قرآني·Qurani
اردو

الأقضية

56 احادیث · #1399–1454

حدیث 1439 — موطأ مالك #1439
حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أَبَاهُ بَشِيرًا أَتَى بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلاَمًا كَانَ لِي ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَهُ مِثْلَ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَارْتَجِعْهُ ‏"‏ ‏.‏
کہا مالک نے ایک شخص نے اپنے ذمے پر جو قرض ہے اس کو اپنے ایک قرض دار پر اتاردیا قرض خواہ کی رضامندی سے اب وہ قرض دار مفلس ہوگیا یا بے جائداد مرگیا تو قرض خواہ پھر اس سے مطالبہ نہیں کرسکتا۔ ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے البتہ اگر ایک شخص دوسرے کے ذمے پر جو قرض ہے اس کا ضامن ہوگیا پھر جو ضامن ہوا تھا بے جائداد مر گیا یا مفلس ہوگیا تو قرض خواہ قرضدار سے مطالبہ کرسکتا ہے۔
حدیث 1440 — موطأ مالك 36:42
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ كَانَ نَحَلَهَا جَادَّ عِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ مَالِهِ بِالْغَابَةِ فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ وَاللَّهِ يَا بُنَيَّةُ مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبُّ إِلَىَّ غِنًى بَعْدِي مِنْكِ وَلاَ أَعَزُّ عَلَىَّ فَقْرًا بَعْدِي مِنْكِ وَإِنِّي كُنْتُ نَحَلْتُكِ جَادَّ عِشْرِينَ وَسْقًا فَلَوْ كُنْتِ جَدَدْتِيهِ وَاحْتَزْتِيهِ كَانَ لَكِ وَإِنَّمَا هُوَ الْيَوْمَ مَالُ وَارِثٍ وَإِنَّمَا هُمَا أَخَوَاكِ وَأُخْتَاكِ فَاقْتَسِمُوهُ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا أَبَتِ وَاللَّهِ لَوْ كَانَ كَذَا وَكَذَا لَتَرَكْتُهُ إِنَّمَا هِيَ أَسْمَاءُ فَمَنِ الأُخْرَى فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ذُو بَطْنِ بِنْتِ خَارِجَةَ ‏.‏ أُرَاهَا جَارِيَةً ‏.‏
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ كَانَ نَحَلَهَا جَادَّ عِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ مَالِهِ بِالْغَابَةِ فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ وَاللَّهِ يَا بُنَيَّةُ مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبُّ إِلَىَّ غِنًى بَعْدِي مِنْكِ وَلاَ أَعَزُّ عَلَىَّ فَقْرًا بَعْدِي مِنْكِ وَإِنِّي كُنْتُ نَحَلْتُكِ جَادَّ عِشْرِينَ وَسْقًا فَلَوْ كُنْتِ جَدَدْتِيهِ وَاحْتَزْتِيهِ كَانَ لَكِ وَإِنَّمَا هُوَ الْيَوْمَ مَالُ وَارِثٍ وَإِنَّمَا هُمَا أَخَوَاكِ وَأُخْتَاكِ فَاقْتَسِمُوهُ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا أَبَتِ وَاللَّهِ لَوْ كَانَ كَذَا وَكَذَا لَتَرَكْتُهُ إِنَّمَا هِيَ أَسْمَاءُ فَمَنِ الأُخْرَى فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ذُو بَطْنِ بِنْتِ خَارِجَةَ ‏.‏ أُرَاهَا جَارِيَةً ‏.‏
حدیث 1441 — موطأ مالك #1441
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ مَا بَالُ رِجَالٍ يَنْحَلُونَ أَبْنَاءَهُمْ نُحْلاً ثُمَّ يُمْسِكُونَهَا فَإِنْ مَاتَ ابْنُ أَحَدِهِمْ قَالَ مَالِي بِيَدِي لَمْ أُعْطِهِ أَحَدًا ‏.‏ وَإِنْ مَاتَ هُوَ قَالَ هُوَ لاِبْنِي قَدْ كُنْتُ أَعْطَيْتُهُ إِيَّاهُ ‏.‏ مَنْ نَحَلَ نِحْلَةً فَلَمْ يَحُزْهَا الَّذِي نُحِلَهَا - حَتَّى يَكُونَ إِنْ مَاتَ لِوَرَثَتِهِ - فَهِيَ بَاطِلٌ ‏.‏
