قرآني·Qurani
اردو

الفضائل

5785 احادیث · #384–6168

حدیث 414 — صحيح مسلم 1:319
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ، - وَهُوَ ابْنُ بِلاَلٍ - قَالَ حَدَّثَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُنَا عَنْ لَيْلَةَ، أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ مَسْجِدِ الْكَعْبَةِ أَنَّهُ جَاءَهُ ثَلاَثَةُ نَفَرٍ قَبْلَ أَنْ يُوحَى إِلَيْهِ وَهُوَ نَائِمٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ وَقَدَّمَ فِيهِ شَيْئًا وَأَخَّرَ وَزَادَ وَنَقَصَ ‏.‏
شریک بن عبد اللہ بن ابی نمر نے حدیث سنائی ( کہا ) : میں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ ہمیں اس رات کے بارے میں حدیث سنا رہے تھے جس میں رسول اللہ ﷺ کو مسجد کعبہ سے رات کے سفر پر لے جایا گیا کہ آپ کی طرف وحی کیے جانے سے پہلے آپ کے پاس تین نفر ( فرشتے ) آئے ، اس وقت آپ مسجد حرام میں سوئے تھے ۔ شریک نے ’’واقعہ اسراء ‘ ‘ ثابت بنانی کی حدیث کی طرح سنایا اور اس میں کچھ چیزوں کو آگے پیچھے کر دیا اور ( کچھ میں ) کمی بیشی کی ۔ ( امام مسلم نے یہ تفصیل بتا کر پوری ورایت نقل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ۔)
حدیث 415 — صحيح مسلم 1:320
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ أَبُو ذَرٍّ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ فُرِجَ سَقْفُ بَيْتِي وَأَنَا بِمَكَّةَ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ صلى الله عليه وسلم فَفَرَجَ صَدْرِي ثُمَّ غَسَلَهُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي ثُمَّ أَطْبَقَهُ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ فَلَمَّا جِئْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا قَالَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - لِخَازِنِ السَّمَاءِ الدُّنْيَا افْتَحْ ‏.‏ قَالَ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا جِبْرِيلُ ‏.‏ قَالَ هَلْ مَعَكَ أَحَدٌ قَالَ نَعَمْ مَعِيَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ فَأُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ فَفَتَحَ - قَالَ - فَلَمَّا عَلَوْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَإِذَا رَجُلٌ عَنْ يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ وَعَنْ يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ - قَالَ - فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى - قَالَ - فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالاِبْنِ الصَّالِحِ - قَالَ - قُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا آدَمُ صلى الله عليه وسلم وَهَذِهِ الأَسْوِدَةُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ فَأَهْلُ الْيَمِينِ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَالأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى - قَالَ - ثُمَّ عَرَجَ بِي جِبْرِيلُ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ ‏.‏ فَقَالَ لِخَازِنِهَا افْتَحْ - قَالَ - فَقَالَ لَهُ خَازِنُهَا مِثْلَ مَا قَالَ خَازِنُ السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَفَتَحَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ فِي السَّمَوَاتِ آدَمَ وَإِدْرِيسَ وَعِيسَى وَمُوسَى وَإِبْرَاهِيمَ - صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ - وَلَمْ يُثْبِتْ كَيْفَ مَنَازِلُهُمْ غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّهُ قَدْ وَجَدَ آدَمَ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا وَإِبْرَاهِيمَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلَمَّا مَرَّ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِإِدْرِيسَ - صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ - قَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالأَخِ الصَّالِحِ - قَالَ - ثُمَّ مَرَّ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ هَذَا إِدْرِيسُ - قَالَ - ثُمَّ مَرَرْتُ بِمُوسَى - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالأَخِ الصَّالِحِ - قَالَ - قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا مُوسَى - قَالَ - ثُمَّ مَرَرْتُ بِعِيسَى فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالأَخِ الصَّالِحِ ‏.