قرآني·Qurani
اردو

الفضائل

5785 احادیث · #384–6168

حدیث 4494 — صحيح مسلم 30:25
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، الْجُهَنِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ الَّذِي يَأْتِي بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا ‏"‏ ‏.‏
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تمہیں بہترین گواہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہی جو شہادت طلب کیے جانے سے پہلے اپنی گواہی پیش کر دے
حدیث 4495 — صحيح مسلم 30:26
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي شَبَابَةُ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ بَيْنَمَا امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا جَاءَ الذِّئْبُ فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا ‏.‏ فَقَالَتْ هَذِهِ لِصَاحِبَتِهَا إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ أَنْتِ ‏.‏ وَقَالَتِ الأُخْرَى إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ ‏.‏ فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى فَخَرَجَتَا عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ فَأَخْبَرَتَاهُ فَقَالَ ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّهُ بَيْنَكُمَا ‏.‏ فَقَالَتِ الصُّغْرَى لاَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ هُوَ ابْنُهَا ‏.‏ فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاللَّهِ إِنْ سَمِعْتُ بِالسِّكِّينِ قَطُّ إِلاَّ يَوْمَئِذٍ مَا كُنَّا نَقُولُ إِلاَّ الْمُدْيَةَ ‏.‏
ورقاء نے مجھے ابوزناد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : "" دو عورتیں تھیں ، دونوں کے بیٹے ان کے ساتھ تھے ( اتنے میں ) بھیڑیا آیا اور ان میں سے ایک کا بیٹا لے گیا تو اِس نے ( جو بڑی تھی ) اپنی ساتھی عورت سے کہا : وہ تمہارا بیٹا لے گیا ہے اور دوسری نے کہا : وہ تمہارا بیٹا لے گیا ہے ۔ چنانچہ وہ دونوں فیصلے کے لیے حضرت داود علیہ السلام کے پاس آئیں تو انہوں نے بڑی کے حق میں فیصلہ دے دیا ۔ اس کے بعد وہ دونوں نکل کر حضرت سلیمان بن داود علیہ السلام کے سامنے آئیں اور انہیں ( اپنے معاملے سے ) آگاہ کیا تو انہوں نے کہا : میرے پاس چھری لاؤ ، میں تم دونوں کے مابین آدھا آدھا کر دیتا ہوں ۔ اس پر چھوٹی نے کہا : نہیں ، اللہ آپ پر رحم کرے! وہ اسی کا بیٹا ہے ۔ تو انہوں نے چھوٹی عورت کے حق میں فیصلہ کر دیا کہا : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم! میں نے اس دن سے پہلے ( چھری کے لیے ) سِکین کا لفظ نہیں سنا تھا ۔ ہم مدیہ ہی کہا کرتے تھے
حدیث 4496 — صحيح مسلم 30:27
وَحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي حَفْصٌ، - يَعْنِي ابْنَ مَيْسَرَةَ الصَّنْعَانِيَّ - عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ وَرْقَاءَ ‏.‏
موسیٰ بن عقببہ اور محمد بن عجلان نے ابوزناد سے اسی سند کے ساتھ ورقاء کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی
حدیث 4497 — صحيح مسلم 30:28
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اشْتَرَى رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ عَقَارًا لَهُ فَوَجَدَ الرَّجُلُ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ فِي عَقَارِهِ جَرَّةً فِيهَا ذَهَبٌ فَقَالَ لَهُ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ خُذْ ذَهَبَكَ مِنِّي إِنَّمَا اشْتَرَيْتُ مِنْكَ الأَرْضَ وَلَمْ أَبْتَعْ مِنْكَ الذَّهَبَ ‏.‏ فَقَالَ الَّذِي شَرَى الأَرْضَ إِنَّمَا بِعْتُكَ الأَرْضَ وَمَا فِيهَا - قَالَ - فَتَحَاكَمَا إِلَى رَجُلٍ فَقَالَ الَّذِي تَحَاكَمَا إِلَيْهِ أَلَكُمَا وَلَدٌ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِي غُلاَمٌ وَقَالَ الآخَرُ لِي جَارِيَةٌ ‏.‏ قَالَ أَنْكِحُوا الْغُلاَمَ الْجَارِيَةَ وَأَنْفِقُوا عَلَى أَنْفُسِكُمَا مِنْهُ وَتَصَدَّقَا ‏"‏ ‏.‏
ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، انہوں نے چند احادیث بیان کیں ، ان میں یہ بھی تھی ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے اس کی زمین خریدی تو اس آدمی کو ، جس نے زمین خریدی تھی ، اپنی زمین میں ایک گھڑا ملا جس میں سونا تھا ۔ جس نے زمین خریدی تھی ، اس نے اس ( بیچنے والے ) سے کہا : اپنا سونا مجھ سے لے لو ، میں نے تم سے زمین خریدی تھی ، سونا نہیں خریدا تھا ۔ اس پر زمین بیچنے والے نے کہا : میں نے تو زمین اور اس میں جو کچھ تھا تمہیں بیچ دیا تھا ۔ کہا : وہ دونوں جھگڑا لے کر ایک شخص کے پاس گئے ، تو جس کے پاس وہ جھگڑا لے کر گئے تھے اس نے کہا : کیا تمہاری اولاد ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا : میرا ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا : میری ایک لڑکی ہے ۔ تو اس نے کہا : ( اس سونے کے ذریعے سے ) لڑکے کا لڑکی سے نکاح کر دو اور اس میں سے اپنے اوپر بھی خرچ کرو اور صدقہ بھی کرو
