حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کا : نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ’’جب مجھے اسراء کروایا گیا تو میں موسیٰ علیہ السلام سے ملا ( آپ نےان کا حلیہ بیان کیا : میرا خیال ہے آپ نے فرمایا : ) وہ ایک مضطرب ( کچھ لمبے اور پھر پتلے ) مرد ہیں ، لٹکتے بالوں والے ، جیسے وہ قبیلہ شنوءہ کے مردوں میں سے ہوں ( اور آپ نے فرمایا : ) میری ملاقات عیسیٰ علیہ السلام سے ہوئی ( آپﷺ نے ان کا حلیہ بیان فرمایا : ) وہ میانہ قامت ، سرخ رنگ کے تھے گویا ابھی دیماس ( یعنی حمام ) سے نکلے ہیں ۔ اور فرمایا : میں ابراہیم علیہ السلام سے ملا ، ان کی اولاد میں سے میں ان کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہ ہوں ( آپ ﷺ نے فرمایا ) میرے پاس دو برتن لائے گئے ، ایک میں دودھ اور دوسرے میں شراب تھی ، مجھ سے کہا گیا : ان میں سے جو چاہیں لے لیں ۔ میں نے دودھ لیا اور اسے پی لیا ، ( جبریل علیہ السلام نے ) کہا کہ آپ کو فطرت کی راہ پر چلایا گیا ہے ( یا آپ نے فطرت کو پا لیا ہے ) اگر آپ شراب پی لیتے تو آپ کی امت راستے سے ہٹ جاتی ۔ ‘ ‘
مالک ( بن انس ) نے نافع سے اور ا نہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ میں نے ایک رات اپنے آپ کو کعبہ کے پاس دیکھا تو میں نے ایک گندم گوں شخص دیکھا ، گندم گوں لوگوں میں سے سب سے خوبصورت تھا جنہیں تم دیکھتے ہو ، ان کی لمبی لمبی لٹیں تھیں جو ان لٹوں میں سے سب سے خوبصورت تھیں جنہیں تم دیکھتے ہو ، ان کو کنگھی کی ہوئی تھی اور ان میں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے ، دوآدمیوں کا ( یا دو آدمیوں کے کندھوں کا ) سہارا لیا ہوا تھا ۔ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے ۔ میں نے پوچھا : یہ کون ہیں ؟ کہا گیا : یہ مسیح ابن مریم رضی اللہ عنہ ہیں ۔ پھراچانک میں نے ایک آدمی دیکھا ، الجھے ہوئے گھنگریالے بالوں والا ، دائیں آنکھ کانی تھی ، جیسے انگور کا ابھرا ہوا دانہ ہو ، میں نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ تو کہاگیا : یہ مسیح دجال ( جھوٹا یا مصنوعی مسیح ) ہے ۔ ‘ ‘
موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن لوگوں کے سامنے مسیح دجال کا تذکرہ کیا اور فرمایا : ’’ ا للہ تبارک وتعالیٰ کانا نہیں ہے ، خبردار رہنا ! مسیح دجال دائیں آنکھ سے کانا ہے جیسے انگور کا بے نور دانہ ہو ۔ ‘ ‘ کہا : آپﷺ نے فرمایا : ’’ میں نے رات اپنے آپ کو نیند کے عالم میں کعبہ کے پاس دیکھا تو میں ایک گندم گوں شخص دیکھا ، گندم گوں لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھا جنہیں تم دیکھتے ہو ۔ اس کے سر کی لٹیں کندھوں کے درمیان تک لٹک رہی ہیں ، بال کنگھی کیے ہوئے ، سر سے پانی لٹک رہا ہے اور اپنے دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے اور ان دونوں کے درمیان بیت اللہ شریف کاطواف کر رہا ہے ، میں نے پوچھا : یہ کون ہیں ؟ تو انہوں ( جواب دینے والوں ) نے کہا : یہ مسیح ابن مریم رضی اللہ عنہ ہیں ۔ میں نے ان کے پیچھے ایک آدمی دیکھا ، اس کے بال الجھے ہوئے گھنگریالے تھے ، دائیں آنکھ سے کانا ، جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے ان میں وہ سب سے زیادہ ( عبد العزیٰ ) ابن قطن کے مشابہ تھا ، وہ اپنے دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا ، میں نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا : یہ جعلی مسیح ہے ۔ ‘ ‘
حنظلہ نے سالم کے واسطے سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ میں نے کعبہ کے پاس ایک گندم گوں ، سر کے سیدھے کھلے بالوں والے آدمی کو دیکھا جو اپنے دونوں ہاتھ دو آدمیوں پر رکھے ہوئے تھا ، اس کے سر سے پانی بہہ رہا تھا ( یا اس کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے ) میں نے پوچھا : یہ کون ہیں ؟ تو انہوں ( جواب دینے والوں ) نے کہا : عیسیٰ ابن مریم یا مسیح ابن مریم ( راوی کو یاد نہ تھا کہ ( دونوں میں سے ) کو ن سالفظ کہا تھا ) او ران کے پیچھے میں نے ایک آدمی دیکھا : سرخ رنگ کا ، سر کےبال گھنگریالے اور دائیں آنکھ سے کانا ، میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے ، ان میں سب سے زیادہ ابن قطن اس کے مشابہ ہے ۔ میں نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا : مسیح دجال ہے ۔ ‘ ‘