‏ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ - قَالَ - ثُمَّ مَرَرْتُ بِإِبْرَاهِيمَ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالاِبْنِ الصَّالِحِ - قَالَ - قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا إِبْرَاهِيمُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ حَزْمٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا حَبَّةَ الأَنْصَارِيَّ كَانَا يَقُولاَنِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ثُمَّ عَرَجَ بِي حَتَّى ظَهَرْتُ لِمُسْتَوًى أَسْمَعُ فِيهِ صَرِيفَ الأَقْلاَمِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ حَزْمٍ وَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَفَرَضَ اللَّهُ عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلاَةً - قَالَ - فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى أَمُرَّ بِمُوسَى فَقَالَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ مَاذَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ - قَالَ - قُلْتُ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسِينَ صَلاَةً ‏.‏ قَالَ لِي مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَرَاجِعْ رَبَّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ - قَالَ - فَرَاجَعْتُ رَبِّي فَوَضَعَ شَطْرَهَا - قَالَ - فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ رَاجِعْ رَبَّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ - قَالَ - فَرَاجَعْتُ رَبِّي فَقَالَ هِيَ خَمْسٌ وَهْىَ خَمْسُونَ لاَ يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَىَّ - قَالَ - فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ رَاجِعْ رَبَّكَ ‏.‏ فَقُلْتُ قَدِ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي - قَالَ - ثُمَّ انْطَلَقَ بِي جِبْرِيلُ حَتَّى نَأْتِيَ سِدْرَةَ الْمُنْتَهَى فَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ لاَ أَدْرِي مَا هِيَ - قَالَ - ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا فِيهَا جَنَابِذُ اللُّؤْلُؤِ وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْكُ ‏"‏ ‏.‏
ابن شہاب نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ بیان فرماتے ہیں کہ رسو ل اللہﷺ نے بتایا : ’’ میں مکہ میں تھا تو میرے گھر کی چھت کھولی گئی ، جبریل ‌علیہ ‌السلام ‌ اترے ، میرا سینہ چاک کیا ، پھر اسے زم زم کے پانی سے دھویا ، پھر سونے کاطشت لائے جو حکمت او رایمان سے لبریز تھا ، اسے میرے سینے میں انڈیل دیا ، پھر اس کو جوڑ دیا ، پھر میرا ہاتھ پکڑ ا اور مجھے لے کر آسمان کی طرف بلند ہوئے ، جب ہم سب سے نچلے ( پہلے ) آسمان پر پہنچے تو جبرئیل نے ( اس ) نچلے آسمان کے دربان سے کہا : دروازہ کھولو ۔ اس نے کہا : یہ کون ہیں ؟ کہا : یہ جبریل ‌علیہ ‌السلام ‌ ہے ۔ پوچھا : کیا تیرے ساتھ کوئی ہے؟ کہا ہاں ، میرے ساتھ محمد ﷺ ہیں ۔ اس نے پوچھا : کیا ان کو بلایا گیا ہے؟ کہا ہاں ، پھر اس نے دروازہ کھولا آپ ﷺ نے فرمایا : کہ جب ہم آسمان دنیا پر پہنچے تو دیکھا کہ ایک آدمی ہے اس کے دائیں طرف بھی بہت سی مخلوق ہے اور اس کے بائیں طرف بھی بہت سی مخلوق ہے جب وہ آدمی اپنے دائیں طرف دیکھتا ہے تو ہنستا ہے اور اپنے بائیں طرف دیکھتا ہے تو روتا ہے ۔ اس نے کہا : خوش آمدید !اے نیک نبی اور اے نیک بیٹےکو ۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے کہا : کہ یہ کون ہیں؟ حضرت جبرائیل نے کہا کہ یہ آدم علیہ السلام ہیں اور ان کے دائیں طرف جنتی اور بائیں طرف والے دوزخی ہیں اس لئے جب دائیں طرف دیکھتے ہیں تو ہنستے ہیں اور بائیں طرف دیکھتے ہیں تو روتے ہیں ۔ پھر حضرت جبرائیل مجھے دوسرے آسمان کی طرف لے گئے اور اس کے پہرے دار سے کہا دروازہ کھولئے آپ نے فرمایا کہ دوسرے آسمان کے پہرے دار نے بھی وہی کچھ کہا جو آسمان دنیا کے خازن ( پہرےدار ) سے کہا : دروازہ کھولو ۔ اس کے خازن نے بھی پہلے آسمان والے کی طرح بات کی اور دروازہ کھول دیا ۔ حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺنے بتایا کہ مجھے آسمانوں پر آدم ، ادریس ، موسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام ملے ( اختصار سے بتاتے ہوئے ) انہوں ( ابو ذر ) نے یہ تعیین نہیں کی کہ ان کی منزلیں کیسے تھیں ؟ البتہ یہ بتایا کہ آدم ‌علیہ ‌السلام ‌ آپ کو پہلے آسمان پر ملے اور ابراہیم علیہ السلام چھٹے آسمان پر ( یہ کسی راوی کا وہم ہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے آپ ﷺ کی ملاقات ساتویں آسمان پر ہوئی ) ، فرمایا : جب جبرئیل اور رسول اللہ ﷺ ادریس علیہ السلام کے پاس سے گزرے تو انہوں نے کہا : صالح بنی اور صالح بھائی کو خوش آمدید ، پھر وہ آ گے گزرے تو میں نے ‎پوچھا : یہ کون ہیں ؟ تو ( جبریل نے ) کہا : یہ ادریس علیہ السلام ہیں ، پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے نے کہا : صالح نبی اور صالح بھائی کو خوش آمدید ، فرمایا : میں نے پوچھا : یہ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا : یہ موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ ہیں ، پھر میں عیسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ کے پاس سے گزرا ، انہوں نے کہا : صالح نبی اور صالح بھائی کو خوش آمدید ، میں نے پوچھا : یہ کون ہیں ؟کہا : عیسیٰ بن مریم ہیں ۔ آپ نے فرمایا : پھر میں ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے گزراتو انہوں نے کہا : صالح نبی اور صالح بیٹے ، مرحبا! میں نےپوچھا : یہ کون ہیں ؟ کہا : یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں ۔ ‘ ‘ ابن شہاب نے کہا : مجھے ابن حزم نے بتایا کہ ابن عباس اور ابو حبہ انصاری ؓ کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’پھر ( جبریل ) مجھے ( اور ) اوپر لے گئے حتی کہ میں ایک اونچی جگہ کے سامنے نمودار ہوا ، میں اس کے اندر سے قلموں کی آواز سن رہا تھا ۔ ‘ ‘ ابن حزم اور انس بن مالک ؓ نے کہا : رسو اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں ، میں یہ ( حکم ) لے کر واپس ہوا یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا : آپ نے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہیں ۔ ؟ آپ نے فرمایا : میں نے جواب دیا : ان پر پچاس نمازیں فرض کی ہیں ۔ موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ نے مجھ سے کہا : اپنے رب کی طرف رجوع کریں کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی ۔ فرمایا : اس پر میں نے اپنےرب سے رجوع کیا تو اس نے اس کا ایک حصہ مجھ سے کم کر دیا ۔ آپ نے فرمایا : میں موسیٰ علیہ السلام کی طرف واپس آیا اور انہیں بتایا ۔ انہوں نے کہا : اپنے رب کی طرف رجوع کریں کیونکہ آپ کی امت اس کی ( بھی ) طاقت نہیں رکھے گی ۔ آپ نے فرمایا : میں نے اپنے رب کی طرف رجوع کیا تو اس نے فرمایا : یہ پانچ ہیں اور یہی پچاس ہیں ، میرے ہاں پر حکم بدلا نہیں کرتا ۔ آپ نے فرمایا : میں لوٹ کر موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ کی طر ف آیا تو انہوں نے کہا : اپنے رب کی طرف رجوع کریں ۔ تو میں نے کہا : ( بار بارسوال کرنے پر ) میں اپنےرب سے شرمندہ ہوا ہوں ۔ آپ نے فرمایا : پھر جبریل مجھے لے کر چلے یہاں تک کہ ہم سدرۃ المنتہی پر پہنچ گئے تو اس کو ( ایسے ایسے ) رنگوں نے ڈھانپ لیا کہ میں نہیں جانتا وہ کیا تھے ؟ پھر مجھے جنت کے اندر لے جایا گیا ، اس میں گنبد موتیوں کے تھے اور اس کی مٹی کستوری تھی ۔ ‘ ‘
