سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کے سامنے شام کا کھانا رکھا جائے ادھر نماز کھڑی ہو تو پہلے کھانا کھا لے اور نماز کے لئے جلدی نہ کرے جب تک کھانے سے فارغ نہ ہو ۔ “
موسیٰ بن عقبہ ، ابن جریج اور ایوب سب نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے مذکورہ بالا روایت کی طرح روایت بیان کی ۔
حاتم بن اسماعیل نے ( ابو حزرہ ) یعقوب بن مجاہد سے ، انھوں ابن ابی عتیق ( عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمان بن ابی بکر صدیق ) سے روایت کی ، کہا : میں نے اور قاسم ( بن محمد بن ابی بکر صدیق ) نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس ( بیٹھے ہوئے ) گفتگو کی ۔ قاسم زبان کی شدید غلطیاں کرنے والے انسان تھے ، وہ ایک کنیز کے بیٹے تھے ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اس سے کہا : کیا بات ہے تم میرے اس بھتیجے کی طرح کیوں گفتگو نہیں کرتے ؟ ہا ں ، میں جانتی ہوں ( تم میں ) یہ بات کہاں سے آئی ہے ، اس کو اس کی ماں نے ادب ( گفتگو کا طریقہ ) سکھایا اورتمھیں تمھاری ماں نے سکھایا ۔ اس پر قاسم ناراض ہو گئے اور ان کے خلاف دل میں غصہ کیا ، پھر جب انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا دسترخوان آتے دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا : کہاں جاتے ہو؟ انھوں نے کہا : میں نماز پڑھنے لگا ہوں ۔ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : بیٹھ جاؤ ۔ انھوں نے کہا : میں نے نماز پڑھنی ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : بیٹھ جاؤ ، دھوکےباز! میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’کھانا سامنے آجائے تو نماز نہیں ۔ اور نہ وہ ( شخص نماز پڑھے ) جس پر پیشاب پاخانہ کی ضرورت غالب آرہی ہو ۔ ‘ ‘
اسماعیل بن جعفر نے کہا : مجھے ابو حزرہ القاص ( یققوب بن مجاہد ) نے عبداللہ بن ابی عتیق سے خبر دی ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے اسی کے مانند روایت کی اور حدیث میں قاسم کا واقعہ بیان نہ کیا ۔
محمد بن مثنیٰ اور زہیر بن حرب دونوں نے کہا : یحییٰ قطان نے ہمیں عبیداللہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوؤ خیبر کے موقع پر فرمایا : ’’جس نے اس پودے ۔ آپ کی مراد لہسن تھا ۔ میں سے کچھ کھایا ہو وہ مسجدوں میں ہرگز نہ آئے ۔ ‘ ‘ زہیر نے صرف غزوہ کہا ، خیبر کا نام نہیں لیا ۔
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہم سے عبید اللہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے نافع سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے اس ترکاری میں سے کچھ کھایا ہو وہ ہماری مسجدوں کے قریب نہ آئے یہاں تک کہ اس کی بوچلی جائے ۔ ‘ ‘ آپ کی مراد لہسن سے تھی ۔
عبدالعزیز سے ، جو صہیب کے بیٹے ہیں ، روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے لہسن کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے جواب دیا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے اس پودے میں سے کچھ کھایا ہو وہ ہرگز ہمارے قریب نہ آئے اور نہ ہمارے ساتھ نماز پڑھے ۔ ‘ ‘
حدیث 1251 — صحيح مسلم #1251
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے اس پودے میں سے کچھ کھایا ہو وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے اور نہ ہمیں لہسن کی بو سے تکلیف دے ۔ ‘ ‘
ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے پیاز اور گندنا کھا نے سے منع فرمایا ۔ سو ( ایک مرتبہ ) ہم ضرورت سے مجبور ہو گئے اور انھیں کھا لیا تو آپ نے فرمایا : ’’جس نے اس بدبودار سبزی میں سے کچھ کھایا ہو وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے ، فرشتے بھی یقیناً اس چیز سے تکلیف محسوس کرتے ہیں جس سے انسان تکلیف محسوس کرتے ہیں ۔ ‘ ‘
ابو طاہر اور حرملہ نے کہا : ہمیں ابن وہب نے خبر دی ، کہا : مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے عطاء بن ابی رباح نے حدیث بیان کی کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نےکہا ۔ حرملہ کی روایت میں ہے ، ان ( جابر رضی اللہ عنہ ) کو یقین تھا ۔ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے لہسن یا پیاز کھایا وہ ہم سے دور رہے یا ہماری مسجدوں سے دور رہے اور اپنے گھر بیٹھے ۔ ‘ ‘ اور ایسا ہو ا کہ ( ایک دفعہ ) آپ کے پاس ایک ہانڈی لائی گئی جس میں کچھ سبز ترکاریاں تھیں ، آپ نے ان سے کچھ بو محسوس کی تو ان کے متعلق پوچھا ۔ آپ کو ان ترکاریوں کے بارے میں بتایا گیا جو اس میں ( ڈالی گئی ) تھیں تو آپ نے اسے ، اپنے ساتھیوں میں سے ایک کے پاس لے جانے کو کہا ۔ جب اس نے بھی اسے دیکھ کر ( آپ کی ناپسندیدگی کی بنا پر ) اس کو ناپسند کیا تو آپ نے فرمایا : ’’تم کھا لو کیونکہ میں ان سے سرگوشی کرتا ہوں جن سے تم سرگوشی نہیں کرتےہو ۔ ‘ ‘ ( اس سے فرشتے مراد ہیں ۔ صحیح ابن خزیمہ اور صحیح ابن حبان کی روایت میں اس بات کی صراحت موجود ہے ۔)