حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً مَرْبُوعًا بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ عَظِيمَ الْجُمَّةِ إِلَى شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ عَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ صلى الله عليه وسلم .
شعبہ نے کہا : میں نے ابو اسحاق سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درمیانہ قد کے آدمی تھے ، دونوں شانوں کے درمیان بہت فاصلہ تھا ، بال بڑے تھے جو کانوں کی لوتک آتے تھے ، آپ پرسرخ جوڑاتھا ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کبھی کوئی خوبصورت نہیں دیکھا ۔
عمرو ناقد اور ابو کریب نے کہا : ہمیں وکیع نے سفیان سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو اسحاق سے ، انھوں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے کسی د راز گیسوؤں والے شخص کو سرخ جوڑے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر حسین نہیں دیکھا ، آپ کے بال کندھوں کو چھوتے تھے ، آپ کے دونوں کندھوں کے د رمیان فاصلہ تھا ، قد بہت لمبا تھا نہ بہت چھوٹا تھا ۔ ابو کریب نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ایسے تھے ( جو کندھوں کو چھوتے تھے ۔)
یوسف نے ابو اسحاق سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سب لوگوں سے زیادہ حسین تھا اور ( باقی تمام اعضاء کی ) ساخت میں سب سے زیادہ حسین تھے ، آپ کا قد بہت زیادہ لمبا تھا نہ بہت چھوٹا ۔
حدیث 6067 — صحيح مسلم 43:125
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ قُلْتُ لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ كَيْفَ كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ كَانَ شَعَرًا رَجِلاً لَيْسَ بِالْجَعْدِ وَلاَ السَّبِطِ بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ .
جریر بن حازم نے کہا : ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نےکہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کیسے تھے؟انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تقریباً سیدھے تھے ، بہت گھنگرالے تھے نہ بالکل سیدھے ، آپ کے کانوں اور کندھوں کے درمیان تک آتے تھے ۔
حدیث 6068 — صحيح مسلم 43:126
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالاَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَضْرِبُ شَعَرُهُ مَنْكِبَيْهِ .
ہمام نے کہا : ہمیں قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کندھوں تک آتے تھے ۔
حدیث 6069 — صحيح مسلم 43:127
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ .
حمید نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کانوں کے وسط تک تھے ۔
سماک بن حرب نےکہا : میں نے حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دہن کشادہ تھا آنکھوں میں سرخ ڈورے چھوٹے ہوئے اور ایڑیاں کم گوشت والی تھیں ۔ سماک سے ( شعبہ نے ) پوچھا کہ ”ضلیع الفم“ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ بڑا چہرہ ۔ پھر ( شعبہ ) نے کہا ”اشکل العین“ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا دراز شگاف آنکھوں کے ( لیکن سماک کا یہ کہنا غلط ہے اور صحیح وہی ہے کہ سفیدی میں سرخی ملی ہوئی ) شعبہ نے کہا ”منہوس العقبین“ کیا ہے تو انہوں نے کہا ایڑی پر کم گوشت والے ۔
حدیث 6071 — صحيح مسلم 43:129
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ قُلْتُ لَهُ أَرَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ كَانَ أَبْيَضَ مَلِيحَ الْوَجْهِ . قَالَ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ مَاتَ أَبُو الطُّفَيْلِ سَنَةَ مِائَةٍ وَكَانَ آخِرَ مَنْ مَاتَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
خالد بن عبداللہ نے جریری سے ، انھوں نے حضرت ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے ان ( ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے پوچھا : کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو د یکھا؟انھوں نے کہا : ہاں ، آپ کا رنگ سفید تھا ، چہرے پر ملاحت تھی ۔ امام مسلم بن حجاج نے کہا : حضرت ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک سو ہجری میں فوت ہوئے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سب سے آخر میں فوت ہوئے تھے ۔
عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلیٰ نے ہمیں جریری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور اب زمین پر سوا میرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے والوں میں کوئی نہیں رہا ۔ ( راوی حدیث جریری ) کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ آپ نے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے تھے؟ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفید رنگ ملاحت لیے ہوئے تھا ، میانہ قامت تھے ۔
ابن ادریس نے ہشام سے ، انھوں نے سیرین سے روایت کی ، کہا : حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کبھی ) بالوں کو رنگاتھا : کہا : انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بال نہیں دیکھے تھے ، سوائے ( چند ایک کے ) ۔ ابن ادریس نے کہا : گویا وہ ان کی بہت ہی کم تعداد بتارہے تھے ۔ جبکہ حضرت ابو بکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مہندی اور کَتَم ( کو ملاکر ان ) سے رنگتے تھے ۔