حدیث 416 — صحيح مسلم 1:321
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، - لَعَلَّهُ قَالَ - عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، - رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ - قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بَيْنَا أَنَا عِنْدَ الْبَيْتِ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ إِذْ سَمِعْتُ قَائِلاً يَقُولُ أَحَدُ الثَّلاَثَةِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ ‏.‏ فَأُتِيتُ فَانْطُلِقَ بِي فَأُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ فِيهَا مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَشُرِحَ صَدْرِي إِلَى كَذَا وَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قَتَادَةُ فَقُلْتُ لِلَّذِي مَعِي مَا يَعْنِي قَالَ إِلَى أَسْفَلِ بَطْنِهِ ‏"‏ فَاسْتُخْرِجَ قَلْبِي فَغُسِلَ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ أُعِيدَ مَكَانَهُ ثُمَّ حُشِيَ إِيمَانًا وَحِكْمَةً ثُمَّ أُتِيتُ بِدَابَّةٍ أَبْيَضَ يُقَالُ لَهُ الْبُرَاقُ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ يَقَعُ خَطْوُهُ عِنْدَ أَقْصَى طَرْفِهِ فَحُمِلْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ صلى الله عليه وسلم فَقِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ ‏.‏ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ - قَالَ - فَفَتَحَ لَنَا وَقَالَ مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ - قَالَ - فَأَتَيْنَا عَلَى آدَمَ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ ‏.‏ وَذَكَرَ أَنَّهُ لَقِيَ فِي السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ عِيسَى وَيَحْيَى - عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ - وَفِي الثَّالِثَةِ يُوسُفَ وَفِي الرَّابِعَةِ إِدْرِيسَ وَفِي الْخَامِسَةِ هَارُونَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَسَلَّمَ - قَالَ ‏"‏ ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ فَأَتَيْتُ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ‏.‏ فَلَمَّا جَاوَزْتُهُ بَكَى فَنُودِيَ مَا يُبْكِيكَ قَالَ رَبِّ هَذَا غُلاَمٌ بَعَثْتَهُ بَعْدِي يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِهِ الْجَنَّةَ أَكْثَرُ مِمَّا يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي ‏.‏ - قَالَ - ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَأَتَيْتُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ وَحَدَّثَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ رَأَى أَرْبَعَةَ أَنْهَارٍ يَخْرُجُ مِنْ أَصْلِهَا نَهْرَانِ ظَاهِرَانِ وَنَهْرَانِ بَاطِنَانِ ‏"‏ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَا هَذِهِ الأَنْهَارُ قَالَ أَمَّا النَّهْرَانِ الْبَاطِنَانِ فَنَهْرَانِ فِي الْجَنَّةِ وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ ‏.‏ ثُمَّ رُفِعَ لِيَ الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَا هَذَا قَالَ هَذَا الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ إِذَا خَرَجُوا مِنْهُ لَمْ يَعُودُوا فِيهِ آخِرُ مَا عَلَيْهِمْ ‏.‏ ثُمَّ أُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ أَحَدُهُمَا خَمْرٌ وَالآخَرُ لَبَنٌ فَعُرِضَا عَلَىَّ فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ فَقِيلَ أَصَبْتَ أَصَابَ اللَّهُ بِكَ أُمَّتُكَ عَلَى الْفِطْرَةِ ‏.‏ ثُمَّ فُرِضَتْ عَلَىَّ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسُونَ صَلاَةً ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّتَهَا إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ ‏.‏
