یحییٰ بن سعید نے ابن جریج سے حدیث بیان کی ، انھوں کہا : مجھے عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے یہ ترکاری لہسن کھا یا ۔ ‘ ‘ اور ایک دفعہ فرمایا : ’’ جس نے پیاز ، لہسن اور گندنا کھایا ۔ تو وہ ہر گز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتے ( بھی ) ان چیزوں سے اذیت محسوس کرتے ہیں جس جن سے آدم کے بیٹے اذیت محسوس کرتےہیں ۔ ‘ ‘
محمد بن بکر اور عبدالرزاق نے ( دو مختلف سندوں سے روایت کرتے ہوئے ) کہا : ہمیں ابن جریج نے اسی ( سابقہ ) سند کے ساتھ خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے اس پودے ۔ آپ کی مراد لہسن سے تھی ۔ میں سے کچھ کھایا ہو وہ ہماری مسجد میں ہمارے پاس نہ آئے ۔ ‘ ‘ اور انھوں ( ابن جریج ) نے پیاز اور گندنے کا ذکر نہیں کیا ۔
حدیث 1256 — صحيح مسلم 5:94
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ لَمْ نَعْدُ أَنْ فُتِحَتْ، خَيْبَرُ فَوَقَعْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي تِلْكَ الْبَقْلَةِ الثُّومِ وَالنَّاسُ جِيَاعٌ فَأَكَلْنَا مِنْهَا أَكْلاً شَدِيدًا ثُمَّ رُحْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الرِّيحَ فَقَالَ " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْخَبِيثَةِ شَيْئًا فَلاَ يَقْرَبَنَّا فِي الْمَسْجِدِ " . فَقَالَ النَّاسُ حُرِّمَتْ حُرِّمَتْ . فَبَلَغَ ذَاكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَيْسَ بِي تَحْرِيمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لِي وَلَكِنَّهَا شَجَرَةٌ أَكْرَهُ رِيحَهَا " .
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انھون نے کہا : ہم خیبر کی فتح سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ ہم ، رسول اللہ ﷺ کے ساتھی ، اس ترکاری ۔ لہسن ۔ پر جا پڑے ، لوگ بھوکے تھے اورہم نے اسے خوب اچھی طرح کھایا ، پھر ہم مسجد کی طرف گئے تو رسول اللہ ﷺ نے بومحسوس کی ۔ آپ نے فرمایا : ’’جس نے اس بدبودار پودے میں سے کچھ کھایا ہے وہ مسجد میں ہمارے قر یب نہ آئے ۔ ‘ ‘ اس پر لوگ کہنے لگے : ( لہسن ) حرام ہو گیا ، حرام ہو گیا ۔ یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ نے فرمایا : ’’ اے لوگو! ایسی چیز کو حرام کرنا میرے ہاتھ میں نہیں جسے اللہ نے میرے لیے حلال کر دیا ہے لیکن یہ ایسا پودا ہے جس کی بو مجھے ناپسند ہے ۔ ‘ ‘
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ ( ایک دفعہ ) پیاز کے ایک کھیت کے پاس سے گزرے ۔ ان میں سے کچھ لوگ اترے اور اس میں سے کچھ کھا لیا ، اور دوسروں نے نہ کھایا ۔ ہم آپ کے پاس گئے تو آپ نے ان لوگوں کو ( قریب ) بلا لیا جنھوں نے پیاز نہیں کھا یا تھا اور دوسرے ( جنھوں نے پیاز کھایا تھا ) انھیں پیچھے کر دیا یہاں تک کہ اس کی بو ختم ہو گئی ۔
ہشام نےکہا : ہم سے قتادہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے سالم بن ابی جعد سے اور انھوں نے حضرت معد ان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعے کے دن خطبہ دیا اور نبی اکرم ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا ، کہا : میں نے خواب دیکھا ہے ، جیسے ایک مرغ نے مجھے تین ٹھونگیں ماری ہیں اور اس کو میں اپنی موت قریب آنے کے سوا اور کچھ نہیں سمجھتا ۔ اور کچھ قبائل مجھ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ میں کسی کو اپنا جانشین بنادو ں ۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو ضائع نہیں ہونے دے گا ، نہ اپنی خلافت کو اور نہ اس شریعت کو جس کے ساتھ اس نے اپنے نبی ﷺ کو مبعوث فرمایا ۔ اگر مجھے جلد موت آجائے تو خلافت ان چھ حضرات کے باہیم مشورے سے طے ہو گی جن سے رسول اللہ ﷺ اپنی وفات کے وقت خوش تھے ۔ اور میں جانتا ہوں کہ کچھ لوگ جن کو میں نے اسلام کی خاطر اپنے اس ہاتھ سے مارا ہے ، وہ اس امر ( خلافت ) پر اعتراض کریں گے ، اگر وہ ایسا کریں گے تو وہ اللہ کے دشمن ، کافر اور گمراہ ہوں گے ، پھر میں اپنے بعد جو ( حل طلب ) چیزیں چھوڑ کر جارہا ر ہوں ان میں سے میرے نزدیک کلالہ کی وراثت کےمسئلے سے بڑھ کر کوئی مسئلہ زیادہ اہم نہیں ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کسی مسئلے کے بارے میں اتنی دفعہ رجوع نہیں کیا جتنی دفعہ کلالہ کے بارے میں کیا اور آپ نے ( بھی ) میرے ساتھ کسی مسئلے میں اس قدر سختی نہیں برتی جتنی میرے ساتھ آپ نے اس مسئلے میں سختی کی حتیٰ کہ آپ نے انگلی میرے سینے میں چبھو کر فرمایا : ’’اے عمر ! کیا گرمی کے موسم میں اترنے والی آیت تمھارے لیے کافی نہیں جو سورۃ نساء کے آخر میں ہے ؟ ‘ ‘ میں اگر زندہ رہا تو میں اس مسئلے ( کلالہ ) کے بارے میں ایسا فیصلہ کروں گا کہ ( ہر انسان ) جو قرآن پڑھتا ہے یا نہیں پڑھتا ہے اس کے مطابق فیصلہ کر سکے گا ، پھر آپ نے فرمایا : اے اللہ ! میں شہروں کے گورنرون کے بارے میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میں نے لوگوں پر انھیں صرف اس لیے مقرر کر کے بھیجا کہ وہ ان سے انصاف کریں اور لوگوں کو ان کے دین اور ان کے نبی ﷺ کی سنت کی تعلیم دیں اور ان کے اموال فے ان میں تقسیم کریں اور اگر لوگوں کے معاملات میں انھیں کوئی مشکل پیش آئے تو اسے میرے سامنے پیش کریں ۔ پھر اے لوگو! تم دو پودے کھا تے ہو ، میں انھیں ( بو کے اعتبار سے ) برے پودے ہی سمجھتا ہوں ، یہ پیاز اور لہسن ہیں ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ، جب مسجد میں آپ کو کسی آدمی سے ان کی بوآتی تو آپ اسے بقیع کی طرف نکال دینے کا حکم صادر فرماتے ، لہذا جو شخص انھیں کھانا چاہتا ہے وہ انھیں پکاکر ان کی بو مار دے ۔
ابن وہب نےہمیں حدیث سنائی ، انھوں نے حیوہ سے ، انھوں نے محمد بن عبدالرحمن سے ، انھوں نے شدادبن ہاد کے آزاد کردہ غلام ابو عبداللہ سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جوشخص کسی آدمی کو مسجد میں کسی گم شدہ جانور کے بارے میں اعلان کرتے ہوئے سنے تو وہ کہے : اللہ تمھارا جانور تمھیں نہ لوٹائے کیونکہ مسجدیں اس کام کے لیے نہیں بنائی گئیں ۔ ‘ ‘
حدیث 1261 — صحيح مسلم 5:99
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الأَسْوَدِ، يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، مَوْلَى شَدَّادٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ . بِمِثْلِهِ .
(ابن وہب کے بجائے ) مقری نے حیوہ سے باقی ماندہ اسی سند کےساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
سفیان ثوری نے ہمیں خبر دی ، انھوں نے علقمہ بن مرثد سے ، انھوں نے سلیمان بن بریدہ سے اور انھوں نے اپنے والد ( بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ ایک آدمی نے مسجد میں اعلان کیا اور کہا : جو سرخ اونٹ ( کی نشاندہی ) کے لیے آواز دے گا ۔ تو نبی ﷺ فرمانے لگے : ’’تجھے ( تیرا اونٹ ) نہ ملے ، مسجدیں صرف انھی کاموں کے لیے بنائی گئی ہیں جن کے لیے انھیں بنایا گیا ۔ ‘ ‘ ( یعنی عبادت اور اللہ کے ذکر کے لیے ۔)
حدیث 1263 — صحيح مسلم 5:101
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمَّا صَلَّى قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الأَحْمَرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ وَجَدْتَ إِنَّمَا بُنِيَتِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ " .
ابو سنان نے علقمہ بن مرثد سے ، انھوں نے سلیمان بن بریدہ سے اور انھوں نےاپنے والد سے روایت کی کہ ( ایک بار ) جب نبی ﷺ نے نمازپڑھائی تو ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا : جو سرخ اونٹ ( کی نشاندہی ) کے لیے آواز دے گل ۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’تم ( اپنا اونٹ ) نہ پاؤ ، مساجد صرف انھی کاموں کے لیے بنائی گئی ہیں جن کے لیے انھیں بنایا گیا ۔ ‘ ‘