کہا مالک نے جو شخص ثواب کے واسطے کسی کو کوئی شئے دے اس کا عوض نہ چاہتا ہو اور لوگوں کو اس پر گواہ کر دے تو وہ نافذ ہوجائے گا مگر جب دینے والا مرجائے معطی لہ کے قبضے سے پہلے ۔ اگر دینے والا یہ چاہے کہ بعد دینے کے اس کو رکھ چھوڑے تو یہ نہیں ہو سکتا معطی کہ جب چاہے تو جبراً اس سے لے سکتا ہے۔ کہا مالک نے ایک شخص نے ایک شئے لللہ دی پھر معطی لہ قبل قبضے کے مر گیا تو اس کے وارث اس کے قائم مقام ہوں گے اگر دینے والا قبل معطی لہ کے قبضے کے مر گیا تو اب اس کو کچھ نہ ملے گا کیونکہ قبضہ نہ ہونے کے سبب سے وہ ہبہ لغو ہوگیا اگر دینے والا اس کو روک رکھے اور ہبہ پر گواہ نہ ہوں گو یہ نہیں ہوسکتا جب معطی لہ لینے کو کھڑا ہوجائے تو لے سکتا ہے۔
حدیث 1442 — موطأ مالك #1442
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ بْنِ طَرِيفٍ الْمُرِّيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ مَنْ وَهَبَ هِبَةً لِصِلَةِ رَحِمٍ أَوْ عَلَى وَجْهِ صَدَقَةٍ فَإِنَّهُ لاَ يَرْجِعُ فِيهَا وَمَنْ وَهَبَ هِبَةً يَرَى أَنَّهُ إِنَّمَا أَرَادَ بِهَا الثَّوَابَ فَهُوَ عَلَى هِبَتِهِ يَرْجِعُ فِيهَا إِذَا لَمْ يُرْضَ مِنْهَا ‏.‏ قَالَ يَحْيَى سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ الْهِبَةَ إِذَا تَغَيَّرَتْ عِنْدَ الْمَوْهُوبِ لَهُ لِلثَّوَابِ بِزِيَادَةٍ أَوْ نُقْصَانٍ فَإِنَّ عَلَى الْمَوْهُوبِ لَهُ أَنْ يُعْطِيَ صَاحِبَهَا قِيمَتَهَا يَوْمَ قَبَضَهَا ‏.‏
کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے باپ اگر اپنے بیٹے کو کچھ صدقہ کے طور پر دے تو بیٹا اس کو اپنے قبضے میں کرلے یا بیٹاصغیر سن ہو خودباپ کی گود میں ہو اور وہ صدقہ پر گواہ کر دے تو اب باپ کو اس میں رجوع کرنا درست نہیں کیونکہ کسی صدقہ میں رجوع درست نہیں ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکن اجماعی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے بیٹے کو کوئی چیز محبت کی وجہ سے دے نہ کہ صدقہ کے طور پر تو وہ اس میں رجوع کرسکتا ہے جب تک کہ بیٹا اس جائداد کے اعتماد پر معاملہ نہ کرنے لگے اور لوگ اس کو اس جائداد کے بھروسے پر قرض نہ دیں لیکن جب ایسا ہوجائے تو پھر رجوع نہیں کرسکتا۔
حدیث 1443 — موطأ مالك 36:45
صحیح
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَيُّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَإِنَّهَا لِلَّذِي يُعْطَاهَا لاَ تَرْجِعُ إِلَى الَّذِي أَعْطَاهَا أَبَدًا ‏"‏ ‏.‏ لأَنَّهُ أَعْطَى عَطَاءً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ ‏.‏
جابر بن عبداللہ انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کو عمریٰ دے اس کے واسطے اور اس کے وارثوں کے واسطے تو پھر وہ عمرہ اس کا ہو جاتا ہے دینے ولاے کو پھر نہیں مل سکتا ۔
حدیث 1444 — موطأ مالك 36:46
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، أَنَّهُ سَمِعَ مَكْحُولاً الدِّمَشْقِيَّ، يَسْأَلُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنِ الْعُمْرَى، وَمَا يَقُولُ النَّاسُ فِيهَا فَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ مَا أَدْرَكْتُ النَّاسَ إِلاَّ وَهُمْ عَلَى شُرُوطِهِمْ فِي أَمْوَالِهِمْ وَفِيمَا أُعْطُوا ‏.‏ قَالَ يَحْيَى سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ وَعَلَى ذَلِكَ الأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ الْعُمْرَى تَرْجِعُ إِلَى الَّذِي أَعْمَرَهَا إِذَا لَمْ يَقُلْ هِيَ لَكَ وَلِعَقِبِكَ ‏.‏
عبدالرحمن بن قاسم نے سنا مکحول سے پوچھتے ہوئے قاسم سے عمریٰ کے متعلق کیا قول ہے لوگوں کا اس میں قاسم نے کہا میں نے تو لوگوں کو اپنی شرطین پوری کرتے وہئے پایا اپنے مالوں میں اور جو کچھ وہ دیا رکتے تھے اس کو بھی پورا کرتے تھے ۔
حدیث 1445 — موطأ مالك 36:47