سعید نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ( انہوں نے غالباً یہ کہا ) کہ مالک بن صعصعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت ہے ( جو ان کی قوم کے فرد تھے ) کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میں بیت اللہ کے پاس نیند اور بیداری کی درمیانی کیفیت میں تھا ، اس اثناء میں ایک کہنے والے کو میں نے یہ کہتے سنا : ’’ تین آدمیوں میں سے ایک ، دو کے درمیان والا ‘ ‘ پھر میرے پاس آئے اور مجھے لے جایا گیا ، اس کے بعد میرے پاس سونے کا طشت لایا گیا جس میں زمزم کا پانی تھا ، پھر میرا سینہ کھول دیا گیا ، فلاں سے فلاں جگہ تک ( قتادہ نےکہا : میں نے اپنے ساتھ والے سے پوچھا : اس سے کیا مراد لے رہے ہیں ؟ اس نے کہا ، پیٹ کے نیچے کےحصے تک ) پھر میرا دل نکالا گیا اور اسے زم زم کے پانی سے دھویا گیا ، پھر اسے دوبارہ اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا ، پھر اسے ایمان و حکمت سے بھر دیا گیا ۔ اس کے بعد میرے پاس ایک سفید جانور لایا گیا جسے براق کہا جاتا ہے ، گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا ، اس کا قدم وہاں پڑتا تھا جہاں اس کی نظر کی آخری حد تھی ، مجھے اس پر سوار کیا گیا ، پھر ہم چل پڑے یہاں تک کہ ہم سب سے نچلے ( پہلے ) آسمان تک پہنچے ۔ جبریل ‌علیہ ‌السلام ‌ نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا : تو پوچھا گیا : یہ ( دروازہ کھلوانے والا ) کون ہے ؟ کہا : جبریل ہوں ۔ کہا گیا : آپ کے ساتھ کون ہے ؟ کہا محمدﷺ ہیں ۔ پوچھا گیا : کیا ( آسمانوں پر لانے کےلیے ) ان کی طرف سے کسی کو بھیجا گیا تھا؟ کہا : ہاں ۔ تو اس نے ہمارے لیے دروازہ کھول دیا اور کہا : مرحبا ! آپ بہترین طریقے سے آئے ! فرمایا : پھر ہم آدم علیہ السلام کے سامنے پہنچ گئے ۔ آگے پورے قصے سمیت حدیث سنائی اور بتایا کہ دوسرے آسمان پر آپ عیسیٰ اور یحییٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ، تیسرے پر یوسف علیہ السلام سے اور چوتھے پر ادریس علیہ السلام سے ، پانچویں پر ہارون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ملے ، کہا : پھر ہم چلے یہاں تک کہ چھٹے آسمان تک پہنچے ، میں موسیٰ علیہ السلام کےپاس پہنچا اور ان کو سلام کیا ، انہوں نے کہا : صالح بھائی اور صالح نبی کو مرحبا ، جب میں ان سے آگے چلا گیا تو وہ رونے لگے ، انہیں آواز دی گئی آپ کو کس بات نے رلا دیا ؟ کہا : اے میرے رب ! یہ نوجوان ہیں جن کو تو نے میرےبعد بھیجا ہے ان کی امت کے لوگ میری امت کے لوگوں سے زیادہ تعداد میں جنت میں داخل ہوں گے ۔ آپ نے فرمایا : پھر ہم چل پڑے یہاں تک کہ ساتویں آسمان تک پہنچ گئے تو میں ابراہیم علیہ السلام کے سامنے آیا ۔ ‘ ‘ اور انہوں نے حدیث میں کہا کہ نبی ا کرمﷺ نے بتایا کہ انہوں نے چار نہریں دیکھیں ، ان کے منبع سے دو ظاہری نہریں نکلتی ہیں اور دو پوشیدہ نہریں ۔ ’’میں نے کہا : اے جبریل ! یہ نہریں کیا ہیں ؟ انہوں نے کہا : جو دو پوشیدہ ہیں تو وہ جنت کی نہریں ہیں اور دو ظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں ، پھر بیت معمور میرے سامنے بلند کیا گیا میں نے پوچھا : اے جبریل! یہ کیا ہے ؟ کہا : یہ بیت معمور ہے ، اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں ، جب اس سے نکل جاتے ہیں ، تو اس ( زمانے ) کے آخر تک جو ان کے لیے ہے دوبارہ اس میں نہیں آ سکتے ، پھر میرےپاس دو برتن لائے گئے ایک شراب کا اور دوسرا دودھ کا ، دونوں میرے سامنے پیش کیے گئے تو میں نے دودھ کو پسند کیا ، اس پر کہا گیا ، آپ نے ٹھیک ( فیصلہ ) کیا ، اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے سے ( سب کو ) صحیح ( فیصلہ ) تک پہنچائے ، آپ کی امت ( بھی ) فطرت پر ہے ، پھر مجھ پر ہر روز پچاس نمازیں فرض کی گئیں ..... ‘ ‘ پھر ( سابقہ ) حدیث کے آخر تک کا سارا واقعہ بیان کیا ۔
