قرآني·Qurani
اردو

الفضائل

5785 احادیث · #384–6168

حدیث 744 — صحيح مسلم 3:66
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي فَأَنْقُضُهُ لِغُسْلِ الْجَنَابَةِ قَالَ ‏ "‏ لاَ إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِي عَلَى رَأْسِكِ ثَلاَثَ حَثَيَاتٍ ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَيْكِ الْمَاءَ فَتَطْهُرِينَ ‏"‏ ‏.‏
سفیان بن عیینہ نے ایوب بن موسیٰ سے ، انہوں نے سعید بن ابی سعید مقبیری سے ، انہوں نے حضرت ام سلمہ ؓ کے مولیٰ عبداللہ بن ابی رافع سے اور انہوں نے حضرت ام سلمہؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میں ایک ایسی عورت ہوں کہ کس کر سر کے بالوں کی چوٹی بناتی ہوں تو کیا غسل جنابت کے لیے اس کو کھولوں؟آپ نے فرمایا : ’’نہیں ، تمہیں بس اتنا ہی کافی ہے کہ اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالو ، پھر اپنے آپ پر پانی بہا لو تم پاک ہو جاؤں گی ۔ ‘ ‘
حدیث 745 — صحيح مسلم 3:67
وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالاَ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، فِي هَذَا الإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ فَأَنْقُضُهُ لِلْحَيْضَةِ وَالْجَنَابَةِ فَقَالَ ‏ "‏ لاَ ‏"‏ ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ‏.‏
یزید بن ہارون اور عبدالرزاق نے کہا : ہمیں اسی سند کے ساتھ سفیان ثوری نے ایوب بن موسیٰ کے حوالے سے خبر دی ۔ اور عبدالرزاق کی حدیث میں ہے : کیا میں حیض اور جنابت ( کے غسل ) کے لیے اس کو کھولوں؟ تو آپ نے فرمایا : ’’نہیں ۔ ‘ ‘ آگے ابن عیینہ کی حدیث کے ہم معنی ( روایت ) بیان کی ۔
حدیث 746 — صحيح مسلم 3:68
وَحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ أَفَأَحُلُّهُ فَأَغْسِلُهُ مِنَ الْجَنَابَةِ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرِ الْحَيْضَةَ ‏.‏
ایوب بن موسیٰ سے ( سفیان ثوری کے بجائے ) روح بن قاسم نے اسی ( سابقہ سند ) کے ساتھ روایت کی کہ انہوں ( ام سلمہ ؓ ) نے کہا : کیا میں چوٹی کو کھول کر غسل جنابت کروں؟ ...... انہوں ( روح بن قاسم ) نے حیض کا تذکرہ نہیں کیا ۔
حدیث 747 — صحيح مسلم 3:69
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ بَلَغَ عَائِشَةَ أَنَّ عَبْدَ، اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَأْمُرُ النِّسَاءَ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُءُوسَهُنَّ فَقَالَتْ يَا عَجَبًا لاِبْنِ عَمْرٍو هَذَا يَأْمُرُ النِّسَاءَ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُءُوسَهُنَّ أَفَلاَ يَأْمُرُهُنَّ أَنْ يَحْلِقْنَ رُءُوسَهُنَّ لَقَدْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَلاَ أَزِيدُ عَلَى أَنْ أُفْرِغَ عَلَى رَأْسِي ثَلاَثَ إِفْرَاغَاتٍ ‏.‏
عبید اللہ بن عمیر سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : حضرت عائشہؓ کو یہ خبر پہنچی کہ عبداللہ بن عمروؓ عورتوں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ غسل کرتے وقت سر کے بال کھولا کرین ۔ تو انہوں نے کہا : اس ابن عمرو پر تعجب ہے ، عورتوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ جب غسل کریں تو سر کے بال کھولیں ، وہ انہیں یہ حکم کیوں نہیں دیتا کہ وہ اپنے سر کے بال مونڈ لیں ، میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے اور میں اس سے زائد کچھ نہیں کرتی تھی کہ اپنے سر پر تین بار پانی ڈال لیتی ۔
حدیث 748 — صحيح مسلم 3:70
