حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا نُودِيَ بِالصَّلاَةِ فَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا " .
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ احادیث ہیں جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسو ل اللہ ﷺ سے ( سن کر ) ہمیں سنائیں ، انھوں نے متعدد احادیث ذکر کیں ، ان مین سے یہ بھی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب نماز کے لیے بلاوا دیا جائے تو اس کے لیے چلتے ہوئے آؤ ، اور تم پر سکون ( طاری ) ہو ، جو ( نماز کا حصہ ) مل جائے ، وہ پڑھ لو اور جو رہ جائے اسے مکمل کر لو ۔ ‘ ‘
محمد بن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو تم میں سے کوئی شخص اس کی طرف بھاگ کر نہ آئے بلکہ اس طرح چل کر آئے کہ اس پر سکون وقار طار ی ہو ، جتنی ( نماز ) پا لو ، پڑھ لو اور جو تمھارے ( پہنچنے ) سے پہلے گزر چکی اسے پورکر لو ۔ ‘ ‘
معاویہ بن سلام نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کی کہا : عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی کہ ان کے والد نے انھیں بتایا ، کہا : ہم ( ایک بار ) جب رسو ل اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے ( جلدی چلنے ، دوڑ کر پہنچنے کی ) ملی جلی آواز یں سنیں ، آپ نے ( نماز کے بعد ) پوچھا : ’’تمھیں کیا ہوا ( تھا ؟ ) ‘ ‘ لوگوں نے جواب دیا ہم نے نماز کے لے جلید کی ۔ آپ نے فرمایا : ’’ایسے نہ کیا کرو ، جب تم نماز کے لیے آؤ تو سکون و اطمینان محلوظ رکھو ، ( نماز کاحصہ ) جو تمھیں مل جائے ، پڑھ لو ارو جو گز ر جائے اسے پورا کر لو ۔ ‘ ‘
محمد بن حاتم اور عبیداللہ بن سعید نےکہا : ہمیں یحییٰ بن سعید نےحجاج صواف سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر نے ابو سلمہ اور عبداللہ بن ابی قتادہ سے حدیث سنائی ، انھوں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھون نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے نہ دیکھ لو ۔ ‘ ‘ اور ابن حاتم نے کہا : ’’جب اقامت کہی جائے یا ( جماعت کے لیے ) پکارا جائے
حدیث 1366 — صحيح مسلم #1366
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے معمر سے حدیث سنائی ، ابو بکر ( بن ابی شبیہ نے مزید ) کہا : ہمیں ابن علیہ نے حجاج بن ابی عثمان سے حدیث سنائی ، نیز اسحاق بن ابراہیم نے کہا : ہمیں عیسیٰ بن یونس اور عبدالزراق نے معمر سے خبر دی ۔ اسحاق نے ( مزید ) کہا : ہمیں ولید بن مسلم نے شیبان سے خبر دی ، ان سب ( معمر ، حجاج بن ابی عثمان اور شبیان ) نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کی ، انھوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ۔ اسحاق نے معمر اور شیبان سے جو حدیث روایت کی اس مین یہ اضافہ کیا ہے ۔ ’’ یہاں تک کہ تم مجھے دیکھ لو کہ میں باہر نکل آیا ہوں ۔ ‘ ‘
یونس نے ابن شہاب ( زہری ) سے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے ابو سلمہ عبدالرحمن بن عوف نے خبر دی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے ، ( رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ) اقامت کہی گئی ، ہم اپنی طرف رسول اللہ کے آنے سے پہلے ہی کھڑے ہو گئے اور اپنے مصلے پر کھڑے ہو گئے آپ نے اللہ اکبر نہیں کہا تھا کہ آپ کو ( کچھ ) یاد آگیا ، اس پر آپ واپس پلٹ گئے اور ہمیں فرمایا : ’’اپنی جگہ پر رہو ۔ ‘ ‘ ہم آپ کے انتظار میں کھڑے رہے یہاں تک کہ آب تشریف لے آئے ، آب غسل کیے ہوئے تھے اور آب کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے ، پھر آپ نے اللہ اکبر کہا اور ہمیں نماز پڑھائی ۔
زہیر بن حرب نے بیان کیا کہ ہمیں ولید بن مسلم نے حدیث سنائی ، ( کہا ) : ابو عمرو ، یعنی اوزاعی نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں زہری نے ابو سلمہ سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے حدیث سنائی کہا : نماز کی اقامت کہہ دی گئی ، لوگوں نے اپنی صفیں باندھ لیں اور رسول اللہ ﷺ تشریف لا کر اپنی جگہ پر کھڑے ہو گئے پھر آپ نے لوگوں کو ہاتھ کے اشارے سے فرمایا : ’’اپنی جگہ پر رہو ۔ ‘ ‘ اور خود ( مسجد سے ) باہر نکل گئے ، پھر ( آئے تو ) آپ غسل فرما چکے تھے اور آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا ، پھر آپ نے انھیں نماز پڑھائی ۔
حدیث 1369 — صحيح مسلم 5:203
وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ الصَّلاَةَ، كَانَتْ تُقَامُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَأْخُذُ النَّاسُ مَصَافَّهُمْ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَقَامَهُ .
ابراہیم بن موسیٰ نےمجھے حدیث بیان کی ، کہا ہمیں ولید بن مسلم نےباقی ماندہ اسی سند کے ساتھ خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے اقامت کہی جاتی تو اس سے پہلے کہ نبی اکرم ﷺ ( اپنی جگہ پر ) کھڑے ہوں لوگ صفوں میں اپنی اپنی جگہ لے لیتے ۔
حدیث 1370 — صحيح مسلم 5:204
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ بِلاَلٌ يُؤَذِّنُ إِذَا دَحَضَتْ فَلاَ يُقِيمُ حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا خَرَجَ أَقَامَ الصَّلاَةَ حِينَ يَرَاهُ .
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے فرمایا ، جب سورج ڈھل جاتا تو بلال رضی اللہ عنہ ظہر کی اذان کہتے اور رسول اللہ ﷺ کے نکلنے تک تکبیر نہ کہتے ۔ جب آپ حجرے سے نکلتے تو آپ کو دیکھ کر اقامت کہتے ۔