قرآني·Qurani
اردو

الفضائل

5785 احادیث · #384–6168

حدیث 814 — صحيح مسلم 3:135
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ ابْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ، حَدَّثَهُ قَالَ رَأَيْتُ عَلَى ابْنِ وَعْلَةَ السَّبَئِيِّ فَرْوًا فَمَسِسْتُهُ فَقَالَ مَا لَكَ تَمَسُّهُ قَدْ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ قُلْتُ إِنَّا نَكُونُ بِالْمَغْرِبِ وَمَعَنَا الْبَرْبَرُ وَالْمَجُوسُ نُؤْتَى بِالْكَبْشِ قَدْ ذَبَحُوهُ وَنَحْنُ لاَ نَأْكُلُ ذَبَائِحَهُمْ وَيَأْتُونَا بِالسِّقَاءِ يَجْعَلُونَ فِيهِ الْوَدَكَ ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَدْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏ "‏ دِبَاغُهُ طَهُورُهُ ‏"‏ ‏.‏
۔ یزید بن ابی حبیب نے ابو خیر سے روایت کی کہ میں نے علی بن وعلہ سبائی کو ایک پوستین ( چمڑے کا کوٹ ) پہنے ہوئے دیکھا ، میں نے اسے چھوا تو اس نے کہا : اسے کیوں چھوتے ہو؟ میں نے عبد اللہ بن عباسؓ سے پوچھا تھا : ہم مغرب میں ہوتے ہیں اور ہمارے ساتھ بربر اور مجوسی ہوتے ہیں ، ہمارے پاس مینڈھا لایا جاتا ہے جسے انہوں نے ذبح کیا ہوتا ہے اور ہم ان کے ذبح کیے ہوئے جانور نہیں کھاتے ، وہ ہمارے پاس مشکیزہ لاتے ہیں جس میں وہ چربی ڈالتے ہیں ۔ تو ابن عباسؓ نے جواب دیا : ہم نے رسول اللہﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا تھا ۔ آپ نے فرمایا : ’’ اس کو رنگنا اس کو پاک کر دیتا ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 815 — صحيح مسلم 3:136
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الرَّبِيعِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، حَدَّثَهُ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَعْلَةَ السَّبَئِيُّ، قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ قُلْتُ إِنَّا نَكُونُ بِالْمَغْرِبِ فَيَأْتِينَا الْمَجُوسُ بِالأَسْقِيَةِ فِيهَا الْمَاءُ وَالْوَدَكُ فَقَالَ اشْرَبْ ‏.‏ فَقُلْتُ أَرَأْىٌ تَرَاهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ دِبَاغُهُ طَهُورُهُ ‏"‏ ‏.‏
۔ جعفر بن ربیعہ نے ابو خیر سے روایت کی ، کہا : مجھ سے ابن وعلہ سبائی نے بیان کیا کہ میں نے عبد اللہ بن عباسؓ سے پوچھا : ہم مغرب میں ہوتے ہیں تو مجوسی ہمارے پاس پانی اور چربی کے مشکیزے لاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا : پی لیا کرو ۔ میں نے پوچھا : کیا آپ اپنی رائےبتا رہے ہیں؟ ابن عباسؓ نے جواب دیا : میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سناے : ’’ اس کو رنگنا اس کو پاک کر دیتا ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 816 — صحيح مسلم 3:137
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ - أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ - انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْتِمَاسِهِ وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالُوا أَلاَ تَرَى إِلَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبِالنَّاسِ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ ‏.‏ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ فَقَالَ حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ ‏.‏ قَالَتْ فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ وَجَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي فَلاَ يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلاَّ مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى فَخِذِي فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ فَتَيَمَّمُوا ‏.‏ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ الْحُضَيْرِ - وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَاءِ - مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ ‏.‏ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ ‏.‏
