حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَضْحَكُ اللَّهُ لِرَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ كِلاَهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ " قَالُوا كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " يُقْتَلُ هَذَا فَيَلِجُ الْجَنَّةَ ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى الآخَرِ فَيَهْدِيهِ إِلَى الإِسْلاَمِ ثُمَّ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُسْتَشْهَدُ " .
ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، کہا : یہ احادیث ہیں جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، انہوں نے متعدد احادیث بیان کیں ان میں سے یہ ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ دو شخصوں کی طرف دیکھ کر ہنستا ہے ، ان میں سے ایک شخص دوسرے کو قتل کرتا ہے اور وہ دونوں جنت میں داخل ہو جاتے ہیں ۔ " صحابہ کرام نے پوچھا : اللہ کے رسول! کیسے؟ آپ نے فرمایا : " یہ شخص شہید کیا جاتا ہے اور جنت کے اندر چلا جاتا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ دوسرے ( قاتل ) پر نظر عنایت فرماتا ہے ، اسے اسلام کی ہدایت عطا کرتا ہے ، پھر وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے اور شہید کر دیا جاتا ہے ۔
علاء کے والد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کافر اور اس کو قتل کرنے والا ( مسلمان ) جہنم میں کبھی اکٹھے نہیں ہوں گے ۔
سہیل کے والد ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دو شخص جہنم میں اس طرح اکٹھے نہیں ہوں گے کہ اکٹھے ہونے کی وجہ سے ایک شخص دوسرے کو نقصان پہنچا سکے ۔ عرض کی گئی : اللہ کے رسول! وہ کون ہیں؟ فرمایا : " وہ مومن جس نے ( جہاد کرتے ہوئے ) کسی کافر کو قتل کیا ، پھر دین پر مضبوطی سے جما رہا ۔
جریر نے اعمش سے ، انہوں نے ابوعمرو شیبانی سے ، انہوں نے ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص اونٹنی کی مہار پکڑے ہوئے آیا اور کہنے لگا : یہ اللہ کی راہ ( جہاد ) میں ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہیں اس کے بدلے میں قیامت کے دن سات سو اونٹنیاں ملیں گی اور سبھی نکیل سمیت ہوں گی ۔
زائدہ اور شعبہ دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی
حدیث 4899 — صحيح مسلم 33:195
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كُرَيْبٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي أُبْدِعَ بِي فَاحْمِلْنِي فَقَالَ " مَا عِنْدِي " . فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا أَدُلُّهُ عَلَى مَنْ يَحْمِلُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ " .
ابومعاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوعمرو شیبانی سے ، انہوں نے حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی : اللہ کے رسول! میرا سواری کا جانور ضائع ہو گیا ہے ، آپ مجھے سواری مہیا کر دیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میرے پاس سواری نہیں ہے ۔ " ایک شخص سے عرض کی : اللہ کے رسول! میں اس کو ایسا شخص بتاتا ہوں جو اسے سواری کا جانور مہیا کر دے گا ۔ آپ نے فرمایا : " جس شخص نے کسی نیکی کا پتہ بتایا ، اس کے لیے ( بھی ) نیکی کرنے والے کے جیسا اجر ہے ۔
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ قبیلہ اسلم کے ایک نوجوان نے آ کر عرض کی : اللہ کے رسول! میں جہاد کرنا چاہتا ہوں اور میرے پاس استطاعت نہیں کہ اس کا سامان باندھ سکوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم فلاں شخص کے پاس چلے جاؤ ، اس نے جہاد کا سامان تیار کیا تھا لیکن وہ بیمار ہو گیا ہے ۔ " وہ نوجوان اس آدمی کے پاس گیا اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو سلام کہتے ہیں اور فرماتے ہیں : وہ سارا سامان مجھے دے دوجو تم نے ( جہاد کے لیے ) تیار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا : اے فلاں بی بی! میں نے جو کچھ ( جہاد کے لیے ) تیار کیا تھا اسے دے دو اور اس میں سے کوئی چیز بچا کے نہ رکھو ، اللہ کی قسم! ایسے نہیں ہو گا کہ تم اس میں سے کچھ بچا کے رکھو اور اس میں سے تمہارے لیے برکت ہو ۔
بکیر بن اشج نے بسر بن سعید سے ، انہوں نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے اللہ کے راستے میں جنگ کرنے والے کسی آدمی کو لیس کیا ( سامانِ جہاد مہیا کیا ) تو یقینا اس نے بھی جہاد کیا اور جس شخص نے غازی کے گھر والوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کی تو یقینا اس نے بھی جہاد کیا ۔
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بسر بن سعید سے ، انہوں نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے کسی مجاہد کے لیے سامان مہیا کیا تو یقینا اس نے جہاد کیا اور جس نے مجاہد کے پیچھے اس کے گھر والوں کی دیکھ بھال کی اس نے بھی جہاد کیا