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، ‏.‏ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، وَرِثَ مِنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ دَارَهَا قَالَ وَكَانَتْ حَفْصَةُ قَدْ أَسْكَنَتْ بِنْتَ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ مَا عَاشَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ بِنْتُ زَيْدٍ قَبَضَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْمَسْكَنَ وَرَأَى أَنَّهُ لَهُ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر وارث ہوئے ام المومنین حفصہ کے وہ اپنا گھر زید بن خطاب کی بیٹی کو زندگی پھر رہنے کر دے گئی تھیں جب وہ مر گئیں تو عبداللہ بن عمر نے اس گھر کو لے لیا اپنا سمجھ کر ۔
حدیث 1446 — موطأ مالك 36:48
صحیح
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلاَّ فَشَأْنَكَ بِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ هِيَ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَضَالَّةُ الإِبِلِ قَالَ ‏"‏ مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا ‏"‏ ‏.‏
زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہ کو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہچان رکھ طرف اس کا لقطہ ہو خواہ چمڑے میں ہو یا کپڑے میں ہو پاور پہچان رکھ بندھن اس کا پھر ایک برس تک لوگوں سے اس کا حال کہا کر اگر اس کا مالک مل جائے تو اس کے دے دے نہیں تو لے لے پھر اس نے کہا گر کوئی بکری بہکی بھٹکی مل جائے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بکری تیرے کام میں آئے گی یا تیرے بھائی کے نہیں تو بھیڑیا کھا جائے گا پھر اس شخص نے کہا اگر اونٹ بھولا ملے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اونٹ سے تجھے کیا کام وہ تو اپنے ساتھ اپنا پانی رکھتا ہے اور موزے رکھتا ہے جہاں اس کو پانی مل جاتا ہے پی لیتا ہے جو درخت ملتا ہے کھالیتا ہے یہاں تک کہ مالک اس کا اس کو پا لیاتا ہے
حدیث 1447 — موطأ مالك 36:49
Mauquf Hasan
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، نَزَلَ مَنْزِلَ قَوْمٍ بِطَرِيقِ الشَّامِ فَوَجَدَ صُرَّةً فِيهَا ثَمَانُونَ دِينَارًا فَذَكَرَهَا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ عَرِّفْهَا عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ وَاذْكُرْهَا لِكُلِّ مَنْ يَأْتِي مِنَ الشَّأْمِ سَنَةً فَإِذَا مَضَتِ السَّنَةُ فَشَأْنَكَ بِهَا ‏.‏
معاویہ بن عبد اللہ بن بدر الجہنی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے ان کے باپ نے بیان کیا کہ انہوں نے شام کے راستہ میں ایک منزل میں جہاں لوگ اتر چکے تھے ایک تھیلی پائی جس میں اسی دینار تھے انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کیا آپ نے کہا مسجدوں کے دروازوں پر لوگوں سے کہا کر اور جو شخص شام سے آئے اس سے بیان کیا کر ایک برس تک جب ایک برس گزر جائے پھر تجھ کو اختیار ہے ۔
حدیث 1448 — موطأ مالك 36:50
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلاً، وَجَدَ لُقَطَةً فَجَاءَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ لَهُ إِنِّي وَجَدْتُ لُقَطَةً فَمَاذَا تَرَى فِيهَا فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَرِّفْهَا ‏.‏ قَالَ قَدْ فَعَلْتُ ‏.‏ قَالَ زِدْ ‏.‏ قَالَ قَدْ فَعَلْتُ ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لاَ آمُرُكَ أَنْ تَأْكُلَهَا وَلَوْ شِئْتَ لَمْ تَأْخُذْهَا ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ ایک شخص نے لقطہ پایا اس کو عبداللہ بن عمر کے پاس لے آیا اور پوچھا کیا کہتے ہو اس باب میں عبداللہ بن عمر نے کہا لوگوں سے پوچھا اور بتا اس نے کہا میں پوچھ اور بتا چکا عبداللہ بن عمر نے کہا اور سہی اس نے کہا میں پوچھ بتا چکا ہوں عبداللہ نے کہا میں کبھی تجھ کو حکم نہ کروں گا اس کے کھانے کا اگر تو چاہتا تو اس کو نہ لیتا ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