شعبہ نے سلیمان شیبانی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے زربن حبیش سے سنا کہا کہ حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ نے آیت ’’آپ نے اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں ‘ ‘ پڑھی ، کہا : رسو ل اللہ ﷺ نے جبرئیل کو ان کی ( اصل ) صورت میں دیکھا ، ان کے چھ سو پر تھے ۔
حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ( اللہ کے فرمان ) آپ ﷺنے اسے ایک اور بار اترتےہوئے دیکھا ( کے بارے میں کہا’’آپﷺ نے جبرائیل علیہ سلام کو دیکھا)
وکیع نے کہا : ہمیں اعمش نے زیاد بن حصین ابو جہمہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو عالیہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے آیت : ﴿مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى﴾ ’’جھوٹ نہ دیکھا دل نے جو دیکھا ‘ ‘ اور ﴿وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى﴾ ’’اور آپ نے اسے ایک بار اترتے ہوئے دیکھا ‘ ‘ ( کےبارے میں ) کہا : رسول ا للہ ﷺ نے اسے ( رب تعالیٰ کو ) اپنے دل دو بار دیکھا ۔
اسماعیل بن ابراہیم نے داود سے ، انہوں نے شعبی سے اور انہوں نے مسروق سے روایت کی ، کہا : میں حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں ٹیک لگائے ہوئے بیٹھا تھا کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : ابو عائشہ ! ( یہ مسروق کی کنیت ہے ) تین چیزیں ہیں جس نے ان میں سے کوئی بات کہی ، اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا ، میں نے پوچھا : وہ باتیں کون سی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : جس نے یہ گمان کیا کہ محمدﷺ نے اپنےرب کو دیکھا ہے تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا ۔ انہوں نےکہا : میں ٹیک لگائے ہوئے تھا تو ( یہ بات سنتے ہی ) سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور کہا : ام المومنین !مجھے ( بات کرنے کا ) موقع دیجیے اور جلدی نہ کیجیے ، کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا : ’’ بےشک انہوں نے اسے روشن کنارے پر دیکھا ‘ ‘ ( اسی طرح ) ’’اور آپ ﷺ نے اسے ایک بار اترتے ہوئے دیکھا ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : میں اس امت میں سب سے پہلی ہوں جس نے اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سےسوال کیا تو آپ نے فرمایا : ’’ وہ یقیناً جبرئیل ہیں ، میں انہیں اس شکل میں ، جس میں پیدا کیے گئے ، دو دفعہ کے علاوہ کبھی نہیں دیکھا : ایک دفعہ میں نے انہیں آسمان سے اترتے دیکھا ، ان کے وجود کی بڑائی نے آسمان و زمین کےدرمیان کی وسعت کو بھر دیا تھا ‘ ‘ پھر ام المومنین نے فرمایا : کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا فرمان نہیں سنا : ’’ آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور وہ آنکھوں کا ادراک کرتا ہے اور وہ باریک بین ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے ‘ ‘ اور کیا تم نے یہ نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’ اور کسی بشر میں طاقت نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے ذریعے سے یا پردے کی اوٹ سے یا وہ کسی پیغام لانےوالا ( فرشتے ) کو بھیجے تو وہ اس کے حکم سے جو چاہے وحی کرے بلاشبہ وہ بہت بلند اوردانا ہے ۔ ‘ ‘ ( ام المومنین نے ) فرمایا : جوشخص یہ سمجھتا ہے کہ رسول ا للہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سے کچھ چھپا لیا تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’اے رسول ! پہنچا دیجیے جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا اور اگر ( بالفرض ) آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اس کا پیغام نہ پہنچایا ( فریضئہ رسالت ادا نہ کیا ۔ ) ‘ ‘ ( اور ) انہوں نے فرمایا : اور جوشخص یہ کہے کہ آپ اس بات کی خبر دے دیتے ہیں کہ کل کیا ہو گا تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’ ( اے نبی! ) فرما دیجیے ! کوئی ایک بھی جو آسمانوں اور زمین میں ہے ، غیب نہیں جانتا ، سوائے اللہ کے ۔ ‘ ‘
(اسماعیل کے بجائے ) عبدالوہاب نے کہا : ہمیں داود نے اسی طرح حدیث سنائی ( اسماعیل بن ابراہیم ) ابن علیہ سے بیان کی اور اس میں اضافہ کیا کہ ( حضرت عائشہؓ نے ) فرمایا : اگر محمدﷺ کسی ایک چیز کو جو آپ پر نازل کی گئی ، چھپانے والے ہوتے ، تو آپ یہ آیت چھپا لیتے : ’’ اور جب آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے انعام فرمایا اور آپ نے ( بھی ) انعام فرمایا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو اور اللہ سے ڈرو اور آپ اپنے جی میں وہ ہر چیز چھپا رہے تھے جسے اللہ ظاہر کرنا چاہتا تھا ، آپ لوگوں ( کےطعن و تشنیع ) سے ڈر رہے تھے ، حالانکہ اللہ ہی سب سے زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں ۔ ‘ ‘
حدیث 441 — صحيح مسلم 1:346
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم رَبَّهُ فَقَالَتْ سُبْحَانَ اللَّهِ لَقَدْ قَفَّ شَعْرِي لِمَا قُلْتَ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ . وَحَدِيثُ دَاوُدَ أَتَمُّ وَأَطْوَلُ .
اسماعیل ( بن ابی خالد ) نے ( عامر بن شراحیل ) شعبی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے مسروق سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا : کیا محمدﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ انہوں نے کہا : سبحان اللہ ! جو تم نے کہا اس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں ۔ پھر ( اسماعیل نے ) پورے قصے سمیت حدیث بیان کی لیکن داود کی روایت زیادہ کامل اور طویل ہے ۔
(سعید بن عمرو ) ابن اشوع نے عامر ( شعبی ) سے ، انہوں نے مسروق سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نےحضرت عائشہ ؓ سے عرض کی : اللہ تعالیٰ کے اس قول کا کیا مطلب ہو گا : ’’ پھر وہ قریب ہوا اور اتر آیا اور د وکمانوں کے برابر یا اس سے کم فاصلے پر تھا ، پھر اس نے اس کے بندے کی طرف وحی کی جو وحی کی ؟ ‘ ‘ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : وہ تو جبریل تھے ، وہ ہمیشہ آپ کے پاس انسانوں کی شکل میں آتے تھے اور اس دفعہ وہ آپ کے پاس اپنی اصل شکل میں آئے اور انہوں نے آسمان کے افق کو بھر دیا ۔
یزید بن ابراہیم نے قتادہ سے ، انہوں نے عبد اللہ بن شقیق سے اور انہوں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا؟ آپ نے جواب دیا : ’’ وہ نو ر ہے ، میں اسے کہاں سے دیکھوں! ‘ ‘