قرآني·Qurani
اردو

المساجد ومواضع الصلاة

409 احادیث · #1161–1569

حدیث 1411 — صحيح مسلم 5:245
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَخْرُجُ الإِنْسَانُ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَيَجِدُهُمْ يُصَلُّونَ الْعَصْرَ ‏.‏
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت اسن بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ ، کہا ہم عصر کی نماز پڑھتے ، پھر ایک انسان بنو عمرو بن عوف کے محلے ( قباء میں ) جاتا تو انھیں عصر کی نماز پڑھتے ہوئے پاتا ۔
حدیث 1412 — صحيح مسلم 5:246
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي دَارِهِ بِالْبَصْرَةِ حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الظُّهْرِ وَدَارُهُ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ قَالَ أَصَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ فَقُلْنَا لَهُ إِنَّمَا انْصَرَفْنَا السَّاعَةَ مِنَ الظُّهْرِ ‏.‏ قَالَ فَصَلُّوا الْعَصْرَ ‏.‏ فَقُمْنَا فَصَلَّيْنَا فَلَمَّا انْصَرَفْنَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ تِلْكَ صَلاَةُ الْمُنَافِقِ يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَىِ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَهَا أَرْبَعًا لاَ يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلاَّ قَلِيلاً ‏"‏ ‏.‏
علاء بن عبدالرحمان سے روایت ہے کہ وہ نماز ظہر سے فارغ ہو کر حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ہاں بصرہ میں ان کے گھر حاضر ہوئے ، ان کا گھر مسجد کے پہلو میں تھا ، جب ہم ان کی خدمت میں پہنچے تو انھوں نے پوچھا : کیا تم لوگوں نے عصر کی نماز پڑھ لی ہے ؟ ہم نے ان سے عرض کی : ہم تو ابھی ظہر کی نماز پڑھ کر لوٹے ہیں ۔ انھوں نے فرمایا : تو عصر پڑھ لو ۔ ہم نے اٹھ کر ( عصر کی ) نماز پڑھ لی ، جب ہم فارغ ہوئے تو انھوں نےکہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ’’ یہ منافق کی نماز ہے ، وہ بیٹھا ہوا سورج کو دیکھتا رہتا ہے یہاں تک کہ ( جب وہ زرد پڑ کر ) شیطان کے دو سنگوں کے درمیان چلا جاتا ہے تو کھڑا ہو کر اس ( نماز ) کی چار ٹھونگیں مار دیتا ہے اور اس میں اللہ کو بہت ہی کم یاد کرتا ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 1413 — صحيح مسلم 5:247
وَحَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ، يَقُولُ صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الظُّهْرَ ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ فَقُلْتُ يَا عَمِّ مَا هَذِهِ الصَّلاَةُ الَّتِي صَلَّيْتَ قَالَ الْعَصْرُ وَهَذِهِ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله تعالى عليه وسلم الَّتِي كُنَّا نُصَلِّي مَعَهُ ‏.‏
حضرت ابو اامامہ بن سہل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ بیان کرتے ہیں : ہم نے عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی ، پھر ہم باہر نکلے اور انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے انھیں حاصر کی نماز پڑھتے ہوئے پایا ، میں نے پوچھا : چچا جان! یہ کون سی نماز ہےجو آپ نے پڑھی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : عصر کی ہے ، اور یہی رسول اللہ ﷺ کی نماز ہے جو ہم آپ کے ساتھ پڑھا کرتے تھے ۔
حدیث 1414 — صحيح مسلم 5:248
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالَ عَمْرٌو أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ مُوسَى بْنَ سَعْدٍ الأَنْصَارِيَّ، حَدَّثَهُ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعَصْرَ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَنْحَرَ جَزُورًا لَنَا وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَحْضُرَهَا ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ فَوَجَدْنَا الْجَزُورَ لَمْ تُنْحَرْ فَنُحِرَتْ ثُمَّ قُطِّعَتْ ثُمَّ طُبِخَ مِنْهَا ثُمَّ أَكَلْنَا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ ‏.‏ وَقَالَ الْمُرَادِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ وَعَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏
