قرآني·Qurani
اردو

الفضائل

5785 احادیث · #384–6168

حدیث 4904 — صحيح مسلم 33:200
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ، مَوْلَى الْمَهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ بَعْثًا إِلَى بَنِي لِحْيَانَ - مِنْ هُذَيْلٍ - فَقَالَ ‏ "‏ لِيَنْبَعِثْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا وَالأَجْرُ بَيْنَهُمَا ‏"‏ ‏.‏
علی بن مبارک نے کہا : ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے مہری کے مولیٰ ابوسعید نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو لحیان کے خلاف ایک لشکر روانہ کیا اور فرمایا : " ہر ( گھر کے ) دو مردوں میں سے ایک مرد اٹھے اور جائے ، ثواب میں دونوں شریک ہوں گے ۔
حدیث 4905 — صحيح مسلم #4905
وَحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَارِثِ - قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، عَنْ يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ، مَوْلَى الْمَهْرِيِّ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ بَعَثَ بَعْثًا ‏.‏ بِمَعْنَاهُ ‏.‏ وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ مُوسَى - عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
حسین نے یحییٰ ( بن ابی کثیر ) سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے مہری کے مولیٰ ابوسعید نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا ، اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند ۔
حدیث 4906 — صحيح مسلم #4906
وَحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَارِثِ - قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، عَنْ يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ، مَوْلَى الْمَهْرِيِّ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ بَعَثَ بَعْثًا ‏.‏ بِمَعْنَاهُ ‏.‏ وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ مُوسَى - عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
حسین نے یحییٰ ( بن ابی کثیر ) سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے مہری کے مولیٰ ابوسعید نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا ، اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند ۔
حدیث 4907 — صحيح مسلم 33:202
وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، مَوْلَى الْمَهْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ إِلَى بَنِي لَحْيَانَ ‏"‏ لِيَخْرُجْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ رَجُلٌ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ لِلْقَاعِدِ ‏"‏ أَيُّكُمْ خَلَفَ الْخَارِجَ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ بِخَيْرٍ كَانَ لَهُ مِثْلُ نِصْفِ أَجْرِ الْخَارِجِ ‏"‏ ‏.‏
مہری کے آزاد کردہ غلام یزید بن ابی سعید نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ نے بنولحیان کی طرف ایک لشکر روانہ کیا اور فرمایا : " ہر دو آدمیوں میں سے ایک آدمی ( جہاد کے لیے نکلے ) اور فرمایا : " تم میں سے جو شخص بھی ( جہاد کے لیے ) نکلنے والے کے اہل و عیال اور مال و متاع کی اچھی طرح دیکھ بھال کے لیے پیچھے رہے گا ، نکلنے والے کے اجر میں سے آدھا اسے ملے گا ۔ " ( یعنی جہاد کرنے والے اور پیچھے خیال رکھنے والے دونوں کے لیے ثواب ہے ۔ پیچھے رہ کر خیال رکھنے والے کو بھی گھر میں رہتے ہوئے آدھا ثواب مل جائے گا ۔)
حدیث 4908 — صحيح مسلم 33:203
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ حُرْمَةُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ كَحُرْمَةِ أُمَّهَاتِهِمْ وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَاعِدِينَ يَخْلُفُ رَجُلاً مِنَ الْمُجَاهِدِينَ فى أَهْلِهِ فَيَخُونُهُ فِيهِمْ إِلاَّ وُقِفَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَأْخُذُ مِنْ عَمَلِهِ مَا شَاءَ فَمَا ظَنُّكُمْ ‏"‏ ‏.‏
سفیان ( ثوری ) نے علقمہ بن مرثد سے ، انہوں نے سلیمان بن بریدہ سے ، انہوں نے اپنے والد حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " گھر میں بیٹھنے والوں کے لیے مجاہدین کی عورتوں کی عزت و حرمت اسی طرح ہے جس طرح ان کی اپنی ماؤں کی حرمت و عزت ہے ۔ اور گھروں میں بیٹھنے والوں میں سے جو بھی شخص مجاہدین کے گھر والوں کی دیکھ بھال کا ذمہ دار ہے ، پھر ان کے معاملے میں ان کے ساتھ خیانت کرتا ہے ( پوری طرح دیکھ بھال نہیں کرتا ) تو اس کو قیامت کے دن اس ( مجاہد ) کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اور وہ اس کے عمل میں سے جتنا چاہے گا لے لے گا ، اب تمہارا ( اس سزا کے بارے میں ) کیا خیال ہے؟ " ( کوتاہی کرنے والے نے مجاہدین کے گھر والوں کی دیکھ بھال میں کوتاہی کر کے نیک اعمال بھی کیے ہوں گے تو وہ اس سے چھن جائیں گے اور ہو سکتا ہے اس کے پاس کچھ بھی نہ بچے ۔)
حدیث 4909 — صحيح مسلم 33:204
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ - يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمَعْنَى حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ ‏.‏