۔ عبد الرحمان بن قاسم ( بن محمد ) نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہﷺ کے ایک سفر میں آپ کے ساتھ نکلے ، جب ہم بیداء یا ذات الجیش کے مقام پر پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ کر گر گیا ، رسول اللہﷺ اس کی تلاش کی خاطر ٹھہر گئے ، صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ بھی آپ کے ساتھ رک گئے ، نہ وہ پانی ( والی جگہ ) پر تھے نہ ان کے پاس پانی ( بچا ہوا ) تھا ۔ لوگ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس آئے اور کہا : کیا آپ کو پتہ نہیں ، عائشہؓ نے کیا کیا ہے؟ رسول اللہﷺ اور آپ کے ساتھ ( دوسرے ) لوگوں کو روک رکھا ہے ، نہ وہ پانی ( والی جگہ ) پر ہیں اور نہ لوگوں کے پاس پانی بچا ہے ۔ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ تشریف لائے ( اس وقت ) رسول اللہﷺ میری ران پر سر رکھ کر سو چکے تھے اور کہا : تم نے رسول اللہﷺ کو اور آپ کے ساتھیوں کو روک رکھا ہے جبکہ نہ وہ پانی والی جگہ پر ہیں اور نہ ان کے پاس پانی ہے ۔ عائشہؓ نے فرمایا : حضرت ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے مجھے ڈانٹا اور جو کچھ اللہ کو منظور رتھا کہا اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگانے لگے ، مجھے صرف اس بات نے حرکت کرنے سے روکے رکھا کہ رسو ل اللہﷺ کا سر میری ران پر تھا ، رسول اللہﷺ سوئے رہے اور پانی کے بغیر ہی صبح ہو گی ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتاری تو صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے تیمم کیا ۔ اسید بن حضیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ، جو نقباء میں سے تھے ، کہا : اے ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے خاندان! یہ آپ کی پہلی برکت نہیں ہے ۔ حضرت عائشہؓ نے کہا : ہم نے اس اونٹ کو جس پر میں سوار تھی اٹھایا تو ہمیں اس کے نیچے سے ہار مل گیا ۔
حدیث 817 — صحيح مسلم 3:138
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَابْنُ، بِشْرٍ عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلاَدَةً فَهَلَكَتْ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي طَلَبِهَا فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلاَةُ فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ فَلَمَّا أَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ ‏.‏ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ قَطُّ إِلاَّ جَعَلَ اللَّهُ لَكِ مِنْهُ مَخْرَجًا وَجَعَلَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ بَرَكَةً ‏.‏
ہشام کے والد عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت اسماء ؓ سے عاریتاً ہار لیا ، وہ گم ہو گیا تو رسول اللہﷺ نے اپنے کچھ ساتھیوں کو اس کی تلاش کے لیے بھیجا ۔ ان کی نماز کا وقت آ گیا تو انہوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی اور جب نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ سے اس بات کی شکایت کی ، ( اس پر ) تیمم کی آیت اتری تو اسید بن حضیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ( حضرت عائشہؓ سے ) کہا : اللہ آپ کو بہترین جزا دے ، اللہ کی قسم! آپ کو کبھی کوئی مشکل معاملہ پیش نہیں آیا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے اس سے نکلنے کی سبیل پیدا کر دی اور اسی میں مسلمانوں کے لیے برکت رکھ کر دی ۔
حدیث 818 — صحيح مسلم 3:139
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى فَقَالَ أَبُو مُوسَى يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلاً أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا كَيْفَ يَصْنَعُ بِالصَّلاَةِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لاَ يَتَيَمَّمُ وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا ‏.‏ فَقَالَ أَبُو مُوسَى فَكَيْفَ بِهَذِهِ الآيَةِ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ ‏{‏ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا‏}‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هَذِهِ الآيَةِ - لأَوْشَكَ إِذَا بَرَدَ عَلَيْهِمُ الْمَاءُ أَنْ يَتَيَمَّمُوا بِالصَّعِيدِ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو مُوسَى لِعَبْدِ اللَّهِ أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَاجَةٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ بِيَدَيْكَ هَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ الأَرْضَ ضَرْبَةً وَاحِدَةً ثُمَّ مَسَحَ الشِّمَالَ عَلَى الْيَمِينِ وَظَاهِرَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَوَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے شقیق سے روایت کی ، کہا : میں حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) اور ابو موسیٰ ؓ کے بیٹھا ہوا تھا ۔ حضرت ابو موسیٰ نے پوچھا : ابو عبد الرحمن! بتائیےاگر انسان حالت جنابت میں ہو اور ایک ماہ تک اسے پانی نہ ملے تو وہ نماز کا کیا کرے؟ اس پر حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) نے جواب دیا : وہ تیمم نہ کرے ، چاہے اسے ایک ماہ تک پانی نہ ملے ۔ اس پر ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : تو سورہ مائدہ کی اس آیت کا کیا مطلب ہے : ’’تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرو؟ ‘ ‘ اس پر عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے جواب دیا : اگر انہیں اس آیت کی بنا پر رخصت دے دی گئی تو خطرہ ہے جب انہیں پانی ٹھنڈا محسوس ہو گا تو وہ مٹی سے تیمم کر لیں گے ۔ ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے کہا : کیا آپ نے عمار کی یہ بات نہیں سنی کہ مجھے رسول اللہﷺ نے کسی کام کے لیے بھیجا ، مجھے جنابت ہو گئی اور پانی نہ ملا تو میں چوپائے کی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا ( اور نماز پڑھ لی ) ، پھر میں نبی اکرمﷺ کے پاس آیا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا : ’’تمہارے لیے بس اپنے دونوں ہاتھوں سے اس طرح کرنا کافی تھا ۔ ‘ ‘ پھر آپﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ ایک بار زمین پر مارے ، پھر بائیں ہاتھ کو دائیں پر اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کی پشت پر اور اپنے چہرے پر ملا ۔ تو عبد اللہ ( بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) نے جواب دیا : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ عمار کی بات پر مطمئن نہیں ہوئے تھے ۔ ( تفصیل آگے حدیث : 820 میں ہے ۔)
حدیث 819 — صحيح مسلم 3:140
وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ قَالَ أَبُو مُوسَى لِعَبْدِ اللَّهِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى الأَرْضِ فَنَفَضَ يَدَيْهِ فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ ‏.‏
عبد الواحد نے کہا : ہمیں اعمش نے شقیق سے حدیث بیان کی ، کہا : ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے عبد اللہ ( بن مسعود ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے پوچھا ... پھر ابو معاویہ کی ( سابقہ ) حدیث پورے واقعے سمیت بیان کی ، مگر یہ کہ انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ تمہارے لیے اس طرح کر لینا ہی کافی تھا ۔ ‘ ‘ اور اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے ، ( پھر ) اپنے دونوں ہاتھ جھاڑے اور اپنے چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کیا ۔
حدیث 820 — صحيح مسلم 3:141
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ - عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى عُمَرَ فَقَالَ إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدْ مَاءً ‏.‏ فَقَالَ لاَ تُصَلِّ ‏.‏ فَقَالَ عَمَّارٌ أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدْ مَاءً فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ وَصَلَّيْتُ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَضْرِبَ بِيَدَيْكَ الأَرْضَ ثُمَّ تَنْفُخَ ثُمَّ تَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ وَكَفَّيْكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ اتَّقِ اللَّهَ يَا عَمَّارُ ‏.‏ قَالَ إِنْ شِئْتَ لَمْ أُحَدِّثْ بِهِ ‏.‏ قَالَ الْحَكَمُ وَحَدَّثَنِيهِ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ مِثْلَ حَدِيثِ ذَرٍّ قَالَ وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ عَنْ ذَرٍّ فِي هَذَا الإِسْنَادِ الَّذِي ذَكَرَ الْحَكَمُ فَقَالَ عُمَرُ نُوَلِّيكَ مَا تَوَلَّيْتَ ‏.‏
