وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ . غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَحَرَّمَ عَلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَلَمْ يَقُلْ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ .
شیبان نے منصور سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ، مگر انہوں نے کہا : " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم پر حرام کی ہیں " اور انہوں نے یہ نہیں کہا : " بلاشبہ اللہ نے تم پر حرام کی ہیں
حدیث 4485 — صحيح مسلم 30:16
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَشْوَعَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، حَدَّثَنِي كَاتِبُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ اكْتُبْ إِلَىَّ بِشَىْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلاَثًا قِيلَ وَقَالَ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ " .
شعبی سے روایت ہے ، کہا : مجھے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا : مجھے کوئی ایسی چیز لکھ کر بھیجیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو ۔ تو انہوں نے ان کو لکھا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " بلاشبہ اللہ نے تمہارے لیے تین چیزوں کو ناپسند کیا ہے : قیل و قال ، مال کا ضیاع اور کثرتِ سوال
محمد بن عبیداللہ ثفقی نے ہمیں وراد سے خبر دی ، انہوں نے کہا : حضرت مغیرہ ( بن شعبہ رضی اللہ عنہ ) نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا : آپ پر سلامتی ہو ۔ اس کے بعد! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " بلاشبہ اللہ نے تین حرام کی ہیں اور تین چیزوں سے منع فرمایا ہے : اس نے والد کی نافرمانی ، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے اور نہ دو اور لاؤ ( اپنے ذمے حقوق کی ادائیگی نہ کرنے اور ناجائز حقوق کا مطالبہ کرنے ) کو حرام کیا ہے ۔ اور تین باتوں سے منع کیا ہے : قیل و قال ( فضول باتوں ) سے ، کثرتِ سوال سے ، اور مال ضائع کرنے سے
مجھے یحییٰ بن یحییٰ تمیمی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبدالعزیز بن محمد نے یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد سے خبر دی ، انہوں نے محمد بن ابراہیم سے ، انہوں نے بسر بن سعید سے ، انہوں نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے مولیٰ ابوقیس سے اور انہوں نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فرمایا : " جب کوئی حاکم فیصلہ کرے اور اجتہاد ( ھقیقت کو سمجھنے کی بھرپور کوشش ) کرے ، پھر وہ حق بجانب ہو تو اس کے لیے دو اجر ہیں اور جب وہ فیصلہ کرے اور اجتہاد کرے ، پھر وہ ( فیصلے میں ) غلطی کر جائے تو اس کے لیے ایک اجر ہے
اسحاق بن ابراہیم اور محمد بن ابی عمر دونوں نے عبدالعزیز بن محمد سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی اور حدیث کے آخر میں اضافہ کیا : " یزید نے کہا : میں نے یہ حدیث ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم کو سنائی تو انہوں نے کہا : مجھے ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح حدیث بیان کی تھی
لیث بن سعد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھے یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد لیث نے ( اپنی ) دونوں سندوں سے یہی حدیث عبدالعزیز بن محمد کی روایت کے مانند بیان کی
ابوعوانہ نے ہمیں عبدالملک بن عمیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی بکرہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے والد نے سجستان کے قاضی عبیداللہ بن ابی بکرہ کو خط لکھوایا ۔ ۔ اور میں نے لکھا ۔ ۔ کہ جب تم غصے کی حالت میں ہو ، تو دو آدمیوں کے مابین فیصلہ نہ کرنا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " کوئی شخص جب وہ غصے کی حالت میں ہو دو ( انسانوں/فریقوں ) کے مابین فیصلہ نہ کرے
ہشیم ، حماد بن سلمہ ، سفیان ، محمد بن جعفر ، شعبہ اور زائدہ سب نے عبدالملک بن عمیر سے ، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی بکرہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی جس طرح ابوعوانہ کی حدیث ہے
ابراہیم بن سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمان بن عوف نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں میرے والد نے قاسم بن محمد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے ہمارے اس امر ( دین ) میں کوئی ایسی نئی بات شروع کی جو اس میں نہیں تو وہ مردود ہے
عبداللہ بن جعفر زہری نے ہمیں سعد بن ابراہیم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے قاسم بن محمد سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جس کے تین گھر ہیں اور اس نے ان میں سے ہر گھر کے ایک تہائی حصے کی وصیت کی ہے ۔ انہوں نے جواب دیا ۔ اس کے تہائی کو ایک گھر کی صورت میں جمع کر دیا جائے گا ۔ پھر انہوں نے کہا : مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے ایسا عمل کیا ، ہمارا دین جس کے مطابق نہیں تو وہ مردود ہے