قرآني·Qurani
اردو

الفضائل

5785 احادیث · #384–6168

حدیث 1034 — صحيح مسلم 4:196
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَزَادَ فِي حَدِيثِ صَالِحٍ ثُمَّ مَا صَلَّى بَعْدُ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏.‏
(امام مالک کے بجائے ) سفیان ( بن عیینہ ) ، یونس ، معمر اور صالح نے زہری سے اسی سابقہ سند کے ساتھ روایت کی اور صالح کی حدیث میں یہ اضافہ ہے : پھر آپ نے اس کے بعد نماز نہیں پڑھائی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پاس بلا لیا
حدیث 1035 — صحيح مسلم 4:197
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ بِالطُّورِ فِي الْمَغْرِبِ ‏.‏
مالک نے ابن شہاب ( زہری ) سے ، انہوں نے محمد بن جبیر بن مطعم سے اور انہوں نے اپنے والد ( جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے مغرب کی نماز میں رسول اللہﷺ کو سورہ طہ پڑھتے ہوئے سنا ۔
حدیث 1036 — صحيح مسلم 4:198
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ ‏.‏
سفیان ، یونس اور معمر نے اپنی اپنی سند سے زہری سے اسی سابقہ سند کے ساتھ اس جیسی روایت بیان کی ۔
حدیث 1037 — صحيح مسلم 4:199
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ فِي سَفَرٍ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الآخِرَةَ فَقَرَأَ فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ ‏{‏ وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ‏}‏
۔ شعبہ نے عدی سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو نبی اکرمﷺ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ آپﷺ سفر میں تھے ، آپ نے عشاء کی پڑھائی تو اس کی ایک رکعت میں ﴿والتين والزيتون﴾ پڑھی ۔
حدیث 1038 — صحيح مسلم 4:200
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّهُ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعِشَاءَ فَقَرَأَ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ ‏.‏
(شعبہ کے بجائے ) یحییٰ بن سعید نے عدی بن ثابت سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی تو آپ نے ﴿والتين والزيتون﴾ کی قراءت کی ۔
حدیث 1039 — صحيح مسلم 4:201
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ فِي الْعِشَاءِ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ ‏.‏ فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ صَوْتًا مِنْهُ ‏.‏
(شعبہ اور یحییٰ کے بجائے ) مسعر نے عدی بن ثابت سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ کو عشاء کی نماز میں ﴿والتين والزيتون﴾ کی قراءت کرتے ہوئے سنا ، میں نے کسی کو نہیں سنا جس کی آواز آپ سے زیادہ اچھی ہو ۔
حدیث 1040 — صحيح مسلم 4:202
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ يَأْتِي فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ فَصَلَّى لَيْلَةً مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْعِشَاءَ ثُمَّ أَتَى قَوْمَهُ فَأَمَّهُمْ فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَانْحَرَفَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى وَحْدَهُ وَانْصَرَفَ فَقَالُوا لَهُ أَنَافَقْتَ يَا فُلاَنُ قَالَ لاَ وَاللَّهِ وَلآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلأُخْبِرَنَّهُ ‏.‏ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا أَصْحَابُ نَوَاضِحَ نَعْمَلُ بِالنَّهَارِ وَإِنَّ مُعَاذًا صَلَّى مَعَكَ الْعِشَاءَ ثُمَّ أَتَى فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ ‏.‏ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مُعَاذٍ فَقَالَ ‏"‏ يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ أَنْتَ اقْرَأْ بِكَذَا وَاقْرَأْ بِكَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ فَقُلْتُ لِعَمْرٍو إِنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ اقْرَأْ وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا ‏.‏ وَالضُّحَى ‏.‏ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى ‏.‏ وَسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ عَمْرٌو نَحْوَ هَذَا ‏.‏