حدیث 417 — صحيح مسلم 1:322
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ فِيهِ ‏ "‏ فَأُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَشُقَّ مِنَ النَّحْرِ إِلَى مَرَاقِّ الْبَطْنِ فَغُسِلَ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ مُلِئَ حِكْمَةً وَإِيمَانًا ‏"‏ ‏.‏
ہشام نے قتادہ سے حدیث سنائی ، ( انہوں نے کہا : ) ہمیں انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے حضرت مالک بن صعصعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث سنائی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا.... پھر سابقہ حدیث کی طرح بیان کیا اور اس میں اضافہ کیا : ’’ تو میرے پاس حکمت اور ایمان سے بھرا سونے کا طشت لایا گیا اور ( میری ) گردن کے قریب سے پیٹ کے پتلے حصے تک چیرا گیا ، پھر زم زم کے پانی سے دھویا گیا ، پھر اسےحکمت اور ایمان سے بھر دیا گیا 0 ‘ ‘ ( وضاحت کتاب الایمان کے تعارف میں دیکھیے ۔)
حدیث 418 — صحيح مسلم 1:323
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ، يَقُولُ حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ، نَبِيِّكُمْ صلى الله عليه وسلم - يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ - قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ أُسْرِيَ بِهِ فَقَالَ ‏"‏ مُوسَى آدَمُ طُوَالٌ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ عِيسَى جَعْدٌ مَرْبُوعٌ ‏"‏ ‏.‏ وَذَكَرَ مَالِكًا خَازِنَ جَهَنَّمَ وَذَكَرَ الدَّجَّالَ ‏.‏
شعبہ نے ا بو قتادہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نے ابو عالیہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : مجھے تمہارے نبی ﷺ کے چچا کے بیٹے ، یعنی حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے حدیث سنائی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے اسراء کا واقعہ بیان کیا اور فرمایا : ’’ موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ گندمی رنگ کے اونچے لمبے تھے جیسے وہ قبیلہ شنوءہ کے مردوں میں سے ہوں اور فرمایا : عیسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ گٹھے ہوئے جسم کے میانہ قامت تھے ۔ ‘ ‘ اور آپ نے دوزخ کے داروغے مالک اور دجال کا بھی ذکر فرمایا ۔
حدیث 419 — صحيح مسلم 1:324
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ، نَبِيِّكُمْ صلى الله عليه وسلم ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - رَجُلٌ آدَمُ طُوَالٌ جَعْدٌ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ مَرْبُوعَ الْخَلْقِ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ سَبِطَ الرَّأْسِ ‏"‏ ‏.‏ وَأُرِيَ مَالِكًا خَازِنَ النَّارِ وَالدَّجَّالَ ‏.‏ فِي آيَاتٍ أَرَاهُنَّ اللَّهُ إِيَّاهُ فَلاَ تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقَائِهِ ‏.‏ قَالَ كَانَ قَتَادَةُ يُفَسِّرُهَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ لَقِيَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ ‏.‏
شیبان بن عبد الرحمن نے قتادہ کے حوالے سے سابقہ سند کے ساتھ حدیث سنائی کہ ہمیں تمہارے نبی ﷺ کے چچازاد ( ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) نے حدیث سنائی ، کہا : رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ میں اسراء کی رات موسیٰ بن عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس سے گزرا ، وہ گندمی گوں ، طویل قامت کے گٹھے ہوئے جسم کے انسان تھے ، جیسے قبیلہ شنوءہ کے مردوں میں سے ہوں ۔ اور میں نے عیسیٰ ابن مریم ‌علیہ ‌السلام ‌ کو دیکھا ، ا ن کا قد درمیانہ ، رنگ سرخ وسفید اور سر کے بال سیدھے تھے ۔ ‘ ‘ ( سفر معراج کے دوران میں ) ان بہت سی نشانیوں میں سے جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے دکھائیں آپ کو دورخ کا داروغہ مالک اور دجال بھی دکھایا گیا ۔ ’’آپ ان ( موسیٰ ) سے ملاقات کے بارے میں شک میں نہ رہیں ۔ ‘ ‘ شیبان نےکہا : قتادہ اس آیت کی تفسیر بتایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ یقیناً موسیٰ علیہ السلام سے ملے تھے ۔ ( یہ ملاقات حقیقی تھی ، معراج محض خواب نہ تھا ۔)
