وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، نَادَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَرَى فِي الضَّبِّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَسْتُ بِآكِلِهِ وَلاَ بِمُحَرِّمِهِ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پکار کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ گوہ کے گوشت کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہ میں اس کو کھاتا ہوں نہ حرام کہتا ہوں ۔
حدیث 1774 — موطأ مالك 54:12
صحیح
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ سُفْيَانَ بْنَ أَبِي زُهَيْرٍ، وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُحَدِّثُ نَاسًا مَعَهُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لاَ يُغْنِي عَنْهُ زَرْعًا وَلاَ ضَرْعًا نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ " . قَالَ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِي وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ .
سفیان بن زہیر سے روایت ہے کہ وہ لوگوں سے حدیث بیان کر رہے تھے مسجد نبوی کے دروازے پر انہوں نے کہا میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے جو شخص کتا پالے نہ کھیت کی حفاظت کے واسطے نہ بکریوں کی حفاظت کے واسطے تو ہر روز اس کے اعمال میں ایک قیراط کے برابر کمی ونقصان ہوا کرے گا، سائب نے سفیان سے کہا تم نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں قسم ہے اس مسجد کے پروردگار کی ۔
حدیث 1775 — موطأ مالك 54:13
صحیح
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلاَّ كَلْبًا ضَارِيًا أَوْ كَلْبَ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو کتا پالے سوائے شکاری کتے کے یا کھیت کے کتے کے تو ہر روز اس کے عمل میں سے دو قیراط کے برابر کمی ونقصان ہوگا ۔
حدیث 1776 — موطأ مالك 54:14
صحیح
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم کیا کتوں کے قتل کا ۔
حدیث 1777 — موطأ مالك 54:15
صحیح
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رَأْسُ الْكُفْرِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلاَءُ فِي أَهْلِ الْخَيْلِ وَالإِبِلِ وَالْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بڑا کفر مشرق کی طرف ہے اور فخر اور تکبر گھوڑوں اور اونٹ والوں میں ہے جو بلند آواز رکھتے ہیں جنگل میں رہتے ہیں اور عاجزی اور تواضع بکری والوں میں ہے ۔
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ قریب ہے کہ بہترین مال مسلمان کا چند بکریاں ہوں گی جن کو لے کر کسی پہاڑ کی چوٹی پر چلا جائے گا یا کسی وادی کے اندر بھاگے گا فتنوں سے اپنا دین بچانے کو ۔
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نہ دوہے کوئی کسی کے جانور کو بلا اس کی اجازت کے بھلا کوئی تم میں یہ چاہتا ہے کہ کوئی اس کے خزانہ کی کوٹھڑی میں آ کے اس کو توڑ کے اس کے کھانے کا غلہ نکال لے جائے سو ان کے جانور کے تھن تو ان کے کھانے کی دودھ کو حفاظت میں رکھتے ہیں یعنی تھن کوٹھڑی کی طرح حفاظت کے واسطے ہیں سو ہرگز نہ دوہے کوئی کسی کے جانور کو بدون اس کی اجازت کے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں لوگوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نے بھی؟ فرمایا کہ میں نے بھی ۔
حدیث 1780 — موطأ مالك 54:18
صحیح
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا مِنْ نَبِيِّ إِلاَّ قَدْ رَعَى غَنَمًا " . قِيلَ وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " وَأَنَا " .
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا مِنْ نَبِيِّ إِلاَّ قَدْ رَعَى غَنَمًا " . قِيلَ وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " وَأَنَا " .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے شام کا کھانا پیش کیا جاتا تو وہ امام کی قرأت سنا کرتے اپنے گھر میں اور کھانے میں جلدی نہ کرتے جب تک اچھے طور سے نہ کھا لیتے ۔
حدیث 1782 — موطأ مالك 54:20
صحیح
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنِ الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ فَقَالَ " انْزِعُوهَا وَمَا حَوْلَهَا فَاطْرَحُوهُ " .
حضرت ام المومنین میمونہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال ہوا کہ اگر چوہا گھی میں گر پڑے تو کیا کرنا چاہئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو نکال ڈالو اور اس کے آس پاس کا گھی پھینک دو ۔