قرآني·Qurani
اردو

الفضائل

5785 احادیث · #384–6168

حدیث 824 — صحيح مسلم 3:145
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - قَالَ حُمَيْدٌ حَدَّثَنَا ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ لَقِيَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ وَهُوَ جُنُبٌ فَانْسَلَّ فَذَهَبَ فَاغْتَسَلَ فَتَفَقَّدَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا جَاءَهُ قَالَ ‏"‏ أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقِيتَنِي وَأَنَا جُنُبٌ فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ حَتَّى أَغْتَسِلَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لاَ يَنْجُسُ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ وہ جنابت کی حالت میں تھے کہ رسول اللہﷺ مدینہ کے راستوں میں میں سے کسی راستے پر انہیں ملے تو وہ کھسک گئے اور جا کر غسل کیا ۔ نبیﷺ نے انہیں تلاش کروایا ۔ جب وہ آپ کی خدمت میں آئے تو آپ نے فرمایا : ’’ابو ہریرہ! تم کہاں تھے؟ ‘ ‘ انہوں نے عرض کی! اے اللہ کے رسولﷺ! جب آپ مجھے ملے تو میں جنابت کی حالت میں تھا ، میں نے غسل کیے بغیر آپ کے پاس بیٹھنا پسند نہ کیا ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’سبحان اللہ! مومن ناپاک ( نجس ) نہیں ہوتا ۔ ‘ ‘ ( یعنی اس طرح ناپاک نہیں ہوتا کہ اسے کوئی چھو جائے ، قریب بیٹھے یا اس سے ہاتھ ملائے تو وہ بھی ناپاک ہو جائے ۔)
حدیث 825 — صحيح مسلم 3:146
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَقِيَهُ وَهُوَ جُنُبٌ فَحَادَ عَنْهُ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ كُنْتُ جُنُبًا ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الْمُسْلِمَ لاَ يَنْجُسُ ‏"‏ ‏.‏
حضرت حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ انہیں ملے جبکہ وہ جنبی تھے تو وہ آپﷺ سے دور ہٹ گئے اور غسل کیا ، پھر آ کر عرض کی کہ میں جنبی تھا ۔ آپﷺ نے فرمایا : ’’مسلمان ناپاک نہیں ہوتا ۔ ‘ ‘
حدیث 826 — صحيح مسلم 3:147
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ الْبَهِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ ‏.‏
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ اپنے تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے
حدیث 827 — صحيح مسلم 3:148
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ مِنَ الْخَلاَءِ فَأُتِيَ بِطَعَامٍ فَذَكَرُوا لَهُ الْوُضُوءَ فَقَالَ ‏ "‏ أُرِيدُ أَنْ أُصَلِّيَ فَأَتَوَضَّأَ ‏"‏ ‏.‏
۔ حماد نے عمرو بن سے ، انہوں نے سعید بن حویرث سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کہ نبی اکرمﷺ ( ہاتھ دھو کر ) بیت الخلا سے نکلے تو آپ کے سامنے کھانا پیش کیا گیا ، لوگوں نے آپ سے وضو کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا : ’’ ( کیا ) میں نماز پڑھنا چاہتا ہوں کہ وضو کروں؟ ‘ ‘
حدیث 828 — صحيح مسلم 3:149
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَ مِنَ الْغَائِطِ وَأُتِيَ بِطَعَامٍ فَقِيلَ لَهُ أَلاَ تَوَضَّأُ فَقَالَ ‏ "‏ لِمَ أَأُصَلِّي فَأَتَوَضَّأَ ‏"‏ ‏.‏
سفیان بن عیینہ نے عمرو سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہتے تھے کہ ہم نبی اکرمﷺ کے پاس تھے کہ آپ قضائے حاجت کی جگہ سے ( ہاتھ دھو کر ) آئے تو آپ کے سامنے کھانا پیش کیا گیا ، آپ سے عرض کی گئی : کیا آپ وضو نہیں فرمائیں گے؟ آپ نے جواب دیا : کس لیے؟ کیا مجھے نماز پڑھنی ہے کہ وضو کروں؟ ‘ ‘
حدیث 829 — صحيح مسلم 3:150
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، مَوْلَى آلِ السَّائِبِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْغَائِطِ فَلَمَّا جَاءَ قُدِّمَ لَهُ طَعَامٌ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ تَوَضَّأُ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ لِمَ أَلِلصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏
