قرآني·Qurani
اردو

الفضائل

5785 احادیث · #384–6168

حدیث 844 — صحيح مسلم 4:8
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ، مِثْلَهُ ‏.‏
حضرت عائشہؓ سے بھی اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی گئی ہے ۔
حدیث 845 — صحيح مسلم 4:9
حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ يُؤَذِّنُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ أَعْمَى ‏.‏
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ابن ام مکتوم رسول اللہﷺ کے لیے اذان دیا کرتے تھے ، حالانکہ وہ نابینا تھے ۔
حدیث 846 — صحيح مسلم 4:10
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
۔ یحییٰ بن عبد اللہ اور سعید بن عبد الرحمن نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اس ( مذکورہ بالا روایت ) کے مانند حدیث بیان کی
حدیث 847 — صحيح مسلم 4:11
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُغِيرُ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ وَكَانَ يَسْتَمِعُ الأَذَانَ فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِلاَّ أَغَارَ فَسَمِعَ رَجُلاً يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ عَلَى الْفِطْرَةِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ فَنَظَرُوا فَإِذَا هُوَ رَاعِي مِعْزًى ‏.‏
حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ ( دشمن پر ) طلوع فجر کے وقت حملہ کرتے تھے اور اذان کی آواز پر کان لگائے رکھتے تھے ، پھر اگر اذان سن لیتے تو رک جاتے ورنہ حملہ کر دیتے ، ( ایسا ہوا کہ ) آپ نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا : الله أكبر الله أكبر تو رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’فطرت ( اسلام ) پر ہے ۔ ‘ ‘ پھر اس نے کہا : أشهد أن لا إله إلا الله ، أشهد أن لا إله إلا الله تو رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’تو آگ سے نکل گیا ۔ ‘ ‘ اس پر صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے دیکھا تو وہ بکریوں کا چرواہا تھا ۔
حدیث 848 — صحيح مسلم 4:12
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب تم اذان سنو تو جو مؤذن کہتا ہے اسی کی طرح کہو ۔ ‘ ‘
حدیث 849 — صحيح مسلم 4:13
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، وَغَيْرِهِمَا، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَىَّ فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَىَّ صَلاَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا ثُمَّ سَلُوا اللَّهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لاَ تَنْبَغِي إِلاَّ لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ فَمَنْ سَأَلَ لِيَ الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ ‏"‏ ‏.‏
۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کو سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے ، پھر مجھ پر درود بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ مانگو کیونکہ وہ جنت میں ایک مقام ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کو ملے گا اور مجھے امید ہے وہ میں ہوں گا ، چنانچہ جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا اس کے لیے ( میری ) شفاعت واجب ہو گئی ۔ ‘ ‘
حدیث 850 — صحيح مسلم 4:14
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسَافٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ‏.‏ فَقَالَ أَحَدُكُمُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏.‏ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ ‏.‏ قَالَ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ ‏.‏ قَالَ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ‏.‏ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏.‏ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏.‏ مِنْ قَلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏
حضرت عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب مؤذن الله أكبر ، الله أكبر کہے تو تم میں سے ( ہر ) ایک الله أكبر الله أكبر كہے ، پھر وہ ( مؤذن ) کہے أشهد أن لا إلا الله تو وہ بھی کہے : أشهد أن لا إله الله پھر ( مؤذن ) أشهد أن محمد رسول الله کہے تو وہ بھی أشهد أن محمدا رسول الله کہے ، پھر وہ ( مؤذن ) حي على الصلاة کہے تو وہ لا حول ولا قوة إلا بالله کہے ، پھر مؤذن حي على الفلاح کہے ، تو وہ لا حول ولا قوة إلا بالله کہے ، پھر ( مؤذن ) الله أكبر الله أكبر کہے ، پھر ( مؤذن ) لا إله إلا الله کہے تو وہ بھی اپنے دل سے لا إله إلا الله کہے تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘
حدیث 851 — صحيح مسلم 4:15
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ الْقُرَشِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا ‏.‏ غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ رُمْحٍ فِي رِوَايَتِهِ ‏"‏ مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ وَأَنَا أَشْهَدُ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ قُتَيْبَةُ قَوْلَهُ وَأَنَا ‏.‏
۔ محمد بن رمح اور قتیبہ بن سعید کی دو الگ الگ سندوں سے حضرت سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے رسول اللہ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’جس نے مؤذن کی آواز سنتے ہوئے یہ کہا : أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ۔ ‘ ‘ وأن محمدا عبده ورسوله ’’اور محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ ‘ ‘ رضيت بالله ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا ’’ میں اللہ کے رب ہونے پر اور محمدﷺ کے رسول ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں ۔ ‘ ‘ تو اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے ۔ ابن رمح نے اپنی روایت میں کہا : جس نے مؤذن کی آواز سنتے ہوئے یہ کہا : وأنا أشهد اور قتیبہ نے وأنا کا لفظ بیان نہیں ۔
حدیث 852 — صحيح مسلم #852
عبدہ نے طلحہ بن یحییٰ ( بن طلحہ بن عبید اللہ ) سے اور انہوں نے اپنے چچا ( عیسیٰ بن طلحہ بن عبید اللہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس تھا ، ان کے پاس مؤذن انہیں نماز کے لیے بلانے آیا ۔ تو معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ فرماتے تھے : قیامت کے دن مؤذن ، لوگوں میں سب سے زیادہ لمبی گردنوں والے ہوں گے ۔ ‘ ‘
حدیث 853 — صحيح مسلم #853
سفیان نے طلحہ بن یحییٰ سے اور انہوں نے ( اپنے چچا ) عیسیٰ بن طلحہ سے روایت کی ، کہا : میں نے معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : .......... ( آگے ) سابقہ روایت کی مانند ہے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