۔ جریر نے اعمش سے ، انہوں نے ابو سفیان ( طلحہ بن نافع ) سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبیﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : بلاشبہ شیطان جب نماز کی پکار ( اذان ) سنتا ہے تو ( بھاگ کر ) چلا جاتا ہے یہاں تک کہ روحاء کے مقام پر پہنچ جاتا ہے ۔ ‘ ‘ سلیمان ( اعمش ) نے کہا : میں نے ان ( اپنے استاد ابو سفیان طلحہ بن نافع ) سے روحاء کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : یہ مدینہ سے چھتیس میل ( کے فاصلے ) پر ہے ۔
۔ اعمش نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : شیطان جب نماز کے لیے پکار ( کی آواز ) سنتا ہے تو گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے تاکہ مؤذن کی آواز نہ سن سکے ، پھر جب مؤذن خاموش ہو جاتا ہے تو واپس آ تا ہے اور ( نمازیوں کے دلوں میں ) وسوسہ پیدا ےکرتا ہے ، پھر جب اقامت سنتا ہے تو چلا جاتا ہے تاکہ اس کی آواز نہ سنے ، پھر جب وہ خاموش ہو جاتا ہے تو واپس آتا ہے اور ( لوگوں کے دلوں میں ) وسوسہ ڈالتا ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 857 — صحيح مسلم 4:20
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ حُصَاصٌ " .
خالد بن عبد اللہ نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد ( ابو صالح السمان ) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب مؤذن اذان کہتا ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر گوز مارتا ہوا جاتا ہے ۔ ‘ ‘
روح نے سہیل سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے والد نے مجھے بنو حارثہ کی طرف بھیجا ، کہا : میرے والد نے مجھے بنو حارثہ کی طرف بھیجا ، کہا : میرے ساتھ ہمارا ایک لڑکا ( خادم یا ہمارا ایک ساتھی بھی تھا ) اس کو کسی آواز دینے والے نے باغ سے اس کا نام لے کر آواز دی ۔ کہا : جو ( لڑکا ) میرے ساتھ تھا اس نے باغ کے اندر جھانکا تو اسے کچھ نظر نہ آیا ، چنانچہ میں نے یہ ( واقعہ ) اپنے والد کو بتایا تو انہوں نے کہا : اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم اس واقعے سے دوچار ہو گے تو میں تمہیں نہ بھیجتا لیکن ( آئندہ ) تم اگر کوئی آواز سنو تو نماز کی اذان دو کیونکہ میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ رسول اللہﷺ سے حدیث بیان کرتے تھے کہ آپ نے فرمایا : ’’جب نماز کے لیے پکارا جاتا ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر گوز مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے ۔ ‘ ‘
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ بلاشبہ نبیﷺ نے فرمایا : ’’جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا پیچھا بھاگ جاتا ہے تاکہ اذان نہ سنے ، چنانچہ جب اذان پوری کر دی جاتی ہے تو آ جاتا ہے حتیٰ کہ جب نماز کے لیے تکبیر کہی جاتی ہے تو ( پھر ) پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے ، یہاں تک کہ جب تکبیر ختم ہو جاتی ہے تو آ جاتا ہے تاکہ انسان کے دل میں وسوسہ ڈالے ۔ اسے کہتا ہے : فلاں چیز کو یاد کرو ، فلاں چیز کو یاد کرو ، وہ چیزیں جو اسے پہلے یاد نہیں ہوتیں ، یہاں تک کہ آدمی کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ اس کو پتہ ہی نہیں چلتا اس نے کتنی نماز پڑھی ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 860 — صحيح مسلم 4:23
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَيْفَ صَلَّى " .
ہمام بن منبہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے مذکورہ بالا روایت کے مانند بیان کیا ، مگر انہوں نے ( ما يدري كم صلى کے بجائے ) إن يدري كيف صلى ’’وہ نہیں جانتا کیسے نماز پڑھی ‘ ‘ کہا ۔
۔ سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد ( عبد اللہ بن عمرؓ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا : جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے حتیٰ کہ انہیں کندھوں کے برابر لے آتے اور رکوع سے پہلے اور ( اس وقت بھی ) جب رکوع سے سر اٹھاتے ۔ آپ دو سجدوں کے درمیان انہیں نہ اٹھاتے تھے ۔
ابن جریج نے ابن شہاب سے اور انہوں نے سالم بن عبد اللہ سے روایت کی کہ حضرت ابن عمرؓ نے کہا : رسول اللہﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے حتیٰ کہ آپ کے کندھوں کے سامنے آ جاتے ، پھر اللہ اکبر کہتے ، پھر جب رکوع کرنا چاہتے تو یہی کہتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا کرتے اور جب سجدے سے اپنا سر اٹھاتے توایسا نہ کرتے تھے ۔
عقیل اور یونس دونوں نے اسی طرح روایت کی جس طرح ابن جریج نے کی کہ جب رسول اللہﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے ، پھر تکبیر کرہے ۔ ( انہوں نے بحذو منكبيه کے بجائے حذو منكبيه کہا ، دونوں کا مفہوم ایک ہے ۔)