حدیث 4498 — صحيح مسلم 31:1
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ، الرَّحْمَنِ عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ ‏"‏ اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلاَّ فَشَأْنَكَ بِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ قَالَ ‏"‏ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَضَالَّةُ الإِبِلِ قَالَ ‏"‏ مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى أَحْسِبُ قَرَأْتُ عِفَاصَهَا
ہمیں یحییٰ بن یحییٰ تمیمی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی ، انہوں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے منبعث رضی اللہ عنہ کے مولیٰ یزید سے اور انہوں نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے ( کسی کی ) گری ، بھولی چیز کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس کے ڈھکنے/تھیلی اور بندھن کی شناخت کر لو ، پھر ایک سال اس کی تشہیر کرو ، اگر اس کا مالک آ جائے ( تو اسے دے دو ) ورنہ اس کا جو چاہو کرو ۔ "" اس نے کہا : گمشدہ بکری ( کا کیا حکم ہے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی ہے یا بھیڑیے کی ہے ۔ "" اس نے پوچھا : تو گمشدہ اونٹ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تمہارا اس سے کیا تعلق ہے؟ اس کی مشک اور اس کا موزہ اس کے ساتھ ہے ، وہ ( خود ہی ) پانی پر پہنچتا ہے اور درخت ( کے پتے ) کھاتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پا لیتا ہے ۔ "" ( یحییٰ نے کہا : میرا خیال ہے میں نے عفاصها پڑھا تھا ۔ ( بعض روایات میں "" وكاءها "" ( اس کا بندھن ) ہے
حدیث 4499 — صحيح مسلم 31:2
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالَ ابْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهْوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ ‏"‏ عَرِّفْهَا سَنَةً ثُمَّ اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ اسْتَنْفِقْ بِهَا فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ قَالَ ‏"‏ خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَضَالَّةُ الإِبِلِ قَالَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ - أَوِ احْمَرَّ وَجْهُهُ - ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا ‏"‏ ‏.‏
اسماعیل بن جعفر نے ہمیں ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے حدیث بیان کی ، انہوں نے منبعث کے مولیٰ ( آزاد کردہ غلام ) یزید سے اور انہوں نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( کسی کی ) گری پڑی چیز کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا : " ایک سال اس کا اعلان کرو ، پھر اس کے بندھن اور تھیلی وغیرہ کی شناخت رکھو ، پھر اس سے خرچ کرو ، اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے دے دو ۔ " اس نے کہا : اے اللہ کے رسول! گمشدہ بکری؟ آپ نے فرمایا : " اسے پکڑ لو ، وہ تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی ہے یا بھیڑیے کی ہے ۔ " اس نے کہا : اے اللہ کے رسول! گمشدہ اونٹ؟ کہا : اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے ہوئے حتی کہ آپ کے دونوں رخسار سرخ ہو گئے ۔ ۔ یا آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا ۔ پھر فرمایا : " تمہار اس سے کیا تعلق؟ اس وقت تک کہ اس کا مالک اسے پا لے ، اس کا موزہ اور اس کی مشک اس کے ساتھ ہے
حدیث 4500 — صحيح مسلم 31:3
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَمَالِكُ، بْنُ أَنَسٍ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَغَيْرُهُمْ أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَهُمْ بِهَذَا الإِسْنَادِ، مِثْلَ حَدِيثِ مَالِكٍ غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ قَالَ أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا مَعَهُ فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ ‏.‏ قَالَ وَقَالَ عَمْرٌو فِي الْحَدِيثِ ‏ "‏ فَإِذَا لَمْ يَأْتِ لَهَا طَالِبٌ فَاسْتَنْفِقْهَا ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن وہب نے ہمیں خبر دی ، کہا : مجھے سفیان ثوری ، مالک بن انس ، عمرو بن حارث اور دیگر لوگوں نے خبر دی کہ ربیعہ بن ابی عبدالرحمان نے انہیں اسی سند کے ساتھ مالک کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، البتہ انہوں نے یہ اضافہ کیا : کہا : ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں آپ کے ساتھ تھا ، اس نے آپ سے کسی کی گری پڑی چیز کے بارے میں پوچھا ۔ اور ( ابن وہب نے ) کہا : عمرو نے حدیث میں کہا : " جب اسے تلاش کرنے والا کوئی نہ آئے تو اسے خرچ کر لو