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنْ مَنْصُورٍ ابْنِ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَأَلَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَيْفَ تَغْتَسِلُ مِنْ حَيْضَتِهَا قَالَ فَذَكَرَتْ أَنَّهُ عَلَّمَهَا كَيْفَ تَغْتَسِلُ ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً مِنْ مِسْكٍ فَتَطَهَّرُ بِهَا ‏.‏ قَالَتْ كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا قَالَ ‏ "‏ تَطَهَّرِي بِهَا ‏.‏ سُبْحَانَ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ وَاسْتَتَرَ - وَأَشَارَ لَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ بِيَدِهِ عَلَى وَجْهِهِ - قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ وَاجْتَذَبْتُهَا إِلَىَّ وَعَرَفْتُ مَا أَرَادَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ تَتَبَّعِي بِهَا أَثَرَ الدَّمِ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ فَقُلْتُ تَتَبَّعِي بِهَا آثَارَ الدَّمِ ‏.‏
عمرو بن محمد ناقد اور ابن ابی عمر نے سفیان بن عیینہ سے حدیث بیان کی ، عمرو نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے منصور بن صفیہ سے ، انہوں نے اپنی والدہ ( صفیہ بنت شیبہ ) سے ، انۂں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک عورت نبی ﷺ سے پوچھا : وہ غسل حیض کیسے کرے ؟ کہا : پھر عائشہ ؓ نےبتایا کہ آپ نے اسے غسل کا طریقہ سکھایا ( اور فرمایا ) پھر وہ کستوری سے ( معطر ) کپڑے کا ایک ٹکڑالے کر اس سے پاکیزگی حاصل کرے ۔ عورت نے کہا : میں اس سے کیسے پاکیزگی حاصل کروں؟ آپ نے فرمایا : ’’ سبحان اللہ ! اس سے پاکیزگی حاصل کرو ۔ ‘ ‘ اور آپ نے ( حیا سے ) چہرہ چھپا کر دکھایا ۔ صفیہ نےکہا : عائشہ ؓ نے فرمایا : میں نے اس عورت کو اپنی طرف کھینچ لیا اور میں سمجھ گئی تھی کہ رسول اللہ ﷺ کیا ( کہنا ) چاہتے ہیں تو میں نےکہا : اس معطر ٹکڑے سے خون کے نشان صاف کرو ۔ ابن ابی عمرو نے اپنی روایت میں کہا : اس کو مل کر خون کے نشانات پر لگا کر صاف کرو ۔
حدیث 749 — صحيح مسلم 3:71
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، سَأَلَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَيْفَ أَغْتَسِلُ عِنْدَ الطُّهْرِ فَقَالَ ‏ "‏ خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَوَضَّئِي بِهَا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُفْيَانَ ‏.‏
وہیب نے کہا : ہمیں منصور نے اپنی والدہ ( صفیہ بنت شیبہ ) سے ، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ ایک عورت نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ میں پاکیزگی ( کے حصول ) کے لیے کیسے غسل کروں؟ تو آپ نے فرمایا : ’’کستوری سے معطر کپڑے کا ٹکڑا لے کر اس سے پاکیزگی حاصل کرو ۔ ‘ ‘ پھر سفیان کی طرح حدیث بیان کی ۔
حدیث 750 — صحيح مسلم 3:72
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، قَالَ سَمِعْتُ صَفِيَّةَ، تُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَسْمَاءَ، سَأَلَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ غُسْلِ الْمَحِيضِ فَقَالَ ‏"‏ تَأْخُذُ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا وَسِدْرَتَهَا فَتَطَهَّرُ فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا فَتَدْلُكُهُ دَلْكًا شَدِيدًا حَتَّى تَبْلُغَ شُئُونَ رَأْسِهَا ثُمَّ تَصُبُّ عَلَيْهَا الْمَاءَ ‏.‏ ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَطَهَّرُ بِهَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ أَسْمَاءُ وَكَيْفَ تَطَهَّرُ بِهَا فَقَالَ ‏"‏ سُبْحَانَ اللَّهِ تَطَهَّرِينَ بِهَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ عَائِشَةُ كَأَنَّهَا تُخْفِي ذَلِكَ تَتَبَّعِينَ أَثَرَ الدَّمِ ‏.‏ وَسَأَلَتْهُ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ فَقَالَ ‏"‏ تَأْخُذُ مَاءً فَتَطَهَّرُ فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ - أَوْ تُبْلِغُ الطُّهُورَ - ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا فَتَدْلُكُهُ حَتَّى تَبْلُغَ شُئُونَ رَأْسِهَا ثُمَّ تُفِيضُ عَلَيْهَا الْمَاءَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ عَائِشَةُ نِعْمَ النِّسَاءُ نِسَاءُ الأَنْصَارِ لَمْ يَكُنْ يَمْنَعُهُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَتَفَقَّهْنَ فِي الدِّينِ ‏.‏
