قرآني·Qurani
اردو

الفضائل

5785 احادیث · #384–6168

حدیث 424 — صحيح مسلم 1:329
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ عَبْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ حِينَ أُسْرِيَ بِي لَقِيتُ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - ‏"‏ ‏.‏ فَنَعَتَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَإِذَا رَجُلٌ - حَسِبْتُهُ قَالَ - مُضْطَرِبٌ رَجِلُ الرَّأْسِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ - قَالَ - وَلَقِيتُ عِيسَى ‏"‏ ‏.‏ فَنَعَتَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَإِذَا رَبْعَةٌ أَحْمَرُ كَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيمَاسٍ ‏"‏ ‏.‏ - يَعْنِي حَمَّامًا - قَالَ ‏"‏ وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ - صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ - وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِهِ بِهِ - قَالَ - فَأُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا لَبَنٌ وَفِي الآخَرِ خَمْرٌ فَقِيلَ لِي خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ ‏.‏ فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَشَرِبْتُهُ ‏.‏ فَقَالَ هُدِيتَ الْفِطْرَةَ أَوْ أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، کا : نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ’’جب مجھے اسراء کروایا گیا تو میں موسیٰ علیہ السلام سے ملا ( آپ نےان کا حلیہ بیان کیا : میرا خیال ہے آپ نے فرمایا : ) وہ ایک مضطرب ( کچھ لمبے اور پھر پتلے ) مرد ہیں ، لٹکتے بالوں والے ، جیسے وہ قبیلہ شنوءہ کے مردوں میں سے ہوں ( اور آپ نے فرمایا : ) میری ملاقات عیسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ سے ہوئی ( آپﷺ نے ان کا حلیہ بیان فرمایا : ) وہ میانہ قامت ، سرخ رنگ کے تھے گویا ابھی دیماس ( یعنی حمام ) سے نکلے ہیں ۔ اور فرمایا : میں ابراہیم علیہ السلام سے ملا ، ان کی اولاد میں سے میں ان کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہ ہوں ( آپ ﷺ نے فرمایا ) میرے پاس دو برتن لائے گئے ، ایک میں دودھ اور دوسرے میں شراب تھی ، مجھ سے کہا گیا : ان میں سے جو چاہیں لے لیں ۔ میں نے دودھ لیا اور اسے پی لیا ، ( جبریل ‌علیہ ‌السلام ‌ نے ) کہا کہ آپ کو فطرت کی راہ پر چلایا گیا ہے ( یا آپ نے فطرت کو پا لیا ہے ) اگر آپ شراب پی لیتے تو آپ کی امت راستے سے ہٹ جاتی ۔ ‘ ‘
حدیث 425 — صحيح مسلم 1:330
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَرَانِي لَيْلَةً عِنْدَ الْكَعْبَةِ فَرَأَيْتُ رَجُلاً آدَمَ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ لَهُ لِمَّةٌ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ اللِّمَمِ قَدْ رَجَّلَهَا فَهِيَ تَقْطُرُ مَاءً مُتَّكِئًا عَلَى رَجُلَيْنِ - أَوْ عَلَى عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ - يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقِيلَ هَذَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ‏.‏ ثُمَّ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ جَعْدٍ قَطَطٍ أَعْوَرِ الْعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقِيلَ هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ ‏"‏ ‏.‏
مالک ( بن انس ) نے نافع سے اور ا نہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ میں نے ایک رات اپنے آپ کو کعبہ کے پاس دیکھا تو میں نے ایک گندم گوں شخص دیکھا ، گندم گوں لوگوں میں سے سب سے خوبصورت تھا جنہیں تم دیکھتے ہو ، ان کی لمبی لمبی لٹیں تھیں جو ان لٹوں میں سے سب سے خوبصورت تھیں جنہیں تم دیکھتے ہو ، ان کو کنگھی کی ہوئی تھی اور ان میں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے ، دوآدمیوں کا ( یا دو آدمیوں کے کندھوں کا ) سہارا لیا ہوا تھا ۔ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے ۔ میں نے پوچھا : یہ کون ہیں ؟ کہا گیا : یہ مسیح ابن مریم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ہیں ۔ پھراچانک میں نے ایک آدمی دیکھا ، الجھے ہوئے گھنگریالے بالوں والا ، دائیں آنکھ کانی تھی ، جیسے انگور کا ابھرا ہوا دانہ ہو ، میں نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ تو کہاگیا : یہ مسیح دجال ( جھوٹا یا مصنوعی مسیح ) ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 426 — صحيح مسلم 1:331