محمد بن مسلم طائفی نے عمرو بن دینار سے ، انہوں نے آل سائب کے آزاد کردہ غلام سعید بن حویرث سے روایت کی کہ اس نے عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو ( یہ ) کہتے ہوئے سنا : اللہ کے رسولﷺ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ، جب آپ آئے تو آپ کو کھانا پیش کیا گیا ، آپ سے عرض کی گئی : اے اللہ کے رسول! کیا آپ وضو نہیں فرمائیں گئے؟ آپ نے جواب دیا : ’’کس لیے؟ کیا نماز کے لیے؟ ‘ ‘
حدیث 830 — صحيح مسلم 3:151
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ حُوَيْرِثٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَضَى حَاجَتَهُ مِنَ الْخَلاَءِ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فَأَكَلَ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً ‏.‏ قَالَ وَزَادَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قِيلَ لَهُ إِنَّكَ لَمْ تَوَضَّأْ قَالَ ‏ "‏ مَا أَرَدْتُ صَلاَةً فَأَتَوَضَّأَ ‏"‏ ‏.‏ وَزَعَمَ عَمْرٌو أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ‏.‏
اس نے سعید بن حویرث سے سنا ہے ۔
حدیث 831 — صحيح مسلم 3:152
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَقَالَ، يَحْيَى أَيْضًا أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، - فِي حَدِيثِ حَمَّادٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا دَخَلَ الْخَلاَءَ وَفِي حَدِيثِ هُشَيْمٍ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا دَخَلَ الْكَنِيفَ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ ‏"‏ ‏.‏
یحییٰ بن یحییٰ نے حماد بن زید اور ہشیم سے ، ان دونوں نے عبد العزیز بن صہیب سے ، انہوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ( حماد کی حدیث میں ہے : رسول اللہﷺ جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے اور ہشیم کے الفاظ ہیں : جب کسی اوٹ والی جگہ میں داخل ہوتے ) تو فرماتے : ’’اے اللہ! میں نر اور مادہ دونوں قسم کی خبیث مخلوق سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔ ‘ ‘
حدیث 832 — صحيح مسلم 3:153
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ - عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ ‏ "‏ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ ‏"‏ ‏.‏
اسماعیل بن علیہ نے اسی مذکورہ بالا سند کے ساتھ عبد العزیز سے روایت بیان کی اور ( دعا کے ) یہ الفاظ بیان کیے : أعوذ بالله من الخبث والخبائث ’’میں نر اور مادہ دونوں قسم کی خبیث مخلوق سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ۔ ‘ ‘
حدیث 833 — صحيح مسلم 3:154
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ح وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَجِيٌّ لِرَجُلٍ - وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ وَنَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُنَاجِي الرَّجُلَ - فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ ‏.‏
اسماعیل بن علیہ اور عبد الوارث دونوں نے عبد العزیز سے ، انہوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : نماز کے لیے تکبیر کہہ دی گئی اور رسول اللہﷺ ایک آدمی سے بہت قریب ہو کر آہستہ آہستہ بات کر رہے تھے ۔ ( عبد الوارث کی روایت میں ورسول الله ﷺ نجي لرجل کے بجائے ونبی اللہ ﷺ یناجی الرجل آپ ایک آدمی سے آہستہ آہستہ باتیں کر رہے تھے ہے ۔ مفہوم ایک ہے ) تو آپ نماز کے لیے کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ لوگ ( بیٹھےبیٹھے ) سو گئے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