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جب قریش نے مجھے جھٹلایا ، میں نے حجر ( حطیم ) میں کھڑا ہو گیا ، اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس میرے سامنے اچھی طرح نمایاں کر دیا اور میں نے اسے دیکھ کر اس کی نشانیاں ان کو بتانی شروع کر دیں ۔ ‘ ‘
ابن شہاب نےسالم بن عبد اللہ بن عمر سے ، انہوں نے اپنے والد حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نےکہا : میں نے رسو ل اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’ جب میں نیند میں تھا ، میں نے اپنے آپ کو کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور دیکھا کہ ایک آدمی ہے جس کا رنگ گندمی ہے ، بال سیدھے ہیں ، اور دو آدمیٔن کے درمیان ہے ، اس کا سر پانی ٹپکا رہا ہے ( یا اس کا سر پانی گرا رہا ہے ) میں نے پوچھا : یہ کون ہیں ؟ ( جواب دینے والوں نے ) کہا : یہ ابن مریم ہیں ۔ پہر میں دیکھتا گیا تو اچانک ایک سرخ رنگ کا آدمی ( سامنے ) تھا ، جسم کا بھاری ، سر کے بال گھنگریالے ، آنکھ کانی ، جیسے ابھرا ہوا انگور کا دانہ ہو ، میں نے پوچھا : یہ کو ن ہے ؟ انہوں نے کہا : دجال ہے ، لوگوں میں اس کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہ ابن قطن ہے ۔ ‘ ‘
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ میں نے اپنے آپ کو حجر ( حطیم ) میں دیکھا ، قریش مجھ سے میرے رات کے سفر کے بارے میں سوال کر رہے تھے ، انہوں نے مجھ سے بیت المقدس کی کچھ چیزوں کےبارے میں پوچھا جو میں نے غور سے نہ دیکھی تھیں ، میں اس قدر پریشانی میں مبتلا ہواکہ کبھی اتنا پریشان نہ ہوا تھا ، آپ نے فرمایا : ’’اس پر اللہ تعالیٰ نے اس ( بیت المقدس ) اٹھا کر میرے سامنے کر دیا میں اس کی طرف دیکھ رہاتھا ، وہ مجھ سے جس چیز کے بارے میں بھی پوچھتے ، میں انہیں بتا دیتا ۔ اور میں نے خود کو انبیاء کی ایک جماعت میں دیکھا تو وہاں موسیٰ علیہ السلام تھے کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے ، جیسے قبیلہ شنوءہ کے آدمیوں میں سے ایک ہوں ۔ اور عیسیٰ ابن مریم ( رضی اللہ عنہ ) کو دیکھا ، وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ، لوگوں میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ ہیں ۔ اور ( وہاں ) ابراہیم علیہ السلام بھی کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ، لوگوں میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ تمہارے صاحب ہیں ، آپ نے اپنی ذلت مراد لی ، پھر نماز کا وقت ہو گیا تو میں نے ان سب کی امامت کی ۔ جب میں نماز سے فارغ ہو ا تو ایک کہنے والے نے کہا : اے محمد! یہ مالک ہیں ، جہنم کے داروغے ، انہیں سلام کہیے : میں ان کی طرف متوجہ ہوا تو انہوں نے پہل کر کے مجھےسلام کیا ۔ ‘ ‘
حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سےروایت ہے ، انہوں نے کہا : جب رسول اللہ ﷺ کو ’’اسراء ‘ ‘ کروایا گیا تو آپ کوسدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا ، وہ چھٹے آسمان پر ہے ، ( جبکہ اس کی شاخیں ساتویں آسمان کے اوپر ہیں ) وہ سب چیزیں جنہیں زمین سے اوپر لے جایا جاتا ہے ، اس تک پہنچتی ہیں اوروہاں سے انہیں لے لیا جاتا ہے اور وہ چیزیں جنہیں اوپر سے نیچے لایا جاتا ہے ، وہاں پہنچتی ہیں اور وہیں سے انہیں وصول کر لیا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ’’ جب ڈھانپ لیا ، سدرہ ( بیری کے درخت ) کو جس چیز نے ڈھانپا ۔ ‘ ‘ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : سونے کےپتنگوں نے ۔ اور کہا : پھر رسول اللہ ﷺ کو تین چیزیں عطا کی گئیں : پانچ نمازیں عطا کی گئیں ، سورۃ بقرہ کی آخری آیات عطا کی گئیں اور آپ کی امت کے ( ایسے ) لوگوں کے ( جنہوں نے اللہ کے ساتھ شرک نہیں کیا ) جہنم میں پہنچانے والے ( بڑے بڑے ) گناہ معاف کر دیے گئے ۔
عباد بن عوام نے کہا : ہمیں شیبانی نے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے زربن حبیش سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں سوال کیا : ’’وہ دو کمان کے برابر فاصلے پر تھے یا اس سے بھی زیادہ قریب تھے ۔ ‘ ‘ زر نے کہا : مجھے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نےخبر دی کہ رسو ل اللہﷺنےجبریل علیہ السلام کو دیکھا ، ان کے چھ سو پر تھے ۔
حفص بن غیاث نے شیبانی سے حدیث سنائی ، انہوں نے زر سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے آیت : ’’جھوٹ نہ دیکھا دل نے ، جو دیکھا ‘ ‘ پڑھی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے جبریلﷺ کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے ۔