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، - يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ - عَنْ مُوسَى، - وَهُوَ ابْنُ عُقْبَةَ - عَنْ نَافِعٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا بَيْنَ ظَهْرَانَىِ النَّاسِ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ أَلاَ إِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرَانِي اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ عِنْدَ الْكَعْبَةِ فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ كَأَحْسَنِ مَا تَرَى مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ تَضْرِبُ لِمَّتُهُ بَيْنَ مَنْكِبَيْهِ رَجِلُ الشَّعَرِ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً ‏.‏ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَنْكِبَىْ رَجُلَيْنِ وَهُوَ بَيْنَهُمَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالُوا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ‏.‏ وَرَأَيْتُ وَرَاءَهُ رَجُلاً جَعْدًا قَطَطًا أَعْوَرَ عَيْنِ الْيُمْنَى كَأَشْبَهِ مَنْ رَأَيْتُ مِنَ النَّاسِ بِابْنِ قَطَنٍ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَنْكِبَىْ رَجُلَيْنِ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ ‏"‏ ‏.‏
موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن لوگوں کے سامنے مسیح دجال کا تذکرہ کیا اور فرمایا : ’’ ا للہ تبارک وتعالیٰ کانا نہیں ہے ، خبردار رہنا ! مسیح دجال دائیں آنکھ سے کانا ہے جیسے انگور کا بے نور دانہ ہو ۔ ‘ ‘ کہا : آپﷺ نے فرمایا : ’’ میں نے رات اپنے آپ کو نیند کے عالم میں کعبہ کے پاس دیکھا تو میں ایک گندم گوں شخص دیکھا ، گندم گوں لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھا جنہیں تم دیکھتے ہو ۔ اس کے سر کی لٹیں کندھوں کے درمیان تک لٹک رہی ہیں ، بال کنگھی کیے ہوئے ، سر سے پانی لٹک رہا ہے اور اپنے دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے اور ان دونوں کے درمیان بیت اللہ شریف کاطواف کر رہا ہے ، میں نے پوچھا : یہ کون ہیں ؟ تو انہوں ( جواب دینے والوں ) نے کہا : یہ مسیح ابن مریم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ہیں ۔ میں نے ان کے پیچھے ایک آدمی دیکھا ، اس کے بال الجھے ہوئے گھنگریالے تھے ، دائیں آنکھ سے کانا ، جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے ان میں وہ سب سے زیادہ ( عبد العزیٰ ) ابن قطن کے مشابہ تھا ، وہ اپنے دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا ، میں نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا : یہ جعلی مسیح ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 427 — صحيح مسلم 1:332
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ رَأَيْتُ عِنْدَ الْكَعْبَةِ رَجُلاً آدَمَ سَبِطَ الرَّأْسِ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى رَجُلَيْنِ ‏.‏ يَسْكُبُ رَأْسُهُ - أَوْ يَقْطُرُ رَأْسُهُ - فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالُوا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ أَوِ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ - لاَ نَدْرِي أَىَّ ذَلِكَ قَالَ - وَرَأَيْتُ وَرَاءَهُ رَجُلاً أَحْمَرَ جَعْدَ الرَّأْسِ أَعْوَرَ الْعَيْنِ الْيُمْنَى أَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ ابْنُ قَطَنٍ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالُوا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ ‏"‏ ‏.‏
حنظلہ نے سالم کے واسطے سے حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث سنائی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ میں نے کعبہ کے پاس ایک گندم گوں ، سر کے سیدھے کھلے بالوں والے آدمی کو دیکھا جو اپنے دونوں ہاتھ دو آدمیوں پر رکھے ہوئے تھا ، اس کے سر سے پانی بہہ رہا تھا ( یا اس کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے ) میں نے پوچھا : یہ کون ہیں ؟ تو انہوں ( جواب دینے والوں ) نے کہا : عیسیٰ ابن مریم یا مسیح ابن مریم ( راوی کو یاد نہ تھا کہ ( دونوں میں سے ) کو ن سالفظ کہا تھا ) او ران کے پیچھے میں نے ایک آدمی دیکھا : سرخ رنگ کا ، سر کےبال گھنگریالے اور دائیں آنکھ سے کانا ، میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے ، ان میں سب سے زیادہ ابن قطن اس کے مشابہ ہے ۔ میں نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا : مسیح دجال ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 428 — صحيح مسلم 1:333