حدیث 420 — صحيح مسلم 1:325
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالاَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِوَادِي الأَزْرَقِ فَقَالَ ‏"‏ أَىُّ وَادٍ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا هَذَا وَادِي الأَزْرَقِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - هَابِطًا مِنَ الثَّنِيَّةِ وَلَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَتَى عَلَى ثَنِيَّةِ هَرْشَى ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَىُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا ثَنِيَّةُ هَرْشَى قَالَ ‏"‏ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ بْنِ مَتَّى - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ جَعْدَةٍ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ خِطَامُ نَاقَتِهِ خُلْبَةٌ وَهُوَ يُلَبِّي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ حَنْبَلٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ هُشَيْمٌ يَعْنِي لِيفًا ‏.‏
احمد بن حنبل اور سریج بن یونس نے کہا : ہمیں ہشیم نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں داؤد بن ابی ہند نے ابوعالیہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ وادی ازرق سے گزرے تو آپ نے پوچھا : ’’ یہ کون سے وادی ہے ؟ ‘ ‘ لوگوں نے کہا : یہ وادی ازرق ہے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں موسیٰ علیہ السلام کو وادی کے موڑ سے اترتے دیکھ رہا ہوں اور وہ بلند آواز سے تلبیہ کہتے ہوئے اللہ کے سامنے زاری کر رہے ہیں ۔ ‘ ‘ پھر آپ ہرشیٰ کی گھاتی پر پہنچے تو پوچھا : ’’ یہ کو ن سی گھاٹی ہے ؟ ‘ ‘ لوگوں نے کہا : یہ ہرشیٰ کی گھاٹی ہے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ جیسے میں یونس بن متی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو دیکھ رہا ہوں جو سرخ رنگ کی مضبوط بدن اونٹنی پر سوار ہیں ، ان کے جسم پر اونی جبہ ہے ، ان کی اونٹنی کی نکیل کھجور کی چھال کی ہے اور وہ لبیک کہہ رہے ہیں ۔ ‘ ‘ ابن حنبل نے اپنی حدیث میں بیان کیا کہ ہشیم نے کہا : خلبة سے لیف ، یعنی کھجور کی چھال مراد ہے ۔
حدیث 421 — صحيح مسلم 1:326
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَمَرَرْنَا بِوَادٍ فَقَالَ ‏"‏ أَىُّ وَادٍ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا وَادِي الأَزْرَقِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ مِنْ لَوْنِهِ وَشَعْرِهِ شَيْئًا لَمْ يَحْفَظْهُ دَاوُدُ وَاضِعًا إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ لَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ثُمَّ سِرْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى ثَنِيَّةٍ فَقَالَ ‏"‏ أَىُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا هَرْشَى أَوْ لِفْتٌ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ خِطَامُ نَاقَتِهِ لِيفٌ خُلْبَةٌ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي مُلَبِّيًا ‏"‏ ‏.‏