مسعر نے ہمیں علقمہ بن مرثد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابن بریدہ سے ، انہوں نے اپنے والد حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( پھر سفیان ) ثوری کی حدیث کے ہم معنی ( حدیث بیان کی ۔)
حدیث 4910 — صحيح مسلم 33:205
وَحَدَّثَنَاهُ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ قَعْنَبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏"‏ فَقَالَ فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِهِ مَا شِئْتَ ‏"‏ ‏.‏ فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ فَمَا ظَنُّكُمْ ‏"‏ ‏.‏
قعنب نے علقمہ بن مرثد سے اسی سند کے ساتھ روایت کی : " اور فرمایا : ( اسے کہا جائے گا کہ ) تم اس کی نیکیوں میں سے جو چاہو لے لو " پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : " تم کیا سمجھتے ہو؟
حدیث 4911 — صحيح مسلم 33:206
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّهُ سَمِعَ الْبَرَاءَ، يَقُولُ فِي هَذِهِ الآيَةِ لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَيْدًا فَجَاءَ بِكَتِفٍ يَكْتُبُهَا فَشَكَا إِلَيْهِ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ضَرَارَتَهُ فَنَزَلَتْ ‏{‏ لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ‏}‏ قَالَ شُعْبَةُ وَأَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فِي هَذِهِ الآيَةِ لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الْبَرَاءِ وَقَالَ ابْنُ بَشَّارٍ فِي رِوَايَتِهِ سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ‏.‏
محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ ابن مثنیٰ کے ہیں ۔ ۔ دونوں نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے ابواسحٰق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت براء ( بن عازب رضی اللہ عنہ ) سے سنا ، وہ قرآن مجید کی آیت : "" مومنوں میں سے گھر بیٹھنے والے ، جو معذور نہیں اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے برابر نہیں "" کے بارے میں کہہ رہے تھے ( آیت ، درمیان والے حصے "" جو معذور نہیں "" کے بغیر نازل ہوئی ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ، وہ ایک شانے کی ہڈی لے آئے اور اس پر یہ آیت لکھ دی ۔ اس موقع پر حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے اپنے نابینا ہونے کی شکایت کی ، تب یہ آیت ( درمیان کے حصے سمیت اس طرح ) اتری : "" مومنوں میں سے گھر بیٹھنے والے ، جو معذور نہیں اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے برابر نہیں ۔ "" شعبہ نے کہا : مجھے ایک شخص نے سعد بن ابراہیم سے ، انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے آیت : "" بیٹھنے والے برابر نہیں "" حضرت براء رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مانند بیان کی ، ابن بشار نے اپنی روایت میں کہا : سعد بن ابراہیم نے اپنے والد سے ، انہوں نے ایک آدمی سے ، اس نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، ( پہلی حدیث کی سند مکمل اور صحیح ہے ۔ یہ دونوں سندیں ضبط و تائید کے لیے ہیں ۔)
حدیث 4912 — صحيح مسلم 33:207
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ ‏{‏ لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ‏}‏ كَلَّمَهُ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَنَزَلَتْ ‏{‏ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ‏}‏
مسعر نے ابواسحاق سے ، انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب آیت : " مومنوں میں سے گھر بیٹھنے والے مجاہدوں کے برابر نہیں " نازل ہوئی تو ( عبداللہ ) ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی ، تب ( غَيْرُ أُو۟لِى ٱلضَّرَرِ ) ( جو معذور نہیں ) کے الفاظ نازل ہوئے ۔
حدیث 4913 — صحيح مسلم 33:208
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، - وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ - أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ قَالَ رَجُلٌ أَيْنَ أَنَا يَا، رَسُولَ اللَّهِ إِنْ قُتِلْتُ قَالَ ‏ "‏ فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ كُنَّ فِي يَدِهِ ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ سُوَيْدٍ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحُدٍ ‏.‏
سعید بن عمرو اشعثی اور سعید بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی : ۔ ۔ الفاظ سعید کے ہیں ۔ ۔ کہا : ہمیں سفیان نے عمرو سے خبر دی : انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ایک شخص نے عرض کی : اللہ کے رسول! اگر میں ( اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے ) شہید کر دیا جاؤں تو میں کہاں ہوں گا؟ فرمایا : " جنت میں ۔ " اس شخص کے ہاتھ میں جو کھجوریں تھیں اس نے ان کو پھینکا ، پھر لڑا حتی کہ شہید ہو گیا ۔ اور سوید کی روایت میں یہ ہے : ایک شخص نے اُحد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