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابراہیم بن مہاجر سے حدیث سنائی ، انہوں نےکہا : میں نے صفیہ سے سنا وہ حضرت عائشہؓ سے بیان کرتی تھیں کہ اسما ( بنت کشل انصاریہ ) ؓ نے نبی ﷺ سے غسل حیض کےبارے میں سوال کیا ؟ تو آپ نے فرمایا : ’’ایک عورت اپنا پانی او ربیری کے پتے لے کر اچھی طرح پاکیزگی حاصل کرے ، پھر سر پر پانی ڈال کر اس کو اچھی طرح ملے یہاں تک کہ بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے ، پھر اپنے اوپر پانی ڈالے ، پھر کستوری لگا کپڑے یا روئی کا ٹکڑا لے کر اس سے پاکیزگی حاصل کرے ۔ ‘ ‘ ‘ تو اسماء نے کہا : اس سے پاکیزگی کیسے حاصل کروں؟ آپ نے فرمایا : ’’سبحان اللہ ! اسے پاکیزگی حاصل کرو ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہؓ نے کہا : ( جیسے وہ اس بات کو چھپا رہی ہوں ) ’’خون کے نشان پر لگا کر ۔ ‘ ‘ اور اس نے آپ سے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : ’’ ( غسل کرنے والی ) پانی لے کر اس سے خوب اچھی طرح وضو کرے ، پھر سر پر پانی ڈال کر اسے ملے حتی کہ سر کے بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے ، پھر اپنے آپ پر پانی ڈالے ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہ ؓ نے کہا : انصار کی عورتیں بہت خوب ہیں ، دین کو اچھی طرح سمجھنے سے شرم ا نہیں نہیں روکتی ۔
حدیث 751 — صحيح مسلم 3:73
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَقَالَ قَالَ ‏ "‏ سُبْحَانَ اللَّهِ تَطَهَّرِي بِهَا ‏"‏ ‏.‏ وَاسْتَتَرَ ‏.‏
شعبہ کے ایک دوسرے شاگرد عبید اللہ کے والد معاذ بن معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی ( مذکورہ ) سند سے اسی ( سابقہ حدیث ) کے ہم معنی حدیث بیان کی اور کہا : آپ نے فرمایا : ’’سبحان اللہ !اس سے پاکیزگی حاصل کرو ‘ ‘ اور آپ نے اپنا چہرہ چھپا لیا ۔
حدیث 752 — صحيح مسلم 3:74
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ شَكَلٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَغْتَسِلُ إِحْدَانَا إِذَا طَهُرَتْ مِنَ الْحَيْضِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ ‏.‏
(شعبہ کے استاد ) ابراہیم بن مہاجر سے ( شعبہ کے بجائے ) ابو احوص کی سند سے صفیہ بنت شیبہ کے حوالے سےحضرت عائشہؓ سے روایت ہے ، انہوں نےکہا : اسماءبنت شکل ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا : اے اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی عورت غسل حیض کرے تو کیسے نہائے؟ اور ( اسی طرح ) حدیث بیان کی اور اس میں غسل جنابت کا ذکر نہیں کیا ۔
حدیث 753 — صحيح مسلم 3:75
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلاَ أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلاَةَ فَقَالَ ‏ "‏ لاَ إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِالْحَيْضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلاَةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي ‏"‏ ‏.‏
وکیع نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : فاطمہ بنت ابی حبیش نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا : اے اللہ کے رسول ! میں ایک ایسی عورت ہوں جسے استحاضہ ہوتا ہے ، اس لیے میں پاک نہیں ہو سکتی تو کیا میں نماز چھوڑ دوں ؟ آپ نے فرمایا : ’’نہیں ، یہ تو بس ایک رگ ( کا خون ) ہے حیض نہیں ہے ، لہٰذا جب حیض شروع ہو تو نماز چھوڑ دو اور جب حیض بند ہو جائے تو اپنے ( جسم ) سے خون دھو لیا کرو اور نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