے کپڑے سمیٹے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے اس کے بارے میں دریافت کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فتویٰ دیا کہ میں اسی وقت حلال ہو چکی ہوں جب میں نے بچہ جنا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ، اگر میں مناسب سمجھوں تو مجھے شادی کرنے کا حکم دیا ۔ ابن شہاب نے کہا : میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کہ وضع حمل کے ساتھ ہی ، چاہے وہ اپنے ( نفاس کے ) خون میں ہو ، عورت نکاح کر لے ، البتہ اس کا شوہر اس کے پاک ہونے تک اس کے قریب نہ جائے
حدیث 3723 — صحيح مسلم 18:71
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَابْنَ، عَبَّاسٍ اجْتَمَعَا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُمَا يَذْكُرَانِ الْمَرْأَةَ تُنْفَسُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عِدَّتُهَا آخِرُ الأَجَلَيْنِ ‏.‏ وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ قَدْ حَلَّتْ ‏.‏ فَجَعَلاَ يَتَنَازَعَانِ ذَلِكَ قَالَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي - يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ - فَبَعَثُوا كُرَيْبًا - مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ - إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ يَسْأَلُهَا عَنْ ذَلِكَ فَجَاءَهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ قَالَتْ إِنَّ سُبَيْعَةَ الأَسْلَمِيَّةَ نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ وَإِنَّهَا ذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ ‏.‏
عبدالوہاب نے کہا : میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا ، ( انہوں نے کہا : ) مجھے سلیمان بن یسار نے خبر دی کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابن عباس رضی اللہ عنہم دونوں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہاں اکٹھے ہوئے اور وہ دونوں اس عورت کا ذکر کرنے لگے جس کا اپنے شوہر کی وفات سے چند راتوں کے بعد نفاس شروع ہو جائے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : اس کی عدت دو وقتوں میں سے آخر والا ہے ۔ ابوسلمہ نے کہا : وہ حلال ہو چکی ہے ۔ وہ دونوں اس معاملے میں بحث کرنے لگے ، تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اپنے بھتیجے ۔ ۔ یعنی ابوسلمہ ۔ ۔ کے ساتھ ہوں ۔ اس کے بعد انہوں نے اس مسئلے کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے ابن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام کریب کو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا ۔ وہ ( واپس ) ان کے پاس آیا تو انہیں بتایا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہے : سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کی وفات سے چند راتوں کے بعد بچہ جنا تھا ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے انہیں نکاح کرنے کا حکم دیا تھا
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