۔ یحییٰ بن سعید قطان نے شعبہ سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھ سے حکم نے ذر ( بن عبد اللہ بن زرارہ ) سے ، انہوں نے سعید بن عبد الرحمن بن ابزیٰ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ ایک آدمی حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس آیا اور پوچھا : میں جنبی ہو گیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا ۔ تو انہوں نے جواب دیا : نماز نہ پڑھ ۔ اس پر حضرت عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں ، جب میں اور آپ ایک فوجی دستے میں تھے تو ہم جنبی ہو گئے اور پانی نہ ملا تو آپ نے نماز نہ پڑھی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا اور نماز پڑھ لی تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا کہ اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارتے ، پھر ان میں پھونک مار کر ان دونوں سے اپنے چہرے اور اپنی ہتھیلیوں کا مسح کر لیتے ۔ ‘ ‘ حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : اے عمار! اللہ سے ڈرو ۔ ( عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) جواب دیا : اگر آپ چاہتے ہیں تو میں یہ واقعہ بیان نہیں کرتا ۔ حکم نے کہا : یہی روایت مجھے ( ذر کے واسطے کے بغیر ) ابن عبد الرحمن بن ابزیٰ نے اپنے والد سے براہ راست بھی سنائی جو بعینہ ذر کی حدیث کی طرح تھی ۔ کہا : مجھے سلمہ نے ذر کے حوالے سے حکم کی بیان کردہ سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی کہ حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : آپ نے جس چیز ( کی ذمہ داری ) کو اٹھا لیا ہے ہم اسے آپ ہی پر ڈالتے ہیں ( آپ اپنے اعتماد پر یہ روایت بیان کر سکتے ہیں ۔)
حدیث 821 — صحيح مسلم 3:142
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ سَمِعْتُ ذَرًّا، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، قَالَ قَالَ الْحَكَمُ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى عُمَرَ فَقَالَ إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدْ مَاءً ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ قَالَ عَمَّارٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنْ شِئْتَ لِمَا جَعَلَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنْ حَقِّكَ لاَ أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا وَلَمْ يَذْكُرْ حَدَّثَنِي سَلَمَةُ عَنْ ذَرٍّ ‏.‏
نضر بن شمیل نے شعبہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ ایک آدمی حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس آیا اور پوچھا : میں جنبی ہو گیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا ۔ اس کے بعد ( مذکورہ بالا ) حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : اے امیر المؤمنین! اگر آپ چاہیں تو آپ کے اس حق کی بنا پر جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر رکھا ہے ، میں یہ حدیث کسی کو نہ سناؤں گا ۔ اور ( شعبہ نے یہاں ) مجھے سلمہ نے ذر حدیث بیان کی ( کے الفاظ ) کا ذکر نہیں کیا ۔
حدیث 822 — صحيح مسلم 3:143
قَالَ مُسْلِمٌ وَرَوَى اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ عُمَيْرٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَسَارٍ، مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي الْجَهْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الأَنْصَارِيِّ فَقَالَ أَبُو الْجَهْمِ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ نَحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهِ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ ‏.‏
حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے آزاد کردہ غلام عمیر بیان کرتے ہیں کہ میں اور عبد الرحمن بن یسار ، جو نبی اکرمﷺ کی زوجہ حضرت میمونہؓ کے آزاد کردہ غلام تھے ، ابو جہم بن حارث بن صمہ انصاری کے پاس پہنچے تو ابو جہم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے بتایا کہ رسول اللہﷺ بئر جمل ( نامی جگہ ) سے تشریف لائے تو آپ کو ایک آدمی ملا ، اس نے آپ کو سلام کہا تو آپ نے اس کے سلام کا جواب نہ دیا حتیٰ کہ آپ ایک دیوار کی طرف بڑھے اور آپ نے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح کیا ، پھر اس کے سلام کا جواب دیا ۔
حدیث 823 — صحيح مسلم 3:144
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، مَرَّ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَبُولُ فَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ ‏.‏
حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، ایک آدمی گزرا جبکہ رسول اللہﷺ پیشاب کر رہے تھے ، تو اس نے سلام کہا ، آپ ﷺ نے اسے سلام کا جواب نہ دیا ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