عمرو بن سواد عامری ، محمد بن سلمہ مرادی اور احم د بن عیسیٰ نےہمیں حدیث بیان کی ۔ اس سب کے الفاظ ملتے جلتے ہیں ۔ عمرو نے کیا : ہمیں خبر دی اور باقی دونوں نے کہا : ہمیں حدیث سنائی ابن وہب نے ، کہا : مجھے عمرو بن حارث نے یزید بن ابی حبیب سے خبر دی کہ موسیٰ بن سعد انصاری نےانھیں حدیث بیان کی ، انھوں نے حفص بن عبید اللہ سے اورانھوں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھا ئی تو جب آپ فارغ ہوئے ، آپ کے پاس بنو سلمہ کا ایک آدمی آیا اور کہا : اللہ کے رسول ! ہم اپنا اونٹ نحر کرنے کا اردہ رکھتے ہیں ۔ اور ہم چاہتے ہیں آپ بھی اس موقع پر موجود ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ اچھا ۔ ‘ ‘ آپ نکل پڑے ، ہم بھی آپ کے ساتھ چل پڑے ، ہم نے دیکھا ، اونٹ ابھی ذبح نہیں کیا گیا تھا ، اسے ذبح کیا گیا ، پھر اس کا گوشت کاٹا گیا ، پھر اس میں سے کچھ پکایا گیا ، پھر ہم نے سورج غروب ہونے سے پہلے ( اسے ) کھا لیا ۔ مرادی کا قول ہے کہ ہمیں یہ حدیث ابن وہب نے ابن لہیعہ اورعمروبن حارث دونوں سے روایت کرتے ہوئے سنائی ۔
حدیث 1415 — صحيح مسلم 5:249
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، يَقُولُ كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ تُنْحَرُ الْجَزُورُ فَتُقْسَمُ عَشَرَ قِسَمٍ ثُمَّ تُطْبَخُ فَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا قَبْلَ مَغِيبِ الشَّمْسِ ‏.‏
ہمیں ولید بن مسلم نےحدیث سنائی ، کہا : اوزاعی نےہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو نجاشی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نےحضرت رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، کہہ رہے تھے : ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز عصر پڑھتے ، پھر اونٹ ذبح کیا جاتا ، اس کے دس حصے کیے جاتے ، پھر ہم اسے پکاتے اور سورج کےغروب ہونے سے پہلے ہم اچھی طرح پکا ہوا گوشت کھا لیتے ۔
حدیث 1416 — صحيح مسلم 5:250
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ الدِّمَشْقِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ كُنَّا نَنْحَرُ الْجَزُورَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ الْعَصْرِ ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ كُنَّا نُصَلِّي مَعَهُ ‏.‏
اسحاق بن ابراہیم نے کہا : ہمیں عیسیٰ بن یونس اور شعیب بن اسحاق دمشقی نے خبر دی ، ان دونوں نے کہا : ہمیں اوزاعی نے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی ، البتہ انھوں ( اسحاق ) نے کہا : ہم رسول اللہ ﷺ کےعہدمیں عصر کے بعد اونٹ ذبح کرتےتھے ، نہیں کہا : ہم آپ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے ۔
حدیث 1417 — صحيح مسلم 5:251
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الَّذِي تَفُوتُهُ صَلاَةُ الْعَصْرِ كَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ ‏"‏ ‏.‏
نافع نے حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس شخص کی نماز عصر رہ گئی تو گیا اس کے اہل وعیال اور اس کا مال تباہ وبرباد ہو گئے ۔ ‘ ‘
حدیث 1418 — صحيح مسلم 5:252
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، ‏.‏ قَالَ عَمْرٌو يَبْلُغُ بِهِ ‏.‏ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَفَعَهُ ‏.‏
ابو بکر بن ابی شبیہ اور عمرو الناقد نے کہا : ہمیں سفیان نے زہر سے ، انھوں نے سالم سے اور انھوں نے اپنے والد ( ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) سے حدیث بیان کی ۔ عمرو نے کہا : ( ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) اس حدیث کی سند کو ( رسول اللہ ﷺ تک ) پہنچاتے تھے ۔ ابو بکر نے کہا : ( انھوں نے ) اس حدیث کو مرفوعا بیان کیا ۔
حدیث 1419 — صحيح مسلم 5:253
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ فَاتَتْهُ الْعَصْرُ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ ‏"‏ ‏.‏
عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سالم بن عبداللہ سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس شخص کی عصر کی نماز رہ گئی تو گویا اس کے ہل وعیال اور اسکا مال بتاہ و برباد ہو گئے ۔ ‘ ‘
حدیث 1420 — صحيح مسلم 5:254
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الأَحْزَابِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَلأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا كَمَا حَبَسُونَا وَشَغَلُونَا عَنِ الصَّلاَةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ ‏"‏ ‏.‏
ابوسامہ نے ہمیں حدیث سنائی ، انھوں نے ہشام سے ، انھوں نے محمد سے انھوں نے عبیدہ سے اور انھوں نےحضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے غزوہ احزاب کےدن فرمایا : ’’اللہ تعالٰی ان ( مشرکین ) کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے ، جس طرح انھوں نے ہمیں درمیانی نماز ( عصر ) سے روکا اور ( جنگ میں ) مشغول کیے رکھا حتی کہ سورج غروب ہو گیا ۔ ‘ ‘
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