ہشام نے عروہ کے ( شاگرد وکیع کے بجائے ) دوسرے شاگرد وں ابو معاویہ ، جریر ، نمیر اور حماد بن زید کی سندوں سے بھی جو وکیع کی حدیث کی طرح اسی سندسے مروی ہے ، البتہ قتیبہ سے جریر کی روایت کے الفاظ یوں ہیں : فاطمہ بنت ابی حبیش بن عبدالمطلب بن اسد آئیں جو ہمارے خاندان کی ایک خاتون ہیں ۔ امام مسلم نے کہا : حماد بن زید کی حدیث میں ایک حرف زائد ہے جسے ہم نے ذکر نہیں کیا
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے ، انہوں نے ابن شہاب سے ، انہوں نے عروہ سے اورانہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ، انہوں نےکہا : ام حبیبہ بنت جحش ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ پوچھا او رکہا : مجھے استحاضہ ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے ۔ تم غسل کرو ، پھر ( حیض کے ایام کے خاتمے پر ) نماز پڑھو ۔ ‘ ‘ تو وہ ہر نماز کےوقت غسل کرتی تھیں ۔ ( امام ) لیث بن سعد نے کہا : ابن شہاب نے یہ نہیں کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ام حبیبہ بنت جحش کو ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم دیا تھا ۔ یہ ایسا کام تھا جو وہ خود کرتی تھیں ۔ لیث کے شاگردوں میں سے ابن رمح نے ابنة جحش کے الفاظ استعمال کیے اور ام احبیبہ نہیں کہا ۔
حدیث 756 — صحيح مسلم 3:78
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ - خَتَنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ - اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ وَلَكِنَّ هَذَا عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي " . قَالَتْ عَائِشَةُ فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ فِي مِرْكَنٍ فِي حُجْرَةِ أُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حَتَّى تَعْلُوَ حُمْرَةُ الدَّمِ الْمَاءَ . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ فَقَالَ يَرْحَمُ اللَّهُ هِنْدًا لَوْ سَمِعَتْ بِهَذِهِ الْفُتْيَا وَاللَّهِ إِنْ كَانَتْ لَتَبْكِي لأَنَّهَا كَانَتْ لاَ تُصَلِّي .
(لیث کے بجائے ) عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے ، انہوں نے عروہ بن زبیر اورعمرہ بنت عبدالرحمن سے ، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی زوجہ عائشہ ؓ سے روایت کی کہ ام حبیبہ بنت جحش رسول اللہ ﷺ کی خواہر نسبتی کو ، جو ( ام المومنین زینب بن جحش کی بہن اور ) عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں ، سات سال تک استحاضہ کا عارضہ لاحق رہا ۔ انہو ں نے ا س کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’یہ حیض ( کا خون ) نہیں بلکہ یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے ، لہٰذا تم غسل کرو اور نماز پڑھو ۔ ‘ ‘ عائشہ ؓ نے کہا : وہ اپنی بہن زینب بن جحش ؓ کے حجرے میں ایک بڑے تشت ( ٹب ) میں غسل کرتیں تو پانی پر خون کی سرخی غالب آ جاتی ۔ ابن شہاب نے کہا : میں یہ حدیث ابو بکر بن عبدالرحمن بن حارث کوسنائی تو انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ ہند پر رحم فرمائے! کاش وہ بھی یہ فتویٰ سن لیتیں ۔ اللہ کی قسم ! وہ اس بات پر روتی رہتی تھیں کہ استحاضے کی وجہ سے وہ نماز نہیں پڑھ سکتی تھیں ۔
ابراہیم ، یعنی ابن سعد نے ابن شہاب کے حوالے سے خبر دی ، انہوں نے عمرہ بنت عبد الرحمن سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نےفرمایا : ام حبیبہ بنت جحش ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور وہ سات سال تک استحاضے کے عارضے میں مبتلا رہیں ۔ ابراہیم بن سعد کی باقی حدیث’’پانی پر خون کی سرخی غالب آ جاتی تھی ‘ ‘ تک عمرو بن حارث کی سابقہ روایت کی طرح ہے ، اس کے بعد کا حصہ انہوں نے ذکر نہیں کیا ۔
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انہوں نے عمرہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سےروایت کی کہ بنت جحش سات سال تک استحاضے میں مبتلا رہیں ( آگے باقی ) دوسرے راویوں کی حدیث کی طرح ۔
حدیث 759 — صحيح مسلم 3:81
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيِبٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الدَّمِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَأَيْتُ مِرْكَنَهَا مَلآنَ دَمًا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ ثُمَّ اغْتَسِلِي وَصَلِّي " .
یزید بن ابی حبیب نے جعفر سے ، انہوں نے عراک سے ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سےروایت کی ، کہا : ام حبیبہ بنت جحش نے رسول اللہ ﷺ سے خون کے بارے میں سوال کیا ۔ حضرت عائشہؓ نے بتایا : میں نے اس کا ٹب خون سے بھرادیکھا تھا ۔ تو رسول اللہ ﷺنے اس سے فرمایا : ’’تمہیں پہلے جتنا وقت حیض ( نماز سے ) روکتا تھا اتنا عرصہ رکی رہو ، پھر نہالو اور نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
حدیث 760 — صحيح مسلم 3:82
حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ قُرَيْشٍ التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ الَّتِي كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ شَكَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الدَّمَ فَقَالَ لَهَا " امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ ثُمَّ اغْتَسِلِي " . فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلاَةٍ .
اسحاق کے والد بکر بن مضر نے جعفر بن ربیعہ سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ام حبیبہ بنت جحش نے ، جو عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں ، رسول اللہ ﷺ سے خون ( استحاضہ ) کی شکایت کی تو آپ نے ان سے فرمایا : ’’جتنے دن تمہیں حیض روکتا تھا اتنے دن توقف کرو ، پھر نہالو ۔ ‘ ‘ تو وہ ہر نماز کے لیے نہایا کرتی تھیں ۔
نے یزید رشک سے ، انہوں نے معاذہ سے روایت کی کہ ایک عورت نےحضرت عائشہ ؓ سے پوچھا : کیا ایک عورت ایام حیض کی نمازوں کی قضادے کی ؟ تو عائشہ ؓ نے پوچھا : کیا توحروریہ ( خوارج میں سے ) ہے؟ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں جب ہم میں سے کسی کو حیض آتا تھا تو اسے ( نمازوں کی ) قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا ۔
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے یزید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے معاذہ سے سنا کہ انہوں نےحضرت عائشہ ؓ سے سوال کیا : کیا حائضہ نماز کی قضادے؟ عائشہ ؓ نے کہا : کیا تو حروریہ ( خوارج میں سے ) ہے ؟ رسول اللہ ﷺ کی ازواج کو حیض آتا تھا تو کیاآپ نے انہیں ( فوت شدہ نمازوں کے ) بدلے میں ادا کرنے کاحکم دیا؟ محمد بن جعفرنے کہا : ان کا مطلب قضا دینے سے تھا ۔ <عربی> </عربی>
عاصم نے معاذہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے عائشہ ؓ سے سوال کیا ، میں نے کہا : حائضہ عورت کا یہ حال کیوں ہے کہ وہ روزوں کی قضا دیتی ہے نماز کی نہیں ؟ انہوں نے فرمایا : کیا تم حروریہ ہو ؟ میں نے عرض کی : میں حروریہ نہیں ، ( صرف ) پوچھنا چاہتی ہوں ۔ انہوں نے فرمایا : ہمیں بھی حیض آتا تھا تو ہمیں روزوں کی قضا دینے کا حکم دیا جاتا تھا ، نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا ۔