ابن شہاب سے روایت ہے ، کہا : مجھ سے ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے حدیث نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’آگ نےاپنے رب کے حضور شکایت کی اور کہا : اے میرے رب ! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھارہا ہے ۔ تو اللہ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت عطا کردی : ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی ، گرمی اور سردی کے موسم میں جو تم شدید ترسین گرمی اور شدید ترسین سردی محسوس کرتے ہو تو یہ وہی ( چیز ) ہے ۔ ‘ ‘
اسود بن سفیان کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن یزید نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن اور محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب گرمی ہو تو نماز ٹھنڈے وقت تک مؤخر کر کے پڑھوکیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہوتی ہے ۔ ‘ ‘ اور آپ ﷺ نے یہ ( یہ بھی ذکر فرمایا : ) ’’جہنم کی ) آگ نے اپنے رب کےحضور شکایت کی تو اللہ نےاسے سال میں دو سانس لینے کی اجازت دی : ایک سانس سردی مین اور ایک سانس گرمی میں ۔ ‘ ‘
محمد بن ابراہیم نےابو سلمہ سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ ﷺسے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’آگ نے عرض کی : اے میرے رب ! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھا رہا ہے ، مجھے سانس لینے کی اجازت مرحمت فرما ۔ تو ( اللہ نے ) اسے دو سانس لینے کی اجازت دی : ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی میں ۔ تم جو سردی یا ٹھنڈک کی شدت پاتے ہو ، وہ جہنم کی سانس سے ہے اور جو تم حرارت یا گرمی کی شدت پاتے ہو تو وہ ( بھی ) جہنم کی سانس سے ہے ۔ ‘ ‘
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ظہر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھلتا تھا
حدیث 1405 — صحيح مسلم 5:239
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، سَلاَّمُ بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصَّلاَةَ فِي الرَّمْضَاءِ فَلَمْ يُشْكِنَا .
ابو احوص سلام بن سلیم نے ہمیں حدیث سنائی ، انھوں نے ابو اسحاق سے ، انھوں نے سعید بن وہب سے اور انھوں حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم نے رسول اللہ ﷺ سے شدید گرم ریت پر نماز ادا کرنے کی شکایت کی تو آپ نے ہماری شکایت کا ازالہ نہ فرمایا ۔
زہیر نے کہا : ہمیں ابو اسحاق نے سعید بن وہب سے حدیث سنائی اور انھوں نے حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے ریت کی گرمی کی شکایت کی تو آپ نے ہماری شکایت کا ازالہ نہ فرمایا ۔ زہیر نے کہا : میں نے ابو اسحاق سے پوچھا : کیا ظہر کے بارے میں ( شکایت کی ؟ ) انھوں نے جواب دیا : ہاں ۔ میں نےکہا : کیا اس کو جلد ی پڑھنے ( کی مشقت ) کے بارے میں ؟ انھوں نے جواب دیا : ہاں ۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم گرمی کی شدت میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے ، جب ہم میں سے کوئی اپنی پیشانی زمین پر نہ رکھ سکتا تو اپنا کپڑا پھیلا کر اس پر سجدہ کر لیتا
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے کہا : لیث نے ہمیں ابن شہاب سے روایت کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ عصرکی نماز ( ایسے وقت میں ) پڑھتے تھے جب سورج بلند اور زندہ ( روشنی میں کمی کے بغیر ) ہوتا تھا ، عوالی کی طرف جانے والا ( عصر پڑھ کر ) چلتا اور عوالی ( مدینہ کے بالائی حصے کی بستیوں میں ) پہنچتا تو سورج ابھی بلند ہوتا تھا ۔ یہ بستیاں مدینہ سے دو تا آٹھ میل کی میل کی مسافت پر تھیں ۔ قتیبہ نے ( اپنی حدیث میں ) عوالی پہنچنے کا ذکر نہیں کیا ۔
حدیث 1409 — صحيح مسلم 5:243
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ، . أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ بِمِثْلِهِ سَوَاءً .
عمرو نے ابن شہاب سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ عصر کی نماز پڑھتے تھے ۔ ۔ ۔ ( آگے ) بالکل ( اوپرکی روایت ) کے مطابق ہے ۔
امام مالک نے ابن شہاب سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہم عصر کی نماز پڑھتے تھے ، پھر جانے والا قباء جاتا ، ان لوگوں کے پاس پہنچتا اور سورج ابھی اونچا ہوتا ۔ ( قباء مدینہ سے دو میل کی مسافت پر ہے ۔)