ابو عوانہ نے زیاد بن علاقہ سے اور انہوں نے حضرت قطبہ نے مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے نماز پڑھی اور ہمیں رسول اللہﷺ نے نماز پڑھائی ، آپ ﴿ق والقرآن المجيد﴾ پڑھی حتی کہ آپ نے ﴿والنخل باسقت﴾ ( اور کجھور کے بلند وبالا درخت ) پڑھا تو میں اس آیت کو بار بار ( ذہن میں ) دہرانے لگا اور آپ نے جو کہا مجھے اس ( کے مفہوم ) کا پتہ نہ چلا ۔
(ابو عوانہ کے بجائے ) شریک اور سفیان بن عیینہ نے زیاد بن علاقہ سے اور انہوں نے حضرت قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے فجر کی نماز میں نبی اکرمﷺ کو ﴿والنخل باسقت لها طلع نضيد﴾ ( اور کجھور کے بلند وبالا درخت ( پیدا کیے ) جن کے خوشے تہ بہ تہ ہیں ) کی قراءت کرتے ہوئے سنا
حدیث 1026 — صحيح مسلم 4:188
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الصُّبْحَ فَقَرَأَ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ { وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ} وَرُبَّمَا قَالَ { ق} .
(ابو عوانہ ، شریک اور ابن عیینہ کے بجائے ) شعبہ نے زیادہ بن علاقہ سے اور انہوں نے اپنے چچا ( حضرت قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ انہوں نے نبی اکرمﷺ کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی تو آپ نے پہلی رکعت میں ﴿والنخل باسقت طلع نضيد﴾ پڑھا اور بعض اوقات ( یہی بات سناتے ہوئے ) کہا : سورہ ق پڑھی ۔
زائدہ نے کہا : ہمیں سماک بن حرب نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی کہ نبی اکرمﷺ فجر کی نماز میں ﴿ق والقرآن المجيد﴾ پڑھا کرتے تھے ، اس کے باوجود آپ کی نماز ہلکی تھی
حدیث 1028 — صحيح مسلم 4:190
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ عَنْ صَلاَةِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فَقَالَ كَانَ يُخَفِّفُ الصَّلاَةَ وَلاَ يُصَلِّي صَلاَةَ هَؤُلاَءِ . قَالَ وَأَنْبَأَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ بـ { ق وَالْقُرْآنِ} وَنَحْوِهَا .
(زائدہ کے بجائے ) زہیر نے سماک سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے نبی اکرمﷺ کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا : آپ ہلکی نماز پڑھاتے تھے اور ان لوگوں کی طرح نماز نہیں پڑھاتے تھے ۔ اور ( سماک نے ) کہا : مجھے انہوں ( جابر رضی اللہ عنہ ) نے بتایا کہ رسو ل اللہﷺ کی صبح کی نماز میں ﴿ق والقرآن﴾ اور ( طوالت میں ) اس جیسی سورتیں پڑھا کرتے تھے
عبد الرحمن بن مہدی نے کہا : ہمیں شعبہ نے سماک سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی اکرمﷺ ظہر کی نماز میں ﴿واليل اذا يغشى﴾ ( اور رات کی قسم جب چھا جائے ) پڑھتے ، عصر میں بھی ایسی ہی کوئی سورت پڑھتے اور فجر کی نماز میں اس سے لمبی ( سورت پڑھتے ۔)
ابو داؤد طیالسی نے شعبہ سے ، انہوں نے سماک سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ ظہر کی نماز میں ﴿سبح اسم ربك الأعلى﴾ ( اور اپنے پروردگار کے اونچے نام کی تسبیح کر ) پڑھتے اور صبح کی نماز میں اس سے لمبی قراءت کرتے تھے ۔
حدیث 1031 — صحيح مسلم 4:193
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلاَةِ الْغَدَاةِ مِنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ .
(سلیمان ) تیمی نے ابو منہال سے اور انہوں نے حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ صبح کی نماز میں ساٹھ سے سو آیات تک پڑھا کرتے تھے ۔
حدیث 1032 — صحيح مسلم 4:194
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ آيَةً .
(تیمی کے بجائے ) خالد حذاء نے ابو منہال سے ، انہوں نے حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ فجر کی نماز میں ساٹھ سے سو تک آیتیں پڑھا کرتے تھے ۔
۔ مالک نے ابن شہاب ( زہری ) سے ، انہوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے مجھے ﴿والمرسلات عرفا﴾ پڑھتے ہوئے سنا تو کہنے لگیں : بیٹا! تم نے یہ سورت پڑھ کر مجھے یاد کرا دیا کہ بے شک یہ آخری سورت ہے جو میں نے رسول اللہﷺ کو مغرب کی نماز میں تلاوت کرتے ہوئے سنی ۔