سفیان نے عمرو سے ، انہوں نے حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : حضرت معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نبی اکرمﷺ کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے ، پھر آ کر اپنے قبیلے کی ( مسجد میں ) امامت کراتے ، ایک رات انہوں نے عشاء کی نماز رسول اللہﷺ کے ساتھ پڑھی ، پھر اپنی قوم کے پاس آئے ، ان کی امامت اور ( سورۃ فاتحہ کے بعد ) سورۃ بقرہ پڑھنی شروع کر دی ۔ ایک شخص الگ ہو گیا ، ( نماز سے ، سلام پھیرا ، پھر اکیلے نماز پڑھی اور چلا گیا تو لوگوں نے اس سے کہا : اے فلاں! کیا تو منافق ہو گیا ہے؟ اس نے جواب دیا : اللہ کی قسم! نہیں ، میں ضرور رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو اس معاملے سے آگاہ کروں گا ، چنانچہ وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہم ان اونٹوں والے ہیں جو پانی ڈھوتے ہیں ، دن بھر کام کرتے ہیں اور معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے عشاء کی نماز آپ کے ساتھ پڑھی ، پھر آ کر سورۃ بقرہ کے ساتھ نماز شروع کر دی ۔ رسول اللہﷺ نے ( یہ سن کر ) حضرت معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی طرف رخ کیا اور فرمایا : ’’اے معاذ! کیا لوگوں کو فتنے میں مبتلا کرنے والے ہو؟ فلاں سورت پڑھا کرو اور فلاں سورت پڑھا کرو ۔ ‘ ‘ سفیان نے کہا : میں نے عمرو سے کہا : ابو زبیر نے ہمیں جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے بیان کیا کہ آپ نے فرمایا : ﴿والشمس وضحاها﴾ ﴿والضحى﴾ ، ﴿واليل إذا يغشى﴾ اور ﴿سبح اسم ربك الأعلى﴾ پڑھا کرو ۔ اور عمرو نے کہا : اس جیسی ( سورتیں پڑھا کرو)
حدیث 1041 — صحيح مسلم 4:203
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ صَلَّى مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ الأَنْصَارِيُّ لأَصْحَابِهِ الْعِشَاءَ فَطَوَّلَ عَلَيْهِمْ فَانْصَرَفَ رَجُلٌ مِنَّا فَصَلَّى فَأُخْبِرَ مُعَاذٌ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّهُ مُنَافِقٌ ‏.‏ فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ مَا قَالَ مُعَاذٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَتُرِيدُ أَنْ تَكُونَ فَتَّانًا يَا مُعَاذُ إِذَا أَمَمْتَ النَّاسَ فَاقْرَأْ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا ‏.‏ وَسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ‏.‏ وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ ‏.‏ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى ‏"‏ ‏.‏
ابو زبیر نے حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ معاذ بن جبل انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور اس میں طویل قراءت کی ۔ ہم میں سے ایک آدمی نکلا اور الگ نماز پڑھ لی ۔ معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو اس کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے کہا : وہ منافق ہے ۔ جب اس آدمی تک یہ بات پہنچی تو وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آ پ کو بتایا کہ معاذ نے کیا کہا ، اس پر رسول اللہﷺ نے معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے فرمایا : ’’اے معاذ! کیا تم فتنہ ڈالنے والے بننا چاہتے ہو؟ جب لوگوں کی امامت کراؤ تو ﴿والشمس وضحها﴾ ، ﴿سبح اسم ربك الأعلى﴾ ، ﴿اقرأ باسم ربك الذي خلق﴾ اور ﴿واليل إذا يغشى﴾ پڑھا کرو ۔ ‘ ‘
حدیث 1042 — صحيح مسلم 4:204
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، كَانَ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعِشَاءَ الآخِرَةَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ فَيُصَلِّي بِهِمْ تِلْكَ الصَّلاَةَ ‏.‏
منصور نے عمرو بن دینار سے اور انہوں نے حضرت جابربن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ رسول اللہﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھا کرتے تھے ، پھر اپنی قوم میں آ کر یہی نماز ان کو پڑھاتے تھے ۔
حدیث 1043 — صحيح مسلم 4:205
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعِشَاءَ ثُمَّ يَأْتِي مَسْجِدَ قَوْمِهِ فَيُصَلِّي بِهِمْ ‏.‏
(منصور کے بجائے ) ایوب نے عمرو بن دینار سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ رسول اللہﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھا کرتے تھے ، پھر اپنی قوم کی مسجد میں آ کر ان کو نماز پڑھاتے تھے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