سفیان بن عیینہ نے ایوب بن موسیٰ سے ، انہوں نے سعید بن ابی سعید مقبیری سے ، انہوں نے حضرت ام سلمہ ؓ کے مولیٰ عبداللہ بن ابی رافع سے اور انہوں نے حضرت ام سلمہؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میں ایک ایسی عورت ہوں کہ کس کر سر کے بالوں کی چوٹی بناتی ہوں تو کیا غسل جنابت کے لیے اس کو کھولوں؟آپ نے فرمایا : ’’نہیں ، تمہیں بس اتنا ہی کافی ہے کہ اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالو ، پھر اپنے آپ پر پانی بہا لو تم پاک ہو جاؤں گی ۔ ‘ ‘
یزید بن ہارون اور عبدالرزاق نے کہا : ہمیں اسی سند کے ساتھ سفیان ثوری نے ایوب بن موسیٰ کے حوالے سے خبر دی ۔ اور عبدالرزاق کی حدیث میں ہے : کیا میں حیض اور جنابت ( کے غسل ) کے لیے اس کو کھولوں؟ تو آپ نے فرمایا : ’’نہیں ۔ ‘ ‘ آگے ابن عیینہ کی حدیث کے ہم معنی ( روایت ) بیان کی ۔
ایوب بن موسیٰ سے ( سفیان ثوری کے بجائے ) روح بن قاسم نے اسی ( سابقہ سند ) کے ساتھ روایت کی کہ انہوں ( ام سلمہ ؓ ) نے کہا : کیا میں چوٹی کو کھول کر غسل جنابت کروں؟ ...... انہوں ( روح بن قاسم ) نے حیض کا تذکرہ نہیں کیا ۔
عبید اللہ بن عمیر سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : حضرت عائشہؓ کو یہ خبر پہنچی کہ عبداللہ بن عمروؓ عورتوں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ غسل کرتے وقت سر کے بال کھولا کرین ۔ تو انہوں نے کہا : اس ابن عمرو پر تعجب ہے ، عورتوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ جب غسل کریں تو سر کے بال کھولیں ، وہ انہیں یہ حکم کیوں نہیں دیتا کہ وہ اپنے سر کے بال مونڈ لیں ، میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے اور میں اس سے زائد کچھ نہیں کرتی تھی کہ اپنے سر پر تین بار پانی ڈال لیتی ۔
عمرو بن محمد ناقد اور ابن ابی عمر نے سفیان بن عیینہ سے حدیث بیان کی ، عمرو نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے منصور بن صفیہ سے ، انہوں نے اپنی والدہ ( صفیہ بنت شیبہ ) سے ، انۂں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک عورت نبی ﷺ سے پوچھا : وہ غسل حیض کیسے کرے ؟ کہا : پھر عائشہ ؓ نےبتایا کہ آپ نے اسے غسل کا طریقہ سکھایا ( اور فرمایا ) پھر وہ کستوری سے ( معطر ) کپڑے کا ایک ٹکڑالے کر اس سے پاکیزگی حاصل کرے ۔ عورت نے کہا : میں اس سے کیسے پاکیزگی حاصل کروں؟ آپ نے فرمایا : ’’ سبحان اللہ ! اس سے پاکیزگی حاصل کرو ۔ ‘ ‘ اور آپ نے ( حیا سے ) چہرہ چھپا کر دکھایا ۔ صفیہ نےکہا : عائشہ ؓ نے فرمایا : میں نے اس عورت کو اپنی طرف کھینچ لیا اور میں سمجھ گئی تھی کہ رسول اللہ ﷺ کیا ( کہنا ) چاہتے ہیں تو میں نےکہا : اس معطر ٹکڑے سے خون کے نشان صاف کرو ۔ ابن ابی عمرو نے اپنی روایت میں کہا : اس کو مل کر خون کے نشانات پر لگا کر صاف کرو ۔
وہیب نے کہا : ہمیں منصور نے اپنی والدہ ( صفیہ بنت شیبہ ) سے ، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ ایک عورت نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ میں پاکیزگی ( کے حصول ) کے لیے کیسے غسل کروں؟ تو آپ نے فرمایا : ’’کستوری سے معطر کپڑے کا ٹکڑا لے کر اس سے پاکیزگی حاصل کرو ۔ ‘ ‘ پھر سفیان کی طرح حدیث بیان کی ۔
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابراہیم بن مہاجر سے حدیث سنائی ، انہوں نےکہا : میں نے صفیہ سے سنا وہ حضرت عائشہؓ سے بیان کرتی تھیں کہ اسما ( بنت کشل انصاریہ ) ؓ نے نبی ﷺ سے غسل حیض کےبارے میں سوال کیا ؟ تو آپ نے فرمایا : ’’ایک عورت اپنا پانی او ربیری کے پتے لے کر اچھی طرح پاکیزگی حاصل کرے ، پھر سر پر پانی ڈال کر اس کو اچھی طرح ملے یہاں تک کہ بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے ، پھر اپنے اوپر پانی ڈالے ، پھر کستوری لگا کپڑے یا روئی کا ٹکڑا لے کر اس سے پاکیزگی حاصل کرے ۔ ‘ ‘ ‘ تو اسماء نے کہا : اس سے پاکیزگی کیسے حاصل کروں؟ آپ نے فرمایا : ’’سبحان اللہ ! اسے پاکیزگی حاصل کرو ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہؓ نے کہا : ( جیسے وہ اس بات کو چھپا رہی ہوں ) ’’خون کے نشان پر لگا کر ۔ ‘ ‘ اور اس نے آپ سے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : ’’ ( غسل کرنے والی ) پانی لے کر اس سے خوب اچھی طرح وضو کرے ، پھر سر پر پانی ڈال کر اسے ملے حتی کہ سر کے بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے ، پھر اپنے آپ پر پانی ڈالے ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہ ؓ نے کہا : انصار کی عورتیں بہت خوب ہیں ، دین کو اچھی طرح سمجھنے سے شرم ا نہیں نہیں روکتی ۔
شعبہ کے ایک دوسرے شاگرد عبید اللہ کے والد معاذ بن معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی ( مذکورہ ) سند سے اسی ( سابقہ حدیث ) کے ہم معنی حدیث بیان کی اور کہا : آپ نے فرمایا : ’’سبحان اللہ !اس سے پاکیزگی حاصل کرو ‘ ‘ اور آپ نے اپنا چہرہ چھپا لیا ۔
(شعبہ کے استاد ) ابراہیم بن مہاجر سے ( شعبہ کے بجائے ) ابو احوص کی سند سے صفیہ بنت شیبہ کے حوالے سےحضرت عائشہؓ سے روایت ہے ، انہوں نےکہا : اسماءبنت شکل ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا : اے اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی عورت غسل حیض کرے تو کیسے نہائے؟ اور ( اسی طرح ) حدیث بیان کی اور اس میں غسل جنابت کا ذکر نہیں کیا ۔
وکیع نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : فاطمہ بنت ابی حبیش نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا : اے اللہ کے رسول ! میں ایک ایسی عورت ہوں جسے استحاضہ ہوتا ہے ، اس لیے میں پاک نہیں ہو سکتی تو کیا میں نماز چھوڑ دوں ؟ آپ نے فرمایا : ’’نہیں ، یہ تو بس ایک رگ ( کا خون ) ہے حیض نہیں ہے ، لہٰذا جب حیض شروع ہو تو نماز چھوڑ دو اور جب حیض بند ہو جائے تو اپنے ( جسم ) سے خون دھو لیا کرو اور نماز پڑھو ۔ ‘ ‘