عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دونالوں میں ایک کا نام مہروز تھا اور دوسرے کا نام مذینیب کہ جس کا باغ نالہ کے متصل ہے وہ اپنے باغ میں ٹخنوں ٹخنوں پانی بھر کے پھر دوسرے کے باغ میں پانی چھوڑ دے ۔
حدیث 1430 — موطأ مالك 36:32
صحیح
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلأُ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں روکا جائے گا پانی جو بچ رہا ہو تاکہ گھانس بچ جائے ۔
حدیث 1431 — موطأ مالك 36:33
صحیح
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يُمْنَعُ نَقْعُ بِئْرٍ " .
عمرہ بنت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ منع کیا جائے اس پانی سے کنوئی کے جو بچ رہے ۔
حدیث 1432 — موطأ مالك 36:34
صحیح Lighairihi
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ ضَرَرَ وَلاَ ضِرَارَ " .
یحیی بن عمارہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ ضرر ہے اسلام میں نہ ضرار ۔
حدیث 1433 — موطأ مالك 36:35
صحیح
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَمْنَعُ أَحَدُكُمْ جَارَهُ خَشَبَةً يَغْرِزُهَا فى جِدَارِهِ " . ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا لِي أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ وَاللَّهِ لأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کرتے تم میں سے کوئی اپنے ہمسایہ کو لکڑی گاڑنے سے اپنی دیوار میں پھر ابوہریرہ کہتے تھے کیا وجہ ہے کہ تم اس حدیث کو متوجہ ہو کر نہیں سنتے قسم اللہ کی میں اس کو خوب مشہور کروں گا۔
یحیی بن عمارہ سے روایت ہے کہ ضحاک بن خلیفہ نے ایک نہر نکالی عرض میں سے محمد بن مسلمہ کی زمین میں سے ہو کر انہوں نے منع کیا ضحاک نے کہا تم کیوں منع کرتے ہو تمہارا تو اس میں نفع ہے اپنی زمین کو اول اور آخر پانی دیا کرنا اور کچھ ضرر نہی محمد نہ مانا ضحاک نے حضرت عمر سے بیان کیا حضرت عمر نے محمد بن مسلمہ کا بلا کر کہا تم اجازت دو محمد نے کہا میں نہ دوں گا حضرت عمر نے کہا تم اپنے بھائی مسلمان کو ایسی بات سے منع کرتے ہو جس میں اس کا نفع ہے اور تمہارا بھی نفع ہے تم بھی پانی لیا کرنا اول اور آخر میں اور تمہارا کچھ ضرر نہیں محمد نے کہا قسم اللہ کی میں اجازت نہ دونگا حضرت عمر نے کہا وہ نہر بہائی جائے اگرچہ تمہارے پیٹ پر سے ہو پھر حضرت عمر نے ضحاک کو حکم کیا نہر جاری کرنے گا محمد بن مسلمہ کی زمین سے ہو کر ضحاک نے ایسا ہی کہا۔
یحیی بن عمارہ سے روایت ہے کہ میرے دادا کے باغ میں سے ہو کر ایک نہر بہتی تھی عبدالرحمن بن عوف کی عبدالرحمن نے یہ چاہا کہ اس کو باغ کی دوسری طرف سے لے جائیں کیونکہ وہ قریب تھا ان کی زمین سے لیکن باغ کے مالک یعنی میرے داد نے اجازت نہ دی عبدالرحمن نے حضرت عمر سے بیان کیا حضرت عمر نے اجازت دے دی ۔
ثور بن زید ویلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو زمین یا مکان جاہلیت کے زمانے میں تقسیم ہو چکا ہے وہ اسی طور پر رہیگا البتہ جو مکان یا زمین اسلام کے زمانے تک تقسیم نہیں ہوئی تو وہ اسلام کے قاعدوں کے موافق تقسیم ہوگی ۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص مرجائے اور بارانی اور چاہی زمینیں چھوڑ جائے تو بارانی کو چاہی کے ساتھ ملا کر تقسیم نہ کریں گے بلکہ جدا جداتقسیم کریں گے۔ (کیونکہ بارانی کا لگان دسواں حصہ اور چاہی کا بیسواں حصہ پیداوار کا) مگر جب سب شریک ملا کر تقسیم کرنے پر راضی ہوجائیں تو ملا کر تقسیم کردیں گے البتہ بارانی اور زیر تالاب یا کاریز کو ملا کر تقسیم کردیں گے ۔ (کیونکہ ان کا دھارا ایک ہے یعنی دونوں قسموں کی زمینوں کا لگان پیداوار کا دسواں حصہ ہے اسی طرح اگر کسی قسم کے مال ہوں ایک ہی جگہ اور ایک دوسرے کے مشابہ ہوں تو ہر ایک مال کی قیمت لگا کر ایک ساتھ تقسیم کردیں گے مکانوں اور گھروں کا بھی یہی حکم ہے۔)
حرام بن سعد محیصہ سے روایت ہے کہ براء بن عازب کا اونٹ ایک باغ میں چلا گیا اور نقصان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کیا کہ باغ کی حفاظت دن کو باغ والے کے ذمے پر ہے البتہ اگر رات کو کسی کا جانور باغغ میں جا کر نقصان کرے تو ضمان اس کا جانور کے مالک پر ہوگا ۔
یحیی بن عبدالرحمن بن حاطب سے روایت ہے کہ غلاموں نے ایک شخص کا اونٹ چرا کر کاٹ ڈالا جب یہ مقدمہ حضرت عمر کے پاس گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کثیر بن صلت سے کہا ان غلاموں کا ہاتھ کاٹ ڈال پھر حاطب سے کہا میں سمجھتا ہوں کہ تو ان غلاموں کو بھوکا رکھتا ہوگا پھر حضرت عمر نے کہا حاطب سے قسم اللہ کی میں تجھ سے ایسا تاوان دلاؤں گا جو تجھ پر بہت گران گزرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ والے سے پوچھا تیرا اونٹ کتنے کا ہوگا اس نے کہا میں نے چار سو درہم کو اسے اس نے نہیں بیچا حضرت عمر نے کہا تو آٹھ سو درہم اس کے دے کہا مالک نے ہمارے نزدیک قیمت دوچند لینے میں اس روایت پر عمل نہ ہوگا لیکن در آمد لوگوں کی یہ رہی کہ اس جانور کی جو قمیت چرانے کے دن ہوگی وہ دینی ہوگی۔