عاصم احول نے ابن سیرین سے روایت کی ، کہا : میں نےحضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا : کیا ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کو رنگ لگایاتھا؟انھوں نے کہا : آپ رنگنے کے مرحلے تک نہیں پہنچے تھے ، کہا : آپ کی داڑھی میں چند ہی بال سفید تھے ۔ میں نے کہا : کیا حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رنگتے تھے؟انھوں نے کہا : ہاں ، وہ مہندی اور کتم سے رنگتے تھے ۔
حدیث 6075 — صحيح مسلم 43:133
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ إِنَّهُ لَمْ يَرَ مِنَ الشَّيْبِ إِلاَّ قَلِيلاً .
ایوب نے محمد بن سیرین سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کو رنگا تھا؟کہا : انھوں نے آپ کے بہت ہی کم سفید بال دیکھے تھے ۔
ثابت نے کہا : حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کے خضاب کے بارے میں سوال کیاگیا تو انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں جو سفید بال موجود تھے ، اگر میں انھیں گننا چاہتا تو گن لیتا ۔ انھوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کو رنگ نہیں لگایا اورحضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مہندی اور کتم کو ملا کر بالوں کو رنگ لگایا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خالص مہندی کا رنگ لگایا ۔
علی جہضمی نے کہا : ہمیں مثنیٰ بن سعید نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ سر اور داڑھی کے سفید بال اکھیڑنا مکروہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب نہیں کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چھوٹی داڑھی میں جو نیچے کے ہونٹ تلے ہوتی ہے ، کچھ سفیدی تھی ، اور کچھ کنپٹیوں پر اور سر میں کہیں کہیں سفید بال تھے ۔
خلید بن جعفر نے ابو ایاس سے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں سنا ، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بالوں کے بارے میں سوال کیا گیا ، انھوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے سفید بالوں کے ساتھ آپ کے جمال میں کمی نہیں کی تھی ۔
زہیر نے ابو اسحاق سے ، انھوں نے حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ کی اس جگہ پر سفیدی تھی ، زہیر نے نچلے ہونٹ کے نیچے والے اپنے بالوں پر انگلی رکھ دی ، ان ( ابوجحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے کہاگیا : ان دنوں آپ ( حاضرین میں سے ) کس کی طرح ( کس عمرکے ) تھے ( آپ سب سے چھوٹے ہوں گے؟ ) انھوں نے کہا : میں تیروں کے پیکان اور ان کے پر لگاتا تھا ۔
حدیث 6081 — صحيح مسلم 43:139
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبْيَضَ قَدْ شَابَ كَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُشْبِهُهُ .
محمد بن فضیل نے اسماعیل بن ابی خالد سے ، انھوں نے حضرت جحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو د یکھا ، آپ گورے تھے ، بالوں میں تھوڑی سی سفیدی آئی تھی ، حضرت حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ سے مشابہت رکھتے تھے ۔
سفیان ، خالد بن عبداللہ اورمحمد بن بشر ، سب نےاسماعیل سے ، انھوں نے حضرت جحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ان سب نے یہ نہیں کہا : آپ گورے تھے ، بالوں میں تھوڑی سی سفیدی آئی تھی ۔
سماک بن حرب نے کہا : میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بالوں کے متعلق سوال کیاگیاتھا ، انھوں نےکہا : جب آپ سر مبارک کو تیل لگاتے تھے تو سفید بال نظر نہیں آتے تھے اور جب تیل نہیں لگاتے تھے تونظر آتے تھے ۔