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَمَّا كَذَّبَتْنِي قُرَيْشٌ قُمْتُ فِي الْحِجْرِ فَجَلاَ اللَّهُ لِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَطَفِقْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ آيَاتِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جب قریش نے مجھے جھٹلایا ، میں نے حجر ( حطیم ) میں کھڑا ہو گیا ، اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس میرے سامنے اچھی طرح نمایاں کر دیا اور میں نے اسے دیکھ کر اس کی نشانیاں ان کو بتانی شروع کر دیں ۔ ‘ ‘
حدیث 429 — صحيح مسلم 1:334
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي أَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ سَبِطُ الشَّعْرِ بَيْنَ رَجُلَيْنِ يَنْطِفُ رَأْسُهُ مَاءً - أَوْ يُهَرَاقُ رَأْسُهُ مَاءً - قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا ابْنُ مَرْيَمَ ‏.‏ ثُمَّ ذَهَبْتُ أَلْتَفِتُ فَإِذَا رَجُلٌ أَحْمَرُ جَسِيمٌ جَعْدُ الرَّأْسِ أَعْوَرُ الْعَيْنِ كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ ‏.‏ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا الدَّجَّالُ ‏.‏ أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا ابْنُ قَطَنٍ ‏"‏ ‏.‏
ابن شہاب نےسالم بن عبد اللہ بن عمر سے ، انہوں نے اپنے والد حضرت عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نےکہا : میں نے رسو ل اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’ جب میں نیند میں تھا ، میں نے اپنے آپ کو کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور دیکھا کہ ایک آدمی ہے جس کا رنگ گندمی ہے ، بال سیدھے ہیں ، اور دو آدمیٔن کے درمیان ہے ، اس کا سر پانی ٹپکا رہا ہے ( یا اس کا سر پانی گرا رہا ہے ) میں نے پوچھا : یہ کون ہیں ؟ ( جواب دینے والوں نے ) کہا : یہ ابن مریم ہیں ۔ پہر میں دیکھتا گیا تو اچانک ایک سرخ رنگ کا آدمی ( سامنے ) تھا ، جسم کا بھاری ، سر کے بال گھنگریالے ، آنکھ کانی ، جیسے ابھرا ہوا انگور کا دانہ ہو ، میں نے پوچھا : یہ کو ن ہے ؟ انہوں نے کہا : دجال ہے ، لوگوں میں اس کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہ ابن قطن ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 430 — صحيح مسلم 1:335
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي الْحِجْرِ وَقُرَيْشٌ تَسْأَلُنِي عَنْ مَسْرَاىَ فَسَأَلَتْنِي عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ لَمْ أُثْبِتْهَا ‏.‏ فَكُرِبْتُ كُرْبَةً مَا كُرِبْتُ مِثْلَهُ قَطُّ قَالَ فَرَفَعَهُ اللَّهُ لِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ مَا يَسْأَلُونِي عَنْ شَىْءٍ إِلاَّ أَنْبَأْتُهُمْ بِهِ وَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي جَمَاعَةٍ مِنَ الأَنْبِيَاءِ فَإِذَا مُوسَى قَائِمٌ يُصَلِّي فَإِذَا رَجُلٌ ضَرْبٌ جَعْدٌ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ وَإِذَا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - قَائِمٌ يُصَلِّي أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ وَإِذَا إِبْرَاهِيمُ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - قَائِمٌ يُصَلِّي أَشْبَهُ النَّاسِ بِهِ صَاحِبُكُمْ - يَعْنِي نَفْسَهُ - فَحَانَتِ الصَّلاَةُ فَأَمَمْتُهُمْ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنَ الصَّلاَةِ قَالَ قَائِلٌ يَا مُحَمَّدُ هَذَا مَالِكٌ صَاحِبُ النَّارِ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ ‏.‏ فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَبَدَأَنِي بِالسَّلاَمِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ میں نے اپنے آپ کو حجر ( حطیم ) میں دیکھا ، قریش مجھ سے میرے رات کے سفر کے بارے میں سوال کر رہے تھے ، انہوں نے مجھ سے بیت المقدس کی کچھ چیزوں کےبارے میں پوچھا جو میں نے غور سے نہ دیکھی تھیں ، میں اس قدر پریشانی میں مبتلا ہواکہ کبھی اتنا پریشان نہ ہوا تھا ، آپ نے فرمایا : ’’اس پر اللہ تعالیٰ نے اس ( بیت المقدس ) اٹھا کر میرے سامنے کر دیا میں اس کی طرف دیکھ رہاتھا ، وہ مجھ سے جس چیز کے بارے میں بھی پوچھتے ، میں انہیں بتا دیتا ۔ اور میں نے خود کو انبیاء کی ایک جماعت میں دیکھا تو وہاں موسیٰ علیہ السلام تھے کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے ، جیسے قبیلہ شنوءہ کے آدمیوں میں سے ایک ہوں ۔ اور عیسیٰ ابن مریم ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) کو دیکھا ، وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ، لوگوں میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ عروہ بن مسعود ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ہیں ۔ اور ( وہاں ) ابراہیم علیہ السلام بھی کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ، لوگوں میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ تمہارے صاحب ہیں ، آپ نے اپنی ذلت مراد لی ، پھر نماز کا وقت ہو گیا تو میں نے ان سب کی امامت کی ۔ جب میں نماز سے فارغ ہو ا تو ایک کہنے والے نے کہا : اے محمد! یہ مالک ہیں ، جہنم کے داروغے ، انہیں سلام کہیے : میں ان کی طرف متوجہ ہوا تو انہوں نے پہل کر کے مجھےسلام کیا ۔ ‘ ‘
حدیث 431 — صحيح مسلم 1:336
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمَّا أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْتُهِيَ بِهِ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَهِيَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ إِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا يُعْرَجُ بِهِ مِنَ الأَرْضِ فَيُقْبَضُ مِنْهَا وَإِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا يُهْبَطُ بِهِ مِنْ فَوْقِهَا فَيُقْبَضُ مِنْهَا قَالَ ‏{‏ إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى‏}‏ قَالَ فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ ‏.‏ قَالَ فَأُعْطِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثًا أُعْطِيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَأُعْطِيَ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَغُفِرَ لِمَنْ لَمْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ مِنْ أُمَّتِهِ شَيْئًا الْمُقْحِمَاتُ ‏.‏
حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت ہے ، انہوں نے کہا : جب رسول اللہ ﷺ کو ’’اسراء ‘ ‘ کروایا گیا تو آپ کوسدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا ، وہ چھٹے آسمان پر ہے ، ( جبکہ اس کی شاخیں ساتویں آسمان کے اوپر ہیں ) وہ سب چیزیں جنہیں زمین سے اوپر لے جایا جاتا ہے ، اس تک پہنچتی ہیں اوروہاں سے انہیں لے لیا جاتا ہے اور وہ چیزیں جنہیں اوپر سے نیچے لایا جاتا ہے ، وہاں پہنچتی ہیں اور وہیں سے انہیں وصول کر لیا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ’’ جب ڈھانپ لیا ، سدرہ ( بیری کے درخت ) کو جس چیز نے ڈھانپا ۔ ‘ ‘ عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : سونے کےپتنگوں نے ۔ اور کہا : پھر رسول اللہ ﷺ کو تین چیزیں عطا کی گئیں : پانچ نمازیں عطا کی گئیں ، سورۃ بقرہ کی آخری آیات عطا کی گئیں اور آپ کی امت کے ( ایسے ) لوگوں کے ( جنہوں نے اللہ کے ساتھ شرک نہیں کیا ) جہنم میں پہنچانے والے ( بڑے بڑے ) گناہ معاف کر دیے گئے ۔
حدیث 432 — صحيح مسلم 1:337
وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْعَوَّامِ - حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ سَأَلْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى‏}‏ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ ‏.‏
عباد بن عوام نے کہا : ہمیں شیبانی نے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے زربن حبیش سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں سوال کیا : ’’وہ دو کمان کے برابر فاصلے پر تھے یا اس سے بھی زیادہ قریب تھے ۔ ‘ ‘ زر نے کہا : مجھے عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےخبر دی کہ رسو ل اللہﷺنےجبریل ‌علیہ ‌السلام ‌ کو دیکھا ، ان کے چھ سو پر تھے ۔
حدیث 433 — صحيح مسلم 1:338
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ ‏{‏ مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى‏}‏ قَالَ رَأَى جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ ‏.‏
حفص بن غیاث نے شیبانی سے حدیث سنائی ، انہوں نے زر سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے آیت : ’’جھوٹ نہ دیکھا دل نے ، جو دیکھا ‘ ‘ پڑھی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے جبریلﷺ کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