ابن ابی عدی نے داؤد سے حدیث سنائی ، انہوں نےابو عالیہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان رات کے وقت سفر کیا ، ہم ایک وادی سے گزرے توآپ نے پوچھا : ’’ یہ کون سی وادی ہے ؟ ‘ ‘ لوگوں نے کہا : وادی ازرق ہے ، آپ نے فرمایا : ’’جیسے میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں ( آپ نے موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ کے رنگ اور بالوں کے بارے میں کچھ بتایا جو داود کویاد نہیں رہا ) موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ نے اپنی دو انگلیاں اپنے ( دونوں ) کانوں میں ڈالی ہوئی ہیں ، اس وادی سے گزرتے ہوئے ، تلبیہ کے ساتھ ، بلند آواز سے اللہ کے سامنے زاری کرتے جا رہے ہیں ۔ ‘ ‘ ( حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : پھر ہم چلے یہاں تک کہ ہم ایک ( اور ) گھاٹی پر پہنچے تو آپ نے پوچھا : ’’یہ کون سی گھاٹی ہے ؟ ‘ ‘ لوگوں نے جواب دیا : ہرشیٰ یا لفت ہے ۔ تو آپ نے فرمایا : ’’ جیسے میں یونس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو سرخ اونٹنی پر سوار دیکھ رہا ہوں ، ان کے بدن پر اونی جبہ ہے ، ان کی اونٹنی کی نکیل کھجور کی چھال کی ہے ، وہ تلبیہ کہتے ہوئے اس وادی سے گزر رہے ہیں ۔ ‘ ‘
حدیث 422 — صحيح مسلم 1:327
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرُوا الدَّجَّالَ فَقَالَ إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَمْ أَسْمَعْهُ ‏.‏ قَالَ ذَاكَ وَلَكِنَّهُ قَالَ ‏ "‏ أَمَّا إِبْرَاهِيمُ فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ وَأَمَّا مُوسَى فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِذَا انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي ‏"‏ ‏.‏
مجاہد سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : ہم ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس تھے تو لوگوں نے دجال کا تذکرہ چھیڑ دیا ، ( اس پر کسی نے ) کہا : اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا گا ۔ ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے فرمایا : میں نے آپ ﷺ سے نہیں سنا کہ آپ نے یہ کہا ہو لیکن آپ نے یہ فرمایا : ’’جہاں تک حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تعلق ہے تو اپنے صاحب ( نبیﷺ ) کو دیکھ لو اور موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ گندمی رنگ ، گٹھے ہوئے جسم کے مرد ہیں ، سرخ اونٹ پر سوار ہیں جس کی نکیل کھجور کی چھال کی ہے جیسے میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ جب وادی میں اترے ہیں تو تلبیہ کہہ رہے ہیں ۔ ‘ ‘
حدیث 423 — صحيح مسلم 1:328
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ عُرِضَ عَلَىَّ الأَنْبِيَاءُ فَإِذَا مُوسَى ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا صَاحِبُكُمْ - يَعْنِي نَفْسَهُ - وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا دِحْيَةُ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ ‏"‏ دِحْيَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ‏"‏ ‏.‏
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے انہوں نے ابو زبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ انبیائے کرام میرے سامنے لائے گئے ۔ موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ پھر پتلے بدن کے آدمی تھے ، جیسے قبیلہ شنوءہ کے مردوں میں سے ایک ہوں اور میں نے عیسیٰ ابن مریم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو دیکھا ، مجھے ان کے ساتھ سب سے قریبی مشابہت عروہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ میں نظر آتی ہے ، میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا ، مجھے ان کے ساتھ سب سے قریبی مشابہت تمہارے صاحب ( نبیﷺ ) میں نظرآئی ، یعنی خود آپ ۔ اور میں نے جبریل ‌علیہ ‌السلام ‌ کو ( انسانی شکل میں ) دیکھا ، میں نے ان کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت دحیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ میں دیکھی ۔ ‘ ‘ ابن رمح کی روایت میں ’’دحیہ بن خلیفہ ‘ ‘ ہے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