قرآني·Qurani
اردو

المساجد ومواضع الصلاة

409 احادیث · #1161–1569

حدیث 1371 — صحيح مسلم 5:205
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلاَةِ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلاَةَ ‏"‏ ‏.‏
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میں نے امام مالک کے سامنے ابن شہاب زہری سے روایت کردہ حدیث پڑھی انھوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے نماز کی ایک رکعت پالی ، یقینا اس نے نماز پالی ۔ ‘ ‘
حدیث 1372 — صحيح مسلم 5:206
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلاَةِ مَعَ الإِمَامِ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلاَةَ ‏"‏ ‏.‏
(امام مالک کے بجائے ) یونس نے ابن شہاب زہری سے ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن سےاور انھوں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے امام کے ساتھ نماز کی ایک رکعت پالی ، اس نے نماز پالی ۔ ‘ ‘
حدیث 1373 — صحيح مسلم 5:207
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَالأَوْزَاعِيِّ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَيُونُسَ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ ‏"‏ مَعَ الإِمَامِ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلاَةَ كُلَّهَا ‏"‏ ‏.‏
سفیان بن عیینہ ، معمر ، اوزاعی ، یونس اور عبید اللہ سب نے زہری سے روایت کی ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انھوں نبی ﷺ سے یحییٰ کی امام مالک سے مذکورہ بالا روایت کی طرح حدیث بیان کی اور ان میں سے کسی کی حدیث میں مع الامام ( امام کے ساتھ ) کے الفاظ نہیں ہیں ۔ اور عبید اللہ کی حدیث میں ہے : ’’تو یقینا اس نے مکمل نماز پالی ۔ ‘ ‘
حدیث 1374 — صحيح مسلم 5:208
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، وَعَنِ الأَعْرَجِ، حَدَّثُوهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْعَصْرَ ‏"‏ ‏
امام مالک نےزید بن اسلم سے روایت کی ، انھیں عطاء بن یسار ، بسربن سعید اور اعرج نے حدیث بیان کی ، ان سب نےحضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے سورج نکلنے سے پہلے صبح کی ایک رکعت پالی تو یقینا اس نے صبح ( کی نماز ) پالی اورجس نے سورج کے غروب ہونے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی تو یقینا اس نے عصر ( کی نماز ) پالی ۔ ‘ ‘
حدیث 1375 — صحيح مسلم 5:209
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ‏
حضرت عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے سورج کے غروب ہونے سے پہلے عصر کی نماز کا ایک سجدہ پالیا سورج کے نکلنے سے پہلے صبح کی نماز کا تو یقینا اس نے اس نماز کو پالیا ۔ ‘ ‘ ( ان شہاب نے کہا : ) سجدے سے مراد رکعت ہی ہے ۔
حدیث 1376 — صحيح مسلم 5:210
وَحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ح قَالَ وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، - وَالسِّيَاقُ لِحَرْمَلَةَ - قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ سَجْدَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَوْ مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ فَقَدْ أَدْرَكَهَا ‏"‏ ‏.‏ وَالسَّجْدَةُ إِنَّمَا هِيَ الرَّكْعَةُ ‏.‏
معمر نے زہری سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے ، اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اسی طرح روایت کی جس طرح امام مالک نے زید بن اسلم سے روایت کی ۔
حدیث 1377 — صحيح مسلم 5:211
وَحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ وَمَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْفَجْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن مبارک نے معمر سے ، انھوں نے ابن طاوس سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ( عبداللہ ) بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے سورج کے غروب ہونے سے پہلے عصر کی نماز میں سے ایک رکعت پالی تو یقینا اس نے ( نماز ) پالی اور جس نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو یقینا اس نے ( نماز ) پالی ۔ ‘ ‘
حدیث 1378 — صحيح مسلم 5:212
وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ مَعْمَرًا، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
معتمر نے کہا : میں نے معمر سے سنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آگے اسی سند سے ( روایت کی ۔)
حدیث 1379 — صحيح مسلم 5:213
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخَّرَ الْعَصْرَ شَيْئًا فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ قَدْ نَزَلَ فَصَلَّى إِمَامَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ اعْلَمْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ ‏.‏ فَقَالَ سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ نَزَلَ جِبْرِيلُ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ‏"‏ ‏.‏ يَحْسُبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ ‏.‏
لیث نے ابن شہاب سے روایت کی کہ ایک دن عمر بن عبدالعزیز نےعصر کی نمازمیں کچھ تاخیر کردی تو عروہ نے ان سے کہا : بات یوں ہے کہ جبریل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نازل ہوئے اور امام بن کر رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھائی ۔ تو عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ان سے کہا : اے عروہ ! جان لیں ( سمجھ لیں ) آپ کیا کہہ رہے ہیں ! انھوں نے کہا : میں نے بشیر بن ابی مسعود سے سنا ، وہ کہتے تھے : میں نے ابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، انھوں نے کہا ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ نے فرما رہے تھے : ’’جبرئیل اترے اور انھوں نے ( نمازمیں ) میری امامت کی ، میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی ، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی ، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی ، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی ، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی ۔ ‘ ‘ وہ اپنی انگلیوں سے پانچ نمازیں شمار کرتے تھے ۔
حدیث 1380 — صحيح مسلم 5:214
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخَّرَ الصَّلاَةَ يَوْمًا فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخَّرَ الصَّلاَةَ يَوْمًا وَهُوَ بِالْكُوفَةِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِيلَ نَزَلَ فَصَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ بِهَذَا أُمِرْتُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ لِعُرْوَةَ انْظُرْ مَا تُحَدِّثُ يَا عُرْوَةُ أَوَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ هُوَ أَقَامَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقْتَ الصَّلاَةِ فَقَالَ عُرْوَةُ كَذَلِكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ‏.‏
امام مالک نے ابن شہاب زہری سے روایت کی کہ ایک دن عمر بن عبدالعزیز نے نماز میں تاخیر کر دی تو عروہ بن زبیر ان کے پاس آئے اور انھیں بتایا کہ مغیر ہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ایک دن نماز دیر سے پڑھی اس وقت وہ کوفہ میں تھے ابو مسعود انصاری رحمۃ اللہ علیہ ان کے پاس آئے اور کہا : مغیرہ !یہ کیا ہے ؟ کیا آپ کو پتہ نہیں کہ جبریل ‌علیہ ‌السلام ‌ اترے تھے ، انھوں نے نماز پڑھائی تو رسول اللہ ﷺ نے ( ان کے ساتھ ) نماز پڑھی ، پھر انھوں نے نماز پڑھی تو رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی ، پھر انوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ ﷺ نے ( ان کے ساتھ ) نماز پڑھی ، پھر انھوں نے نماز پڑھی تو رسو ل اللہ ﷺ نے ( ان کے ساتھ ) نماز پڑھی ، پھر ( جبرئیل نے ) کہا : مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے ۔ تو عمر نے عروہ سے کہا : عروہ ! دیکھ لو ، کیا کہہ رہے ہو ؟ کیا جبرئیل نے خود ( آکر ) رسول ) اللہ ﷺ کے لیے ( ہر ) نماز کا وقت متعین کیا تھا ؟ تو عروہ نے کہا بشر بن ابی مسعود اپنے والد سے ایسے ہی بیان کرتے تھے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