حدیث 4501 — صحيح مسلم 31:4
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الأَوْدِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، - وَهُوَ ابْنُ بِلاَلٍ - عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، يَقُولُ أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ ‏.‏ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَاحْمَارَّ وَجْهُهُ وَجَبِينُهُ وَغَضِبَ ‏.‏ وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ ‏"‏ ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً ‏"‏ ‏.‏ ‏"‏ فَإِنْ لَمْ يَجِئْ صَاحِبُهَا كَانَتْ وَدِيعَةً عِنْدَكَ ‏"‏ ‏.‏
سلیمان بن بلال نے مجھے ربیعہ بن ابی عبدالرحمان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے منبعث کے مولیٰ یزید سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ۔ ۔ اس کے بعد اسماعیل بن جعفر کی حدیث کی طرح بیان کیا ، مگر انہوں نے کہا : " تو آپ کا چہرہ اور پیشانی سرخ ہو گئے اور آپ غصہ ہوئے ۔ " اور انہوں نے اس قول " پھر ایک سال اس کی تشہیر کرو ۔ " کے بعد ۔ ۔ یہ اضافہ کیا : " اگر اس کا مالک نہ آیا تو وہ تمہارے پاس امانت ہو گی
حدیث 4502 — صحيح مسلم 31:5
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ اللُّقَطَةِ الذَّهَبِ أَوِ الْوَرِقِ فَقَالَ ‏"‏ اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ لَمْ تَعْرِفْ فَاسْتَنْفِقْهَا وَلْتَكُنْ وَدِيعَةً عِنْدَكَ فَإِنْ جَاءَ طَالِبُهَا يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ فَأَدِّهَا إِلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الإِبِلِ فَقَالَ ‏"‏ مَا لَكَ وَلَهَا دَعْهَا فَإِنَّ مَعَهَا حِذَاءَهَا وَسِقَاءَهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَجِدَهَا رَبُّهَا ‏"‏ ‏.‏ وَسَأَلَهُ عَنِ الشَّاةِ فَقَالَ ‏"‏ خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ‏"‏ ‏.‏
سلیمان بن بلال نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے منبعث کے مولیٰ یزید سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی کے گرے یا بھولے ہوئے سونے اور چاندی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس کی تھیلی اور ( باندھنے کی ) رسی کی شناخت کر لو ، پھر ایک سال اس کی تشہیر کرو ، اگر ( کچھ بھی ) نہ جان پاؤ تو اسے خرچ کر لو اور وہ تمہارے پاس امانت ہو گی ، اگر کسی بھی دن اس کا طلب کرنے والا آ جائے تو اسے اس کی ادائیگی کر دو ۔ " اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہارا اس سے کیا واسطہ؟ اس کا جوتا اور مشکیزہ اس کے ساتھ ہے ، وہ مالک کے پا لینے تک ( خود ہی ) پانی پر آتا اور درخت کھاتا ہے ۔ اس نے آپ سے بکری کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے پکڑ لو ، وہ تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی ہے یا بھیڑیے کی ہے
حدیث 4503 — صحيح مسلم 31:6
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَرَبِيعَةُ الرَّأْىِ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ، خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ ضَالَّةِ الإِبِلِ ‏.‏ زَادَ رَبِيعَةُ فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ ‏.‏ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ وَزَادَ ‏ "‏ فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَعَرَفَ عِفَاصَهَا وَعَدَدَهَا وَوِكَاءَهَا فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ وَإِلاَّ فَهْىَ لَكَ ‏"‏ ‏.‏
حماد بن مسلمہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھے یحییٰ بن سعید اور ربیعہ رائے بن ابو عبدالرحمان نے منبعث کے مولیٰ یزید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا ۔ ( اس روایت میں ) ربیعہ نے اضافہ کیا : تو آپ غصے ہوئے حتی کہ آپ کے دونوں رخسار مبارک سرخ ہو گئے ۔ ۔ اور انہوں نے انہی کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور ( آخر میں ) یہ اضافہ کیا : " اگر اس کا مالک آ جائے اور اس کی تھیلی ، ( اندر جو تھا اس کی ) تعداد اور اس کے بندھن کو جانتا ہو تو اسے دے دو ورنہ وہ تمہاری ہے
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